کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے¤اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
الفتح الربانی
حدیث نمبر: 2826
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے لیے دو دن تھے، وہ دورِ جاہلیت سے ان میں کھیلتے چلے آ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دن عطا کر دیئے ہیں، ایک عید الفطرکا دن ہے اور دوسرا عید الاضحی کا۔
حدیث نمبر: 2827
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ وَكَانَ الْفَاكِهُ بْنُ سَعْدٍ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَٰذِهِ الْأَيَّامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ ،جو کہ صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ، عرفہ، عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں غسل کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے سیّدنا فاکہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے گھر والوں کو ان دنوں میں غسل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2828
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ أَوْ حَرِيرٍ تُبَاعُ، فَقَالَ لِلْنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَ هَٰذِهِ تَلْبَسُهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لِلْوُفُودِ، قَالَ: ((إِنَّمَا يَلْبَسُ هَٰذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک زرد رنگ کی دھاریوں والا، جس میں ریشم کی آمیز ش تھی یا ریشمی حُلّہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر آپ یہ خرید لیں اورجمعہ کے دن یامختلف وفود کی آمد پر پہنا کریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 2829
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنْ طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں عیدوں کی نمازوں کے لیے ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس لوٹتے تھے۔
حدیث نمبر: 2830
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ایک راستے سے عِیْدَین کے لیے نکلتے تو دوسرے راستے سے لوٹتے تھے۔