کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے¤اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
الفتح الربانی
حدیث نمبر: 2861
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ))، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سَفْلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاءَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ))، فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عید کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نمازسے آغاز کیا، تکمیلِ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو اپنی اطاعت کرنے پر رغبت دلائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا اور مزید وعظ و نصیحت کی، وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی اطاعت پر آمادہ کیا اور پھر فرمایا: صدقہ کیا کرو،پس بے شک تم میں سے اکثر خواتین جہنم کا ایندھن ہیں۔ نچلے درجے کی عورتوں میں سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکوہ بہت کرتی ہو، اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ اس کے بعد عورتیں شروع ہوئیں اور صدقہ کرنے کے لیے اپنے زیورات، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں پھینکنے لگیں۔
حدیث نمبر: 2862
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ))، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ اپنے زیورات میں سے ہو، کیونکہ تم میں سے اکثر آگ والیاں ہیں۔ ایک عورت، جو اشراف عورتوں میں سے نہیں تھی، کھڑی ہوئی اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن (اور گالی گلوچ) بہت کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔
حدیث نمبر: 2863
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ كَانَ يُصَلِّيها قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا … } فَتَلَى هَٰذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا: ((أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ؟)) فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ، قَالَ: ((فَتَصَدَّقْنَ))، قَالَ: فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْخَوَاتِيمَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید الفطر کے دن نماز میں حاضر ہوا ہوں، یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خطبۂ عید سے فارغ ہو کر) نیچے اترے اور گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس پہنچ گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا … } (اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی … ) پوری آیت کی تلاوت کی، جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم اسی (بیعت) پر پابند ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی، کوئی اور عورت نہیں بولی، حسن راوی نہیں جانتا کہ وہ کون تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ پس سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا بچھایا اور کہا: لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، سو وہ بڑی انگوٹھیاں اور چھوٹی انگوٹھیاں سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انھوں نے سب کچھ کپڑے میں اکٹھا کر لیا، پھر وہ چلے گئے۔
حدیث نمبر: 2864
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالِ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً، قَالَ: تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَاهَا وَيُلْقِينَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَتَخَتَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی، پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، جب اس سے فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آکر ان کو وعظ و نصیحت کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور وہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے اور عورتیں اس میں اپنا صدقہ ڈال رہی تھیں، اور بڑی بڑی انگوٹھیاں اور دوسرے زیورات صدقہ کر رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 2865
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْفِطْرِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالْأَضْحَى) فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ تَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَيَقُولُ: ((تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَتَصَدَّقُ مِنَ النَّاسِ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْبَعْثِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ انْصَرَفَ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ وَإِلَّا انْصَرَفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نکلتے،لوگوں کو عید کی دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، جبکہ لوگ بیٹھے ہوتے، پھر فرماتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔ لوگوں میں سب سے زیادہ عورتیں اپنی بالیوں، انگوٹھیوں اور دوسری چیزوں کی صورت میں صدقہ کرتیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اگر کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا ذکر کرتے، اور اگر ایسی کوئی صورت نہ ہوتی تو واپس پلٹ جاتے۔
حدیث نمبر: 2866
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَمْ يَكُ يُخْرَجُ بِهِ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مَنْ هَٰذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَٰذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيَفْعَلْ، وَقَالَ مَرَّةً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید والے دن (عید گاہ میں) منبر رکھوایا، جبکہ یہ اس سے پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی، جبکہ اس سے نہیں، بلکہ نماز سے ابتدا کی جاتی تھی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، تونے آج عید کے دن منبر نکالا ہے، جبکہ اسے نہیں نکالا جاتا تھا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ سے ابتدا کی ہے، حالانکہ خطبہ سے تو ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلان بن فلان ہے۔ پھر انھوں نے کہا؛ اس شخص نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو وہ اس کو روکے، اگر ہاتھ سے ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی قدرت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
حدیث نمبر: 2867
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمُصَلَّى يَوْمَ أَضْحَى فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِ يَوْمِكُمْ هَٰذَا الصَّلَاةُ))، قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَأُعْطِيَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَأَمَرَهُمْ وَنَهَاهُمْ وَقَالَ: ((مَنْ كَانَ مِنْكُمْ عَجَّلَ ذَبْحًا فَإِنَّمَا هِيَ جَزْرَةٌ أَطْعَمَهَا أَهْلَهُ، إِنَّمَا الذَّبْحُ بَعْدَ الصَّلَاةِ))، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: أَنَا عَجَّلْتُ ذَبْحَ شَاتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِيُصْنَعَ لَنَا طَعَامٌ نَجْتَمِعُ عَلَيْهِ إِذَا رَجَعْنَا، وَعِنْدِي جَذَعَةٌ مِنْ مَعْزٍ هِيَ أَوْفَى مِنَ الَّذِي ذَبَحْتُ أَفَتُغْنِي عَنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ))، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: {يَا بِلَالُ!} قَالَ: فَمَشَى وَاتَّبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَقَالَ: ((يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! تَصَدَّقْنَ، الصَّدَقَةُ خَيْرٌ لَكُنَّ))، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَكْثَرَ خَدَمَةً مَقْطُوعَةً وَقِلَادَةً وَقُرْطًا مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم عید الاضحی والے دن عید گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، لوگوں کو سلام کہا اورفرمایا: تمہار ے اس دن کی پہلی عبادت نماز ہے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے، دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کمان یا لاٹھی دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر ٹیک لگائی اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنابیان کرنے کے بعد لوگوں کو بعض امور کا حکم دیا اور بعض سے منع کیا اور پھر فرمایا: تم میں سے جس شخص نے جلدی کی اور قربانی (نماز سے پہلے) ذبح کر دی تو وہ تو محض گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو کھلایا ہے، قربانی نماز عید کے بعد ہوتی ہے۔ یہ سن کر میرے ماموں سیّدنا ابوبریدہ بن نیار رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی بکری کی قربانی جلدی کر بیٹھا ہوں، میرا مقصد تو یہ تھا کہ اتنے میں کھانا تیار ہو جائے گا اور ہم واپس آ کر اکٹھا کھانا کھائیں گے، اب میرے پاس بکر ی کا ایک سال کا (کھیرا) بچہ ہے، لیکن یہ میرے ذبح کیے ہوئے جانور سے موٹا ہے، کیا وہ مجھے کفایت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں،لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! پس سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ چل پڑے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے پیچھے ہو لیے، یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچ گئے اور (ان کو خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، صدقہ کرنا تمہار ے لیے بہتر ہے۔ (پھر عورتوں نے اتنا صدقہ کیا کہ) میں نے اس دن کی بہ نسبت کبھی بھی اتنے پازیب، ہار اور بالیاں نہیں دیکھی تھیں۔
حدیث نمبر: 2868
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ يُذَكِّرَانِ النَّاسَ، قَالَ: وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَٰذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ قَالَ: وَسَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے عبدالرحمن بن ازہر ابو عبید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ پہلے عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازیں پڑھاتے، ان سے فارغ ہو کرلوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے،وہ یہ بھی کہتے تھے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو دنوں کے روزے سے منع فرمایاہے۔ خود میں نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا گوشت تین دنوں سے زیادہ باقی رہے۔
حدیث نمبر: 2869
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُّهُ مَعَ عَلِيٍّ فَصَلَّى قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ تَأْكُلُوا نُسُكَكُمْ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوهَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) ابو عبید کہتے ہیں: پھر میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، انھوں نے اذان و اقامت کے بغیرخطبہ سے پہلے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور کہا: لوگو! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ تم قربانی کا گوشت تین دنوں کے بعد کھاؤ، لہٰذا اس مقدار کے بعد نہ کھایا کرو۔