کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2783
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ، جس میں شہادت نہ ہو، کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 2784
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْخُطْبَةُ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس خطبہ میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 2785
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ)) ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: ((أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ))، وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے :’’تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے ، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا ۔’’قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گی اور شام کو آ جائے گی ، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثاء) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے ۔‘‘ ’’ضَیَاع‘‘ سے مراد مسکین اولاد ہے ۔‘‘
حدیث نمبر: 2786
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عدی بن حاتم طائی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خطاب کیا اور کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، تحقیق وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی، تحقیق وہ گمراہ ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: توبرا خطیب ہے، یہ کہہ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 2787
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 2788
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔
حدیث نمبر: 2789
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا جَلْسَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن دو مرتبہ خطبہ ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان ایک مرتبہ بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2790
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ) ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَي صَلَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2791
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ يَجْلِسُ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ) ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَي صَلَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سماک بن حرب کہتے ہیں: سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر بیٹھ گئے اور اس بیٹھک میں کوئی کلام نہ کی، پھر کھڑے ہوئے (دوسرا) خطبہ دیا۔ پھر سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: جس نے تجھے یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، تو یقینا اس نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔
حدیث نمبر: 2792
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ فَقَدْ كَذَبَ) قَالَ: وَلَٰكِنَّهُ رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَى النَّاسَ فِي قِلَّةٍ فَجَلَسَ ثُمَّ يَثُوبُونَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اس میں اس نے یقینا جھوٹ بولا کے بعد یہ الفاظ ہیں: لیکن بسا اوقات ایسے ہوتا کہ آپ تشریف لاتے اور دیکھتے کہ لوگ کم ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ جاتے، حتی کہ لوگ مسجد میں آتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
حدیث نمبر: 2793
(وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:) مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ إِلَّا قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ جَلَسَ فَكَذِّبْهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا فِي الْجُمُعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دیتے ہوں، مگر کھڑے ہو کر، اس لیے جو شخص تجھے یہ بیان کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو تو اسے جھٹلا دے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ میں دو خطبے ارشاد فرماتے اور اِ ن دو کے درمیان بیٹھتے۔
حدیث نمبر: 2794
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا وَبِهَٰذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ اسی سند کے ساتھ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2795
عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابووائل کہتے ہیں: سیّدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، وہ بہت بلیغ اور مختصر تھا، پس جب وہ منبر سے اتر ے تو ہم نے کہا: اے ابوالیقظان! یقینا آپ نے بہت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے، تھوڑا سا لمبا کردیتے، انہوں نے جواباً کہا: دراصل میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا چھوٹا ہونا اس کے سمجھدار ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے تم لوگ نماز کو لمبا اور خطبہ کو مختصر کیا کرو، بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2796
عَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَتَجَوَّزَ فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًا شِفَاءً فَلَوْ أَنَّكَ أَطَلْتَ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نُطِيلَ الْخُطْبَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوراشد کہتے ہیں: سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مختصرسا خطبہ دیا۔ ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: آپ نے (دلوں کو متأثر کرنے والی) بہت اچھی باتیں کی ہیں، لیکن اگر اس خطاب کو کچھ لمبا کر دیتے (تو بہتر تھا)۔ انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ کو لمبا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 2797
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكُلَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَيْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَٰكَ دُونٌ، قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ قَالَ عَلَى عَصًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ ، جن کو صحابیت کا شرف حاصل تھا، نے ہمیں بیان کرتے ہوئے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ میں (اپنے وفد کا) ساتواں یا نواں فرد تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اجازت دی، پس ہم داخل ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے خیر کی دعا کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے خیر کی دعا کی اور ہمارے بارے میں حکم دیا کہ ہمیں ایک مقام پر اتارا جائے اور کھجوروں کے ساتھ ہماری ضیافت کی جائے، جبکہ لوگوں کے حالات بھی تنگ تھے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ دن کے لیے ٹھہرے رہے، اس دورانیے میں ہم نے جمعہ بھی ادا کیا،(ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کما ن یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، بس یہ چند بابرکت اور پاکیزہ کلمات تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم (تمام احکام پر) ہر گز عمل نہیں کر سکو گے، اس لیے راہِ مستقیم پر چلتے رہو اور (لوگوں کو) خوشخبریاں سناتے رہو۔
حدیث نمبر: 2798
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ (بْنِ عَازِبٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمان یالاٹھی پر ٹیک لگا کر خطبہ دیا۔
حدیث نمبر: 2799
عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِشْرٌ يَخْطُبُنَا فَلَمَّا دَعَا رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ عُمَارَةُ: يَعْنِي قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ أَوِ الْيَدَيَّتَيْنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ إِذَا دَعَا يَقُولُ هَٰكَذَا، وَرَفَعَ السَّبَّابَةَ وَحْدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حصین بن عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: میں سیّدنا عمارہ بن رؤیبہ سلمی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا، جبکہ بشر خطبۂ جمعہ دے رہا تھا، جب وہ دعا کرتا تو دونوں ہاتھ اٹھاتا تھا، یہ دیکھ کر سیّدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان حقیر سے ہاتھوں کو برباد کرے، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے تو اس طرح کرتے تھے، پھر انھوں نے انگشت ِ شہادت بلند کر کے وضاحت کی۔
حدیث نمبر: 2800
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ تُنُّورُنَا وَتُنُّورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ وَمَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ بِهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: دو سال یا اس سے کچھ کم مدت تک کے لیے ہمارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تنور ایک رہا، میں نے سورۂ ق حاصل نہیں کی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان ِ مبارک سے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تو اس کی تلاوت کرتے تھے۔