کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان¤کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
حدیث نمبر: 2775
عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: كَانَ نُبَيْشَةُ الْهُذَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُؤْذِي أَحَدًا فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْإِمَامَ خَرَجَ صَلَّى مَا بَدَا لَهُ، وَإِنْ وَجَدَ الْإِمَامَ قَدْ خَرَجَ جَلَسَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ جُمُعَتَهُ وَكَلَامَهُ إِنْ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِي جُمُعَتِهِ تِلْكَ ذُنُوبُهُ كُلُّهَا، أَنْ تَكُونَ كَفَّارَةً لِلْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی جب جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا، اگر وہ دیکھتا ہے کہ امام نہیں آیا تو جب تک مناسب سمجھتا ہے، نماز پڑھتا رہتا ہے اور اگر وہ دیکھتا کہ امام آ گیا ہے تو وہ بیٹھ جاتا ہے اور غور سے سنتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام جمعہ اور خطاب سے فارغ ہو جاتا ہے، اس عمل سے اگر اس کے اِس جمعہ تک کے سارے گناہ معاف نہ کیے گئے تو (مجھے امید ہے) کہ وہ اِس اور پچھلے جمعہ کے مابین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔
حدیث نمبر: 2776
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُصَلِّي رَكْعَاتٍ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ فَإِذَا انْصَرَفَ الْإِمَامُ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ هَٰكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن صبح صبح مسجد کی طرف چلے جاتے، پھر لمبے قیام کے ساتھ نفلی نماز کی رکعات ادا کرتے، جب امام (خطبہ و نماز سے) فارغ ہو جاتا تو گھر واپس لوٹ جاتے اور دو رکعت سنتیں پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طر ح کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2777
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ ثِيَابَهُ وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ثُمَّ مَشَى إِلَى الْجُمُعَةِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَلَمْ يَتَخَطَّ أَحَدًا وَلَمْ يُؤْذِهِ وَرَكَعَ مَا قُضِيَ لَهُ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْجُمَعَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا، کپڑے زیب تن کیے، اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو وہ بھی استعمال کی، پھر جمعہ کے لیے مسجد کی طرف سکون اور وقار کے ساتھ چلا اور کسی کے کندھے کو پھلانگا نہ کسی کو تکلیف دی، پھر نماز پڑھی، جتنی اس کے مقدر میں تھی، پھر انتظار کرتا رہا، حتی کہ امام (خطبہ اور نماز سے) فارغ ہو گیا، تو اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2778
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: ((إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزْ فِيهِمَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا سلیک رضی اللہ عنہ آئے اور بیٹھ گئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو، تو وہ تخفیف کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ لیا کرے۔