کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے¤تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے¤نیز اچانک موت کا بیان
حدیث نمبر: 3023
عَنْ مَطَرِ بْنِ عُكَامِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَضَى اللَّهُ مَيْتَةَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مطر بن عکامس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی علاقے میں موت دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے کی طرف کوئی حاجت بنا دیتا ہے (اور وہ اس کے بہانے وہاں پہنچ جاتا ہے)۔
حدیث نمبر: 3024
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يُقَدَّرُ لِأَحَدٍ يَمُوتُ بِأَرْضِ إِلَّا حُبِّبَتْ إِلَيْهِ وَجُعِلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کے لیے کسی علاقے میں وفات کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اس کو اس آدمی کا پسندیدہ علاقہ بنا دیا جاتا ہے اور اسے اس کی طرف کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3025
عَنْ أَبِي عَزَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَرَادَ قَبْضَ رُوحِ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا أَوْقَاتًا بِهَا حَاجَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوعزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس علاقے میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَاکَانَ أَجَلُ أَحَدِکُمْ بِاَرْضٍ، أَثْبَتَ اللّٰہُ لَہٗ إِلَیْھَا حَاجَۃً، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصٰی أَثَرِہٖ تَوَفَّاہُ، فَتَقُوْلُ الْاَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: یَارَبِّ! ھٰذَا مَااسْتَوْدَعْتَنِيْ۔)) (ابن ماجہ: ۲/۵۶۶، الصحیحۃ: ۱۲۲۲) یعنی: ’’آدمی نے زمین کے جس (علاقے) میں مرنا ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اس علاقے تک پہنچنے کے لیے کسی حاجت (کا بہانہ) بنا دیتے ہیں۔ جب وہ آدمی اپنی (زندگی) کے آخری نشانات تک پہنچتا ہے تو اسے موت آجاتی ہے۔ قیامت کے دن زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ (وہ بندہ) ہے جو تو نے مجھے سونپا تھا۔‘‘ ہر کسی کی موت کے زمان و مکاںکا فیصلہ ہو چکا ہے، ہر کسی کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ بنتا ہے اور وہ اپنی جائے موت تک پہنچ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3026
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ: ((رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک موت کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مومن کے لیے تو راحت ہے، لیکن گنہگار کے لیے غضب کی پکڑ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ مومن ہر وقت موت کو یاد رکھتا ہے اور اس کے لیے مکمل تیار ہوتا ہے، جبکہ گنہگار اور بدکار اپنے گناہوں کی دلدل میں ابھی تک پھنسا ہوتا ہے اور ابھی تک اس نے توبہ کرنے کا سوچا ہی نہیں ہوتا کہ موت اسے دبوچ لیتی ہے۔