کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان¤حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
حدیث نمبر: 2821
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2821
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا البخاري: 937، ومسلم: 882 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 4591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4921»
حدیث نمبر: 2822
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الْجُمُعَةِ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب جمعہ سے فارغ ہو کر اپنے گھر جاتے تو دو رکعت نماز پڑھتے اور یہ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2822
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5688»
حدیث نمبر: 2823
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھ لے، تو وہ اس کے بعد چار رکعت (سنتیں) ادا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2823
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 881 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7400، 10486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10491»
حدیث نمبر: 2824
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ:) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّيْتُمُ الْجُمُعَةَ فَصَلُّوا أَرْبَعًا))، فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَلَا أَدْرِي هَٰذَا مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمعہ کی نماز پڑھو، تو (بعد میں) چار رکعت نماز پڑھا کرو۔ پس اگر تجھے کسی چیز کی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعت (مسجد میں) پڑھ لو، اور جب لوٹو تو دو رکعت (گھر میں پڑھ لو)۔ ابن ادریس کہتے ہیں میں نہیں جانتا یہ الفاظ پس اگر تجھے … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے ہیں یا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه مسلم، وجعل قوله: ’’فان عجِِل بك شيئ۔‘‘ من قول سھيل ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7400، 9699 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9697»
حدیث نمبر: 2825
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، لَا تُوْصَلْ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے مقصورہ میں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا ، جب وہ (گھر میں) داخل ہوئے تو انھوں نے میری طرف پیغام بھیجا، جب میں پہنچا تو کہا: تو نے جو کام ابھی کیا ہے، دوبارہ اس طرح نہ کرنا، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ نماز کو نماز سے نہ ملایا جائے حتی کہ تو اس جگہ سے نکل جائے یا کسی سے کلام کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2825
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16991»