الفتح الربانی
حدیث نمبر: 2874
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ قَالَتْ: فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَطَأْطَأَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ حَتَّى شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: حبشی لوگ عید کے دن (مسجد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھیلا کرتے تھے، ایک دن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے اپنے کندھے جھکا دیئے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی، حتی کہ میں سیر ہو گئی اور چلی گئی۔
حدیث نمبر: 2875
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ فَقَالَ: ((دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرِ! فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ))، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَسْأَمُ فَأَقْعُدُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، جبکہ دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ مِنٰی والے دن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لپیٹا ہوا تھا، سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے چادر کو ہٹایا اور فرمایا: ابو بکر! ان کو چھوڑ دو، یہ عید کے دن ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی چادر کے ذریعے میرا پردہ کرتے اور میں مسجد میں کھیلنے والے حبشیوں کو دیکھتی رہتی، حتی کہ میں ہی اکتا کر بیٹھ جاتی۔ تم لوگوں کو کم سن اور حریص لڑکی کی قدرت ومنزلت کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 2876
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرِ! إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدَنَا هَٰذَا الْيَوْمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میرے پاس تھے اور دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، یہ عید الفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، پس انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ہمیں چھوڑ دو، بے شک ہر قوم کے لیے عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
حدیث نمبر: 2877
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَعِنْدَنَا جَارِيَتَانِ تَذْكُرَانِ يَوْمَ بُعَاثَ، يَوْمٌ قُتِلَ فِيهِ صَنَادِيدُ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عِبَادَ اللَّهِ أَمُزْمُورُ الشَّيْطَانِ؟ عِبَادَ اللَّهِ أَمُزْمُورُ الشَّيْطَانِ؟ عِبَادَ اللَّهِ أَمُزْمُورُ الشَّيْطَانِ؟ قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا بَكْرِ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ الْيَوْمَ عِيدُنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتی ہیں: سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عید والے دن ہمارے پاس آئے، جبکہ ہمارے پاس دو بچیاں یومِ بُعَاث کاذکر کر رہی تھیں، اوس اور خزرج کے سردار اس دن قتل کیے گئے تھے۔ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے بندو! کیا شیطان کی بانسری؟اللہ کے بندو!کیا شیطان کی بانسری؟ اللہ کے بندو! کیا (یہاں پر) شیطان کی بانسری۔تین مرتبہ یہ بات کہی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! بے شک ہر قوم کے لیے ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔
حدیث نمبر: 2878
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: كَانَ يَوْمٌ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَلْعَبُونَ فَدَخَلْتُ عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ عَلَى مَوْضِعِ فِرَاشِي هَٰذَا وَعِنْدِي جَارِيَةٌ تَنْدُبُ أَبَوَيَّ الَّذَيْنِ قُتِلَا يَوْمَ بَدْرٍ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: بِالدُّفُوفِ فَقَالَتَا فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَالَ: ((أَمَّا هَٰذَا فَلَا تَقُولَاهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوحسین کہتے ہیں: مدینے والوں کے لیے ایک دن ہوتا تھا، اس میں وہ کھیلتے تھے، میں سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر داخل ہوئے اور میرے اس بستر پر بیٹھ گئے، جبکہ میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجا کر بدر میں شہید ہونے والے ہمارے آباء کے اوصاف بیان کر رہی تھیں۔ اتنے میں وہ یہ بھی کہنے لگیں: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بات نہ کہو۔
حدیث نمبر: 2879
عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ، قَالَ جَابِرٌ هُوَ اللَّعْبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جو چیز بھی تھی، وہ میں نے دیکھ لی ہے، سوائے ایک چیزکے اور وہ یہ ہے کہ عید الفطر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دف بجا کر گایا جاتا تھا۔ جابر کہتے ہیں: اس سے مراد کھیلنا ہے۔