کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
حدیث نمبر: 2812
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زبان پر دو رکعت نماز سفر، دو رکعت نمازِ عید الاضحی، دو رکعت نماز عید الفطر اور دو رکعت نماز جمعہ مکمل نمازیں ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2813
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا كُلَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نماز کی ایک رکعت پالی، پس تحقیق اس نے ساری نماز پالی۔
حدیث نمبر: 2814
عَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَعْرُورِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنَى هَٰذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْيَسْجُدِ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ، وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیارمعرورکہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مسجد تعمیر کی اور صرف ہم مہاجرین و انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر جب ہجوم بڑھ جائے تو آدمی اپنے بھائی کی پشت پر سجدہ کر لے۔ پھر انھوں نے کچھ لوگوں کو راستے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: مسجد میں نماز پڑھو۔