کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
حدیث نمبر: 2779
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ وَلِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جمعہ سمیت تمام نمازوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک مؤذن تھا، وہی اذان دیتا اور اقامت کہتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ والے دن منبر پر تشریف فرما ہوتے تو تب سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے اور جب اترتے تو تب وہ اقامت کہتے، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بھی (ایک ہی مؤذن ہوتا تھا) حتیٰ کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آگیا۔
حدیث نمبر: 2780
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ:) كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَذَانٌ حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دو اذانیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آ گیا اور لوگ زیادہ ہو گئے، اس لیے انھوں نے زوراء پر پہلی اذان کا حکم دے دیا۔
حدیث نمبر: 2781
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُولِي مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِحِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے تو ایک لکڑی کے ساتھ اپنی پیٹھ کی ٹیک لگا لیتے، لیکن جب لوگ زیادہ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ایک منبر تیار کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو اپنی بات سنا سکیں، پس صحابہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر تیار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لکڑی والے منبر پر منتقل ہو گئے۔ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ انہوں نے (اس پہلے والی) لکڑی کے لیے انتہائی غمگین کی رونے کی سی آواز سنی، وہ لگاتار روتی رہی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے، اس کی طرف گئے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا، سو وہ خاموش ہو گئی۔
حدیث نمبر: 2782
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَٰذِهِ السَّارِيَةِ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ جِذْعُ نَخْلَةٍ يَعْنِي يَخْطُبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ستون کے پاس خطبہ دیتے تھے، جبکہ یہ کھجور کا تنا ہی تھی۔