کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
حدیث نمبر: 3002
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے قریب الموت لوگوں کو لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ: لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَإِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَنَفْسُ الْکَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ شِدْقِہٖ کَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ۔)) (المعجم الکبیر للطبرانی: ۳/ ۷۷/ ۱، الصحیحۃ: ۲۱۵۱) یعنی: ’’قریب الموت لوگوںکو ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ کی تلقین کیا کرو، مؤمن کا نفس پسینے کے ٹپکنے کی طرح نکلتا ہے جبکہ کافر کا نفس گدھے کے سانس لینے کی طرح اس کی باچھوں سے نکلتا ہے۔‘‘
حدیث نمبر: 3003
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَغْبَرَّتَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَعَلَّكَ سَاءَكَ يَا طَلْحَةُ! إِمَّارَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَجْدَرُكُمْ أَنْ لَا أَفْعَلَ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ عِنْدَ حَضْرَةِ الْمَوْتِ إِلَّا وَجَدَ رُوحُهُ لَهَا رَوْحًا، حِينَ يَخْرُجُ مِنْ جَسَدِهِ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ))، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا، فَذَاكَ الَّذِي دَخَلَنِي، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَأَنَا أُعْلِمُهَا، قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَمَا هِيَ؟ قَالَ: هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)، قَالَ طَلْحَةُ: صَدَقْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے: کیا بات ہے کہ جس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا ہے آپ پراگندہ پراگندہ اور غبار آلود سے ہو کر رہتے ہیں۔ کہیں آپ کو اپنے چچیرے بھائی (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ) کا امیر بننا ناگوار تو نہیں گزرا؟ سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی پناہ!میں تو تم سے بھی زیادہ لائق ہوں کہ اس طرح نہ کروں، (مجھے یہ بات کیوں ناگوار گزرے)۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں، جوشخص وفات کے وقت اسے پڑھ لیتا ہے تو اس کی روح جسم سے نکلتے ہی رحمت و راحت پا لیتی ہے، نیز وہ کلمہ اس کے لیے قیامت کے دن نور کا باعث ہو گا۔ مگر افسوس کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کلمہ کے متعلق نہ پوچھ سکا کہ وہ کونسا ہے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں بیان کیا۔اس چیز نے مجھے غمزدہ کر رکھا ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ کلمہ جانتا ہوں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کا شکر، وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا (ابوطالب) پر پیش کیا تھا، یعنی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ انھوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 3004
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أُخْبِرُكَ بِهَا، هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي أَرَادَ بِهَا عَمَّهُ شَهَادَةُ (أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)، قَالَ: فَكَأَنَّمَا كُشِفَ عَنِّي غِطَاءٌ، قَالَ: صَدَقْتَ، لَوْ عَلِمَ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْهَا لَأَمَرَهُ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
( دوسری سند) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو وہ کلمہ بتاتا ہوں، یہ وہ کلمہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے بھی کہلوانا چاہا تھا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ سن کر سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: گویا مجھ سے پردہ چھٹ گیا۔ آپ درست کہہ رہے ہیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کوئی اور کلمہ اس سے افضل ہوتا تو اس کے پڑھنے کا حکم فرماتے۔
حدیث نمبر: 3005
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَآهُ (يَعْنِي رَأَى طَلْحَةَ) كَئِيبًا، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ! لَعَلَّكَ سَاءَكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: لَا، وَأَثْنَى عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَٰكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ وَأَشْرَقَ لَوْنُهُ))، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیّدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے غمگین دیکھ کر پوچھا: ابو محمد! کیا بات ہے؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت ناگوار گزری ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر انھوں نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور کہا کہ میری پریشانی کا سبب یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی فوت ہوتے وقت وہ کلمہ پڑھ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دیتا ہے اور اس کا رنگ نکھر آتا ہے، … ۔ الحدیث۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابو بکر صدیق اور سیّدنا طلحہ dکا نسب ان کی تیسری پشت عمرو بن کعب میں مل جاتا تھا، اس لیے وہ ایک دوسری کے چچازاد بھائی لگتے تھے۔ سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی پریشانی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام آخرت کے معاملے میں کتنے فکر مند رہتے تھے۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث بھی قابل توجہ ہے۔سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَکْثِرُوْا مِنْ شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قَبْلَ أَن یُّحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھَا وَلَقِّنُوْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) (مسندأبو یعلی: ۱۱/۸/۶۱۴۷، الکامل لابن عدی: ۲۰۴/ ۲، والحدیث فی صحیح مسلم و غیرہ بلفظ: ((ولقنوا موتاکم لا الہ الا اللہ۔)) یعنی: ’’اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاٹ حائل ہو جائے اور قریب الموت لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔‘‘
حدیث نمبر: 3006
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ فِي مَرَضِهِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کثیر بن مرہ کہتے ہیں: سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مرض الموت کے دوران ہم سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات سنی تھی، جسے میں اب تک تم سے چھپاتا رہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس آدمی کا آخری کلام لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہوگا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 3007
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ (وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ) فَقَالَ: ((يَا خَالُ! قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))، فَقَالَ: أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ فَقَالَ: ((لَا بَلْ خَالٌ))، قَالَ: فَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصار یا بنو نجار کے ایک آدمی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ماموں جان! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے کہا: ماموں یا چچا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چچا نہیں، بلکہ ماموں۔ اس نے پوچھا: کیا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھنا میرے حق میں بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ماموں کہا تھا کیونکہ اس کا تعلق بنو نجار سے تھے اور بنونجار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کے ماموں تھے۔
حدیث نمبر: 3008
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ، فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا فُلَانُ! قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَسَكَتَ أَبُوهُ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا قَاسِمٍ، فَقَالَ الْغُلَامُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ((الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنَ النَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے اٹھا کر لا دیتا تھا، وہ بیمار پڑ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جبکہ اس کاوالد اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے سے فرمایا: اے فلاں! کہو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور اس کا والد خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات دوہرائی۔اس نے پھر اپنے والد کی طرف دیکھا، اس دفعہ اس کے والد نے کہا: ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات مان لو۔ یہ سن کر بچے نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نکلے تو فرما رہے تھے: اللہ کا شکر ہے، جس نے اسے میرے سبب سے جہنم سے بچا لیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی لڑکے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 3009
عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمر زاذان کہتے ہیں: مجھ سے ایک ایسے آدمی نے بیان کیا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس آدمی کو اس کی وفات کے وقت لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 3010
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: ((الْحَمْدُ لِلَّهِ، الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ، تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک (نواسی) بیٹی کے پاس تشریف لے گئے، اس کی روح نکل رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے اوپر جھک گئے اور اس کی روح قبض ہونے تک اپنا سر اوپر نہ اٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اوپر اٹھایا اور فرمایا: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، مومن بھلائی میں ہی ہوتا ہے۔ اس کے پہلوؤں سے اس کی روح قبض کی جا رہی ہوتی ہے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نواسی کون تھی؟ اس کی وضاحت ’’ابواب البکائ‘‘ کے باب ’’نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان‘‘ میں آئے گی۔
حدیث نمبر: 3011
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ (الْأَسْلَمِي) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِخُرَاسَانَ فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَجَدَهُ بِالْمَوْتِ، وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبِينُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ خراسان میں تھے، وہاں وہ اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے گئے، جبکہ وہ فوت ہونے والا تھا اور اس کی پیشانی پسینہ آلود تھی، یہ دیکھ کر انھوں نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کی موت اس کی پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 3012
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ فوت ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موقع پر پسینہ آنے کی درج ذیل تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:
حدیث نمبر: 3013
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ، قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ فَشَقَّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ، قَالَ: فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ، أَذَنَّاهُ بِهِ فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ، انْتَظَرَ شُهُودَهُ وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ، قَالَ: فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ، قَالَ: فَقُلْنَا ذَلِكَ فَكَانَ الْأَمْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو ہم میں سے جب کسی آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی وفات سے پہلے ہی تشریف لے آتے اور اس کے پاس ٹھہرے رہتے، اس کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے اور اس کی وفات کا انتظار کرتے، بسا اوقات اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافی دیر ہو جاتی اور یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق گزرتا۔ اس کے بعد ہم نے سوچا کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات سے پہلے اطلاع نہ کیا کریں۔ پس بعد ازاں ایسے ہوتا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دیتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے اہل و عیال کے ہاں تشریف لا کر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے اور نماز جنازہ پڑھاتے، اس کے بعد اگر مناسب سمجھتے تو دفن تک ٹھہر جاتے اور مناسب سمجھتے تو پہلے ہی تشریف لے جاتے۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک عرصہ تک یہی طریقہ جاری رہی، اس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے آسانی اس میں ہے کہ ہم میت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر اٹھا کر لے جایا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر سے نہ نکالا کریں اور (اہل میت کے گھر آنے کی) تکلیف نہ دیا کریں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حقائق ہمیں بھی سمجھنے چاہئیں کہ آج کل بعض اہل علم کے بارے میں عوام کی عقیدت زیادہ ہوتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں دم کروانے کے لیے ان کو ترجیح دیتے ہیں، نمازِ جنازہ کے لیے ان ہی کا انتخاب کرتے ہیں اور نکاح اور دوسری دعوتوں میں بھی ان کی شرکت کو ضروری سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ ایک علاقے میں اس قسم کا عالم ایک ہی ہوتا ہے، اب وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، کس کو چھوڑے اور کس کو نہ چھوڑے، جبکہ اس نے زندگی بھی گزارنی ہے اور اپنے بیوی بچوں کا نظام بھی چلانا ہے، اس لیے اگر بعض اوقات ایسے لوگ ہماری خواہش کی تکمیل نہ کر سکیں تو ان کے بارے میں نرم رویہ ہونا چاہیے اور ان کے خلاف زبان کھولنے سے محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی معاملہ رات کو خطاب کرنے والے اہل علم اور خطباء کا ہے کہ عوام تقریر کے لیے وقت لیتے اتنا اصرار کرتے ہیں کہ چاروناچار ہاں میں ہاں ملانا پڑتی ہے، لیکن بعد میں ایسی مجبوریاں کھڑی ہو جاتی ہیں کہ وہ پہنچ نہیں پاتے، ایسی صورت میں دیکھا یہ گیا ہے کہ عوام آگ بگولا ہو کر اس خطیب کی مخالفت میں برس پڑتے ہیں، بلکہ بسا اوقات اس پر کیس بھی کر دیتے ہیں اوراپنی کانفرنس کے خرچے کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ روحِ اسلام سے دور ہیں اور اس سے غافل ہیں کہ اِن اہل علم کا ان پر کیا حق ہے اور ان کا ان کے بارے میں کیا رویّہ ہونا چاہیے۔