کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قریب الموت کو دکھائے جانے والے مناظر اور جسم سے جدا ہونے کے بعد روح کا ٹھکانہ
حدیث نمبر: 3027
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي حَمِيدَةً وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، قَالَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُونَ مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، قَالَ فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ، فَلَا يَزَالُ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ، فَيُقَالُ لَهُ مِثْلُ مَا فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں، اگر وہ نیک آدمی ہو تو وہ کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! جو پاکیزہ جسم میں تھی، باہرآ جا، آ جا، تو قابل تعریف ہے، تجھے راحت اور خوشبووں کی بشارت ہو، تیرا ربّ تجھ پر ناراض نہیں ہے۔وہ یہ باتیں بار بار کہتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ روح باہر آ جاتی ہے۔ پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے، آگے سے پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں:یہ فلاں ہے، آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: پاکیزہ روح کو مرحبا، جو ایک پاکیزہ جسم میں تھی، (اے روح!) تو قابل تعریف ہے، آ جا اور تجھے راحتوں اور خوشبوؤں اور ایسے ربّ کی بشارت ہو جو ناراض نہیں ہے۔ اسے ہر آسمان پر اسی طرح کہا جاتا ہے، حتی کہ اسے اس آسمان تک لے جاتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ ہے اور اگر مرنے والا آدمی برا (گنہگار) ہو تا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: باہر نکل اے خبیث روح! جو ایک خبیث جسم میں تھی، نکل،تو قابل مذمت ہے، تجھے کھولتے ہوئے پانی، پیپ اور اس جیسی دوسری چیزوں کی بشارت ہو، بار بار یہ باتیں کہی جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ باہر آ جاتی ہے۔ فرشتے اسے آسمان کی طرف لے کر جاتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے ،پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں:یہ فلاں ہے۔ آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: خبیث روح، جو خبیث جسم میں تھی، اسے کوئی مرحبا نہیں ہے، (اے روح!) تو قابل مذمت ہے، واپس لوٹ جا، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ اسے آسمان سے نیچے گرا دیا جاتا ہے اور وہ قبر میں جا پہنچتی ہے۔ نیک آدمی کو بٹھا کر اس سے وہ باتیں کی جاتی ہیں جو پہلی حدیث میں بیان ہو چکی ہیں اور گنہگار کو بٹھا کر اس سے بھی وہ باتیں کی جاتی ہیں جو پہلی حدیث میں بیان ہو چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3027
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن ماجه: 4262، 4268، وأخرج بنحوه مختصرا مسلم: 2872 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8754»
حدیث نمبر: 3028
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَكَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِنَا الطَّيْرَ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ)) مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وَجُوهَهُمْ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ، قَالَ: فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ، وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، قَالَ: فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الثِّيَابِ طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَنْ أَنْتَ، فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ، فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي، وَقَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ، إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ مَعَهُمْ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ، قَالَ: فَتَفَرَّقَتْ فِي جَسَدِهِ، فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ، فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلْجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ}، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ}، فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ، هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ، هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ، هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسُمُومِهَا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى يَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ، فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا: عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل۔ اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔ جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر کے جنت والے کفن اور خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں، اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب عِلِّیِّیْنَ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا ، وہ کون ہے؟وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ باتیں تمہیں کیسے معلوم ہوئیں؟وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی، اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا۔وہ قبر والا پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ وہ جواباً کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ، وہ اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر کو جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَاِؑ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} (سورۂ اعراف:۴۰) یعنی: اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے۔اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔}(سورۂ حج:۳۱) یعنی: اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔ اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔ آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، پس وہاں سے اس کی طرف جہنم کی حرار ت اور بدبو آنے لگتی ہے۔ اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے: تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے، یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا۔وہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ وہ قبر والا کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔
وضاحت:
سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔ اللہ تعالٰ فرماتا ہے: میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب ’’عِلِّیِّیْنَ‘‘ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جائو، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹائوں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟وہ جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں: یہ باتیں تمہیں کیسے معلوم ہوئیں؟وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی، اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا۔وہ قبر والا پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ وہ جواباً کہتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔ وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ، وہ اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے، فرشتے اسے لے کر اوپر کو جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے، یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَائِ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔} (سورۂ اعراف:۴۰) یعنی: ’’اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ ’’سِجِّیْنٍ‘‘ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے۔اس موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔}(سورۂ حج:۳۱) یعنی: ’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔‘‘ اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا۔وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا۔ آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: یہ جھوٹا ہے، اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، پس وہاں سے اس کی طرف جہنم کی حرار ت اور بدبو آنے لگتی ہے۔ اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں۔ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آ کر کہتا ہے: تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے، یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا۔وہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں۔ وہ قبر والا کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3028
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3212، 4753، وأخرجه النسائي: 4/ 78، وابن ماجه: 1549 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18733»
حدیث نمبر: 3029
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا: رَبِّ عَبْدُكَ فُلَانٌ، فَيَقُولُ: ارْجِعُوهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُّ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، قَالَ: فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ فَيَأْتِيهِ آتٍ، فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ، مَا دِينُكَ، مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْتَهِرُهُ، فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ، مَا دِينُكَ، مَنْ نَبِيُّكَ؟ وَهِيَ آخِرُ فِتْنَةٍ تُعْرَضُ عَلَى الْمُؤْمِنِ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ}، فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ، ثُمَّ يَأْتِيهِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْهِ طَيِّبُ الرِّيحِ حَسَنُ الثِّيَابِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِكَرَامَةٍ مِنَ اللَّهِ وَنَعِيمٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ، مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، كُنْتَ وَاللَّهِ سَرِيعًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ بَطِيئًا عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ وَبَابٌ مِنَ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلُكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ هَذَا، فَإِذَا رَأَى مَا فِي الْجَنَّةِ قَالَ: رَبِّ عَجِّلْ قِيَامَ السَّاعَةِ كَيْمَا أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي، فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَتْ عَلَيْهِ مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ فَانْتَزَعُوا رُوحَهُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ الْكَثِيرُ الشَّعْبِ مِنَ الصُّوفِ الْمُبْتَلِّ، وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ مَعَ الْعُرُوقِ فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَعْرُجَ رُوحُهُ مِنْ قَبَلِهِمْ فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا: رَبِّ! فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ عَبْدُكَ، قَالَ: ارْجِعُوهُ، فَإِنِّي عَهِدْتُّ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، قَالَ: فَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَوْتَ، وَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنَ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ، فَيَقُولُ: وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ سَرِيعًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ فِي يَدِهِ مِرْزَبَةٌ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً حَتَّى يَصِيرَ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ))، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ وَيُمَهَّدُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)اس میں ہے:جب نیک آدمی کی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان کے درمیان والا اور آسمان کا ہر فرشتہ اس کے لیے رحمت کی دعاء کرتا ہے اور آسمان کے ہر دروازے والے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں کہ اس نیک بندے کی روح ان کے دروازے کے راستے سے اوپر کو جائے۔ جب اس کی روح کو اوپر لے جایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں، اے رب! یہ تیرا فلاں بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسے واپس لے جاؤ، میرا ان سے وعدہ ہے کہ میں نے انہیں زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹاؤں گا اور دوسری مرتبہ ان کو اسی سے نکالوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ (میت) واپس جانیوالے لوگوں کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے، اتنے میں فرشتہ اس کے پاس آ جاتا ہے اور پوچھتا ہے: تیرا رب کون ہے؟تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ نیک آدمی جواب دیتا ہے:میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ یہ جواب سن کر فرشتہ اسے جھڑکتا ہے اور پھر پوچھتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ (حقیقت میں) یہ مومن کی آزمائش اور امتحان کا آخری موقعہ ہوتاہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمُنْوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ۔} (سورۂ ابراہیم: ۲۷) یعنی: اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں صحیح بات پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ (دوبارہ) جواب میں کہتا ہے:میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اس دفعہ فرشتہ کہتا ہے کہ تمہارے جواب درست ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک حسین و جمیل، عمدہ خوشبو والا اور خوش لباس آدمی آ کر کہتا ہے: تم کو اللہ کی طرف سے اکرام اور ہمیشہ کی نعمتوں کی بشارت ہو۔ یہ کہتا ہے: تجھے بھی اللہ اچھی بشارتیں دے، تم کون ہو؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا ہی نیک عمل ہوں، اللہ کی قسم! تو اللہ کی اطاعت کرنے میں تیز اور گناہ کرنے میں سست ہوتا تھا، اللہ تجھے اچھا بدلہ دے۔پھر اس کے لیے جنت اور جہنم دونوں طرف سے ایک ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: اگر تم اللہ کی نافرمانی کرتے تو تمہارا (جہنم والا) یہ ٹھکانہ ہوتا۔ اب اللہ نے تیرے لیے اس کے عوض یہ (جنت والی) جگہ تیار کی ہے۔ پھر جب وہ جنت کے مناظر اور نعمتیں دیکھتا ہے تو کہتا ہے:اے میرے رب! قیامت جلدی بپا کر تاکہ میں اپنے اہل اور مال میں لوٹ سکوں۔ لیکن اسے کہا جائے گا: تم یہاں سکون کرو۔ رہا مسئلہ کافر کا تو جب وہ دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس تند مزاج اور سخت طبیعت فرشتے آ کر اس کی روح کو یوں کھینچتے ہیں جیسے زیادہ شاخوں والی سلاخ کو گیلی اون میں سے کھینچا جاتا ہے اور اس کی روح رگوں سمیت نکال لی جاتی ہے۔زمین و آسمان کے درمیان والا اور آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت کرتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور ہر دروازے کے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح ان کے دروازے سے نہ گزرنے پائے۔ جب اس کی روح کو اوپر لے جایا جاتا ہے تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے رب! یہ تیرا فلاں بن فلاں بندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اسے واپس لے جاؤ۔ میرا ان سے وعدہ ہے کہ میں نے انہیں زمین سے پیدا کیا، اسی میں ان کو لوٹاؤں گا اور دوبارہ میں انہیں وہیں سے نکا لوں گا، وہ واپس جانے والے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سن رہا ہوتا ہے، اتنے میں فرشتہ اس کے پاس آ جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ وہ جواباً کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ فرشتہ کہتا ہے: تونے نہ سمجھا اور نہ اللہ کی کتاب کو پڑھا۔ اس کے بعد اس کے پاس ایک انتہائی بدصورت اور گندے لباس ولا بدبودار آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تجھے اللہ کی طرف سے ذلت و رسوائی اور دائمی عذاب کی بشارت ہو۔ وہ کہتا ہے:تجھے بھی برائی کی بشارت ہو، تو کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میں تیرا برا عمل ہوں، تو اللہ کی اطاعت کرنے میں سست اور گناہ کرنے میں تیز تھا۔ اللہ تجھے برا بدلہ دے۔ پھر اس پر ایک اندھا، بہرا اور گونگا فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایسا گرز ہوتا ہے کہ اگر وہ پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے۔فرشتہ زور سے اسے یہ گرز مارتا ہے، وہ آدمی مٹی ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ ٹھیک کر دیتا ہے۔ وہ پھر اسے مارتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چیختا چلاتا ہے، اور اس کی چیخ و پکار کو جن و انس کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔ سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مومن کے صحیح جواب پر اسے جھڑکنا، یہ ایک امتحان ہے، جس میں اسے پرکھا جا رہا ہے کہ وہ اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہتا ہے یا نہیں، اگر وہ دوسری دفعہ بھی اس کا جواب درست ہوتا ہے تو اس کا شرف ثابت ہو جاتا ہے اور وہ کرامت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ حدیث کے بقیہ سارے امور واضح ہیں، لیکن ان کا تعلق عالَمِ غیب سے ہے، جن پر ہم صرف ایمان لا سکتے ہیں، ان کی کیفیت کو نہ معلوم کر سکتے ہیں اور نہ اس کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ اس آیت {وَمَنْ یُشْرِکَ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ، فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِی بِہِ الرَّیْحُ فِی مَکَانٍ سَحِیْقٍ۔} (سورۂ حج:۳۱) یعنی: ’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ مشرک گمراہی میں ہے اور ہدایت سے دور ہے۔ جب کافر کی روح کو آسمان سے عذاب اور بدبختی کی طرف پھینک دیا جاتا ہے تو گویا وہ اس آیت کا مصداق بن رہا ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ موت کے وقت کی سختیاں اور چیز ہے اور روح کا نکلنا اور چیز ہے، مومن موت کے شدائد میں تو مبتلا ہوتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے، لیکن روح کو آسانی کے ساتھ نکالا جاتا ہے، جبکہ فاسق و فاجر کی روح کے نکلنے کی جو مثال دی گئی، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی مشکل سے اس کی روح اس کے جسم سے جدا ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3029
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف يونس بن خباب ، وانظر صحيحه بالطريق الأول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18815»