کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: موت کو یاد رکھنے، اس کے لیے تیار رہنے اور اہل ایمان کو اس سلسلے میں ترغیب دلانا
حدیث نمبر: 2971
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَصُرَ بِجَمَاعَةٍ، فَقَالَ: ((عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ؟)) قِيلَ: عَلَى قَبْرٍ يَحْفِرُونَهُ، قَالَ: فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ مُسْرِعًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْقَبْرِ فَجَثَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى مِنْ دُمُوعِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا قَالَ: ((أَيُّ إِخْوَانِي لِمِثْلِ الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جگہ لوگوں کو جمع دیکھا اور پوچھا: یہ لوگ کیوں اور کس چیز پر جمع ہیں؟ کسی نے کہا: یہ ایک قبر پر جمع ہیں، اسے کھود رہے ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو گئے اور اپنے صحابہ کے آگے آگے جلدی جلدی لپکے اور قبر کے پاس کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، میں آپ کے سامنے آیا تاکہ دیکھ سکوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسوئوں سے زمین تر ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرے بھائیو! اس دن کے لیے تیاری کرو۔
وضاحت:
فوائد: … اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ موت کو ہر وقت یاد رکھیں اور اس سے غافل نہ ہوں، لیکن مسلمانوں کی بھاری تعداد موت اور موت کے بعد والے مراحل سے عملی طور پر غافل نظر آتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2971
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك الجوزجاني أخرجه ابن ماجه: 4195 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18802»
حدیث نمبر: 2972
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ عَرَفْتُ فِيهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى رَأَيْتُ شَيْخًا أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يَتْبَعُ جَنَازَةً فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ، حَدَّثَنِي فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))، قَالَ: فَأَكَبَّ الْقَوْمُ يَبْكُونَ، فَقَالَ: ((مَا يُبْكِيكُمْ؟)) فَقَالُوا: إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ: ((لَيْسَ ذَلِكَ وَلَٰكِنَّهُ إِذَا حُضِرَ، {فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ، فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ} فَإِذَا بُشِّرَ بِذَلِكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلِقَاءِهِ أَحَبُّ، {وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ، فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ} قَالَ عَطَاءٌ (يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ) وَفِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ: {ثُمَّ تَصْلِيَةُ جَحِيمٍ} فَإِذَا بُشِّرَ بِذَلِكَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلقَاءِهِ أَكْرَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عطاء بن سائب کہتے ہیں: پہلا دن، جس میں عبدالرحمن بن ابی لیلی سے میری معرفت ہوئی، اس میں یوں ہوا کہ میں نے گدھے پر سوار ایک بزرگ دیکھا، اس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے اور وہ ایک جنازے کے پیچھے چل رہا تھا اور یہ بیان کر رہا تھا: مجھے فلاں بن فلاں صحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ یہ سن کر لوگ رونے لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم روتے کیوں ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں (اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات اس طرح نہیں ہے، جب کسی کی موت قریب آجاتی ہے تو اگر وہ اللہ تعالیٰ کے مقرّب بندوں میں سے ہوتا ہے تو اس کے لیے راحت، خوشبو اور نعمتوں والا باغ ہوتا ہے، اس لیے جب اسے ان چیزوں کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو زیادہ چاہنے والا ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوتا ہے تو اس کی میزبانی کھولتا ہوا پانی ہوتا ہے اور پھر بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہونا ہوتا ہے، اس لیے جب اسے ان چیزوں کی بشارت سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو بہت ناپسند کرنے والا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک ہی مفہوم ہے کہ اعمالِ صالحہ کا ایسا سلسلہ جاری رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے عالَم نزع میں استقامت نصیب ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کی چاہت بڑھ جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2972
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:18283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18472»
حدیث نمبر: 2973
عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ: بَيْنَمَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: لَئِنْ كَانَ مَا ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَقًّا لَقَدْ هَلَكْنَا، فَقَالَتْ: إِنَّمَا الْهَالِكُ مَنْ هَلَكَ فِيمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))، قَالَتْ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ، فَهَلْ تَدْرِي لِمَ ذَلِكَ؟ إِذَا حَشَرَجَ الصَّدْرُ وَطَمَحَ الْبَصَرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ، وَتَشَنَّجَتِ الْأَصَابِعُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللَّهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں مدینہ کی مسجد میں تھا، سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ میں یہ حدیث سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلا گیا اور کہا: اگر بات اسی طرح ہو جیسے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جو ہلاک ہوا، وہ تو واقعی ہلاک ہونے والا ہے، بھلا بات ہے کون سی؟ میں نے کہا: سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں بھی گواہی دیتی ہوں کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔ بھلا کیا تم جانتے ہو ایسا کیوں ہو گا؟ جب سینے سے سانس کے گھٹنے کی آواز آنے لگے گی، نظر کھلی رہ جائے گی، رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور انگلیاں اکڑ جائیں گی، اس موقعہ پر جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات پسند کرتاہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جواب کا مقصد یہ ہے کہ اس حدیث کا مصداق عالَم نزع میں مبتلا شخص ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2973
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2685، وأخرج المرفوع منه البخاري: 7504 وجعله حديثا قدسيا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8556، 9410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8537»
حدیث نمبر: 2974
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا أَحَبَّ الْعَبْدُ لِقَائِي أَجْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَإِذَا كَرِهَ الْعَبْدُ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ))، قَالَ: فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَيَفْظَعُ بِهِ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّهُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُشِفَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عز وجل کا ارشاد ہے: جب بندہ میری ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہوں، اور جب بندہ میری ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ۔کسی نے سیدہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جب موت کا وقت قریب آ جاتا ہے اور ہر ایک کے انجام کے حقائق اس کے سامنے آ جاتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی پسند یا ناپسند کا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے، خوش بخت لوگ پسند کرنے لگتے ہیں اور بد بخت کترانے لگ جاتے ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے) آمین
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2974
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 4 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9821»
حدیث نمبر: 2975
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ: ((لَيْسَ ذَٰكَ كَرَاهَةُ الْمَوْتِ، وَلَٰكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا صَائِرٌ إِلَيْهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْفَاجِرَ أَوَ الْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ بِمَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ وَمَا يَلْقَاهُ مِنَ الشَّرِّ، فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو چاہتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو ناپسند کرتاہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (جو تم سمجھ رہے ہو) یہ موت کو ناپسند کرنا نہیں ہے۔ بات یہ ہے جب مومن کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بشارت دینے والا فرشتہ آ کر اسے اس کے انجام سے مطلع کرتا ہے، اس وقت اسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات سب سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، تواللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرنے لگتا ہے، لیکن جب فاجر یا کافر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تواس کے پاس آنے والا اسے اس کے برے انجام پر مطلع کرتا ہے، سو وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2975
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه البزار: 780 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12070»
حدیث نمبر: 2976
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2976
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6507، ومسلم: 2683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23124»
حدیث نمبر: 2977
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَتْ: وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُسی طرح کی حادیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: اور موت کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات والے مسئلہ سے پہلے کا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان زائد الفاظ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے مراد موت نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھ رہے تھے۔ موت سے ڈرنا اور اس کو ناپسند کرنا اور بات ہے اور عالَم نزع میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرنا اور بات ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2977
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24674»
حدیث نمبر: 2978
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ))، قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَاءِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ يَا رَبَّنَا، فَيَقُولُ لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں یہ بتلا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہل ایمان سے سب سے پہلے کیا فرمائے گا اور وہ اس کو کیا کہیں گے؟ ہم نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومنوں سے کہے گا: کیا تم میری ملاقات پسند کرتے تھے؟ وہ کہے گے: جی ہاں، اے ہمارے ربّ! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیوں؟ وہ کہیں گے: ہم تیری معافی اور بخشش کی امید رکھتے تھے۔ پس وہ کہے گا: تمہارے لیے میری بخشش واجب ہو چکی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ہمیں چاہئے کہ مادیت پرستی، حبِّ دنیا، بے صبری اور دین میں عدم دلچسپی جیسے مصائب سے جان چھڑائیں اور اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق پیدا کر کے اس کے پاس جانے کا شوق پیدا کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 2978
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن زحر ضعيف، وأبو عياش المعافري لم يسمع من معاذ أخرجه الطيالسي: 564، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 251 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22422»