کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا¤امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2801
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 2802
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَيْتَ))، قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا تو تحقیق تو لغو کام کرے گا۔ ابوزناد نے کہا: لَغَوْتَ کو لَغَیْتَ پڑھنا سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت ہے۔
حدیث نمبر: 2803
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن یہ کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا اور امام خطبہ دے رہا ہو، پس تحقیق تو نے لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 2804
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو لوگوں سے کہے کہ خاموش ہوجاؤ، تو تحقیق تو نے اپنی جان پر لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 2805
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَرَاءَةً وَهُوَ قَائِمٌ يُذَكِّرُ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَجَاهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَبُو ذَرٍّ، فَغَمَزَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَحَدُهُمَا فَقَالَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ السُّورَةُ يَا أُبَيُّ! فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ يَسْكُتْ فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ السُّورَةُ فَلَمْ تُخْبِرْ، قَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبَيٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ والے دن سورۂ توبہ کی تلاوت کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ وعظ ونصیحت کر رہے تھے۔ سیّدنا ابی بن کعب، سیّدنا ابو الدرداء اور سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، (مؤخر الذکر دو صحابہ میں سے) ایک نے سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دبایا اور پوچھا: ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی، میں نے تو آج ہی سنی ہے؟ انھوں نے جواباً خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب وہ (جمعہ سے) فارغ ہو گئے تو اس صحابی نے کہا: میں نے تم سے سوال کیا تھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی ، لیکن تم نے مجھے کوئی بات نہ بتلائی۔ اب کی بار سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: آج تجھے اپنی اس نماز میں سے کچھ نہیں ملا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو بات کی ہے۔ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا اور ابی کے قول سمیت ساری بات ذکر کر دی، آگے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 2806
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَى آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أُبَيُّ! مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ الْآيَةُ؟ قَالَ: فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أُبَيٌّ: مَالَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلْتُهُ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ الْآيَةُ؟ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ أَنَّهُ مَا لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتُ، فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبَيٌّ، فَإِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور بیچ میں ایک آیت بھی تلاوت کی، میرے پہلومیں سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابی! یہ آیت کب نازل ہوئی ہے؟لیکن انہوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، میں نے پھر سوال دوہرایا، لیکن انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار ہی کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اتر آئے تو سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تجھے اس جمعہ (کے ثواب) میں سے کچھ نہیں ملے گا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو کام کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے (دوران خطبہ) ایک آیت تلاوت کی تھی، جبکہ میرے پہلو میں سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے میں نے ان سے یہ پوچھا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ لیکن انھوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، جب آپ اتر آئے، تو ابی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ کہہ دیا کہ میرے لیے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ہے مگر وہی کچھ جو میں نے لغو کام کیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ہے، جب تو اپنے امام کو سنے کہ وہ کلام کررہا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک خاموش ہوجا۔
حدیث نمبر: 2807
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے، تو ایک آدمی کسی حاجت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز کی طرف آگے بڑھتے اور نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 2808
عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ يَسْتَخْبِرُ النَّاسَ يَسْأَلُهُمْ عَنْ أَخْبَارِهِمْ وَأَسْعَارِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سنا، جبکہ وہ منبر پر تھے اور لوگوں سے ان کی خبروں اور نرخوں کے بارے میں معلومات لے رہے تھے اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 2809
عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ فَأَقْبَلَ إِلَيَّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، قَالَ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اجنبی آدمی ہوں، دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرا دین کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، پھر کرسی لائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو علم دیا، اس میں سے مجھے تعلیم دینے لگے، پھر خطبہ کے لیے تشریف لے گئے اور اس کا آخری حصہ مکمل کیا۔
حدیث نمبر: 2810
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا، فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} نَظَرْتُ إِلَى هَٰذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں سیّدنا حسن اور سیّدنا حسین رضی اللہ عنہما آ گئے، ان پر سرخ رنگ کی دو قمیصیں تھیں، وہ چل رہے تھے اور گر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اتر پڑے، ان کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا دیا، پھرفرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں، میں نے ان دو بچوں کو دیکھا، یہ چلتے ہوئے گر رہے تھے، مجھ سے صبر نہ ہو سکا، اس لیے میں نے اپنی گفتگو بند کر دی اور ان کو اٹھا لیا۔۔