کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا¤اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
الفتح الربانی
حدیث نمبر: 2842
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ فَتَكُونُ خُطْبَتُهُ الْأَمْرَ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِيَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن خطبہ سے پہلے نماز سے ابتداء کرتے تھے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ بھی لشکروں اور دستوں کو بھیجنے ہی کے متعلق ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 2843
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدمیں خطبہ سے پہلے نماز پڑھی ہے، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خیال ہوا کہ عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہیں سن سکیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، پس عورتوں نے اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دوسری چیزیں (سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں) ڈالنا شروع کر دیں۔
حدیث نمبر: 2844
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں، (بلکہ کئی بار) عیدین کی نماز پڑھی، وہ اذان و اقامت کے بغیر ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 2845
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اذان و اقامت کے بغیر عید الفطر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کی طرف چلے گئے اور ان کو خطاب کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چلے گئے اور سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس جائے اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دے۔
حدیث نمبر: 2846
عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ مَوْلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ يَقُولُ حِينَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! كُلُّ سُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے ابن زبیر وہب بن کیسان کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو عید والے دن (خطبہ میں) یہ کہتے ہوئے سنا، جبکہ انھوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھ لی تھی، :اے لوگو! یہ سب کچھ اللہ کی سنت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 2847
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَشْهَدْتَّ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْ لَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُّهُ لِصِغَرِي، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَ لَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن عابس کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ عید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور اگر میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں کم سنی کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتا، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور کثیر بن صلت کے گھر کے پاس دو رکعتیں ادا کیں اور پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ انھوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2848
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدْتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اور سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا ، سب نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 2849
عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ الْخَيَّاطِ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْفِطْرَ بِالْمَدِينَةِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ فَصَلَّى يَوْمَئِذٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابویعقوب خیاط کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں عید الفطر کی نماز کے موقع پر مصعب بن زبیر کے ساتھ حاضر تھا، انھوں نے یہ پوچھنے کے لیے سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ نماز) کیسے ادا کیا کرتے تھے، انھوں نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، پس اس نے بھی اس دن خطبہ سے قبل نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 2850
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر ہمیں عیدین کی نماز پڑھائی، پھر ہمیں خطبہ دیا، اس کے بعد نیچے آ گئے اور عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، سو عورتوں نے بالیوں کے دانے اور موتی اور انگوٹھیاں سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی طرف ڈالنا شروع کر دیں ۔‘‘