کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 2735
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا، وَمَنْ شَاءَ اغْتَسَلَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ بَدْءِ الْغُسْلِ، كَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِينَ وَكَانُوا يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَكَانُوا يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَيِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَعَرَقُوا وَكَانَ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَصِيرًا، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرَقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ أَرْوَاحُ الصُّوفِ فَتَأَذَّى بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِذَا جِئْتُمُ الْجُمُعَةَ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ مِنْ أَطْيَبِ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کسی آدمی نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ واجب ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، لیکن جو چاہتا ہے، وہ غسل کر لے۔ اور میں تجھے غسل کے آغاز کے بارے میں بیان کرتا ہوں، بات یہ ہے کہ لو گ محتاج (اور فقیر) تھے، اون کا لباس پہنتے تھے اور اپنی پشتوں پر(مشکیزے اٹھا اٹھا کر) کھجوروں کو پانی دیا کرتے تھے، جبکہ مسجد نبوی تنگ اور کم بلند چھت والی تھی۔ (ایک دن یوں ہوا کہ) لوگ اسی طرح اونی لباس پہنے آگئے، اس میں ان کو پسینہ آیا، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر بھی چھوٹا سا تھا، بس تین سیڑھیاں تھیں، جب لوگوں کو اون میں پسینہ آیا تو خوب بو پھیلنے لگی اور ان کو ایک دوسرے سے تکلیف ہونے لگی، ان کی یہ بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بھی پہنچی، جبکہ آپ منبر پر تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو غسل کر لیا کرو اور اگر ہو سکے توبہترین خوشبو استعمال کیا کرو۔
حدیث نمبر: 2736
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ فَكَانُوا يَرُوحُونَ كَهَيْئَتِهِمْ، فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: لوگ اپنا کام خود کیا کرتے تھے، پھر اسی حالت میں(جمعہ کے لیے مسجد میں) آجایا کرتے تھے، اس لیے ان سے کہا گیا: اگر تم غسل کر لیا کرو (تو اچھا ہو گا)۔
حدیث نمبر: 2737
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَأْكَ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى رَكَعَ مَا شَاءَ أَنْ يَرْكَعَ ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا))، قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةً إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی اور خوشبو اگر اس کے پاس ہوئی تو وہ بھی استعمال کی اور بہترین کپڑے پہنے، پھر نکلا اور مسجد میں آگیا اورلوگوں کی گردنیں نہ پھلانگی، پھر جتنی چاہی نماز پڑھی، جب امام آیا تو خاموش ہو گیا اور نماز کے فارغ ہونے تک کوئی بات نہ کی، تو یہ (جمعہ) اِس جمعہ اور پچھلے جمعہ کے مابین (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ ہو گا۔سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مزید تین دنوں کے (گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک نیکی کو اس سے دس گنا کے برابر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2738
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبٍ أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غسل کیا یا طہارت حاصل کی اور اچھی طرح طہارت حاصل کی،اپنے کپڑوں میں سے بہترین لباس پہنا اور خوشبو استعمال کی، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے میسر کی یا اپنی اہلیہ کا تیل لگا لیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور نہ کوئی لغو کام کیا اور نہ دوبندوں کے درمیان کوئی جدائی ڈالی، تو اس کے (وہ گناہ) بخش دیئے جائیں گے، جو اِس جمعہ سے اگلے جمعہ کے مابین ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2739
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ ثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مِثْلُهُ وَفِيهِ) قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرْتُ لِعُبَادَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ: صَدَقَ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ عبادہ بن عامر نے اوپر والی روایت کے بارے میں کہا: اس نے سچ کہا، بلکہ مزید تین دن (کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں)۔
حدیث نمبر: 2740
(وَعَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ الطَّرِيقِ الْأُوْلَى مِنَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سلمان الخیر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 2741
(وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:) قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟)) قُلْتُ: هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهَا أَبَاكُمْ، قَالَ: ((لَٰكِنِّي أَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ، لَا يَتَطَهَّرُ الرَّجُلُ فَيُحْسِنُ طُهُورَهُ ثُمَّ يَأْتِي الْجُمُعَةَ فَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا:یہ وہی دن ہے، جس میں اللہ نے آپ کے باپ (آدم علیہ السلام ) کو پیدا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے (پوری طرح) معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیاہے،جو آدمی اچھے انداز میں طہارت حاصل کرتا ہے، پھر جمعہ کے لیے آتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو یہ (عمل) اس کے لیے اِس جمعہ اور اگلے جمعہ کے ما بین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
حدیث نمبر: 2742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَٰذِهِ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا اور سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے اِس سے پوچھا: یہ کون سا وقت ہے (آنے کا)؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین! ابھی ابھی بازار سے واپس آیاتھا، اتنے میں اذان سن لی اور صرف وضو کر کے آگیا ہوں، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے غسل چھوڑ کر صرف وضو پر اکتفا کیا ہے، لیکن تجھے علم تو ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 2743
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ (فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ) أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے (پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس میں ہے) پھر انھوں نے کہا: کیا تم نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو نہا لیا کرے۔
حدیث نمبر: 2744
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ثَنَا شُعَيْبٌ قَالَ سُئِلَ الزُّهْرِيُّ هَلْ فِي الْجُمُعَةِ غُسْلٌ وَاجِبٌ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ))، وَقَالَ طَاوُسٌ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُؤُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ))، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے ۔طاؤس کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہواور خوشبو بھی لگاؤ۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: غسل کا حکم تو ٹھیک ہے، لیکن خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 2745
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((غُسْلُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے۔
حدیث نمبر: 2746
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ:) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَالسِّوَاكُ وَإِنَّمَا يَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ وَلَوْ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل اور مسواک ہر بالغ پرہے اورجو میسر ہو وہ خوشبو لگائے، اگرچہ اپنے اہل خانہ کی ہو۔
حدیث نمبر: 2747
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((حَقُّ اللَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں نہائے اور اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔
حدیث نمبر: 2748
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ غُسْلٌ فِي سَبْعَةِ أَيَّامٍ كُلَّ جُمُعَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ سات دنوں میں ہر جمعہ کے دن غسل کرے۔
حدیث نمبر: 2749
عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو قبول کیا اوریہ اچھا ہے اور جس نے غسل کیا تو وہ زیادہ فضیلت والا ہے۔
حدیث نمبر: 2750
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَغْتَسِلَ أَحَدُهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ طِيبٌ فَإِنَّ الْمَاءَ أَطْيَبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں پر حق ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں اور خوشبو لگائیں، اگران کے گھر والوں کے پاس ہو، اور اگر نہ ہو تو پانی ہی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے۔
حدیث نمبر: 2751
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ الْغُسْلُ وَالطِّيبُ وَالسِّوَاكُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک انصاری بزرگ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا ہر مسلمان پر حق ہے۔
حدیث نمبر: 2752
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَدَنَا فَاقْتَرَبَ وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ قِيَامِ سَنَةٍ وَصِيَامِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس نے (سر) دھویا،غسل کیا، بہت جلدی آیا، قریب ہوا، بلکہ بہت قریب ہو کر بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو وہ جتنے قدم چل کر آیا تھا، ہر قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور ایک سال کے روزوں کاثواب ملے گا۔
حدیث نمبر: 2753
(وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ’’وَفِي لَفْظٍ: ’’إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَغَسَلَ أَحَدُكُمْ رَأْسَهُ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ غَدَا،‘‘ الْخَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اسی طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں ہے:) جب جمعہ کا دن ہو اور تم میں سے کوئی اپنا سر دھوئے اور غسل کرے، پھر جلدی نکلے، … ۔
حدیث نمبر: 2754
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) ((وَخَرَجَ يَمْشِي وَلَمْ يَرْكَبْ ثُمَّ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی طرح روایت ہے، اس میں ہے: اور وہ پیدل چلتے ہوئے نکلا اور سوار نہ ہوا، پھر امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خاموش رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تواس کو ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔
حدیث نمبر: 2755
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ فَيَرْكَعَ إِنْ بَدَا لَهُ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، خوشبو استعمال کی، اگر اس کے پاس ہو، اور بہترین کپڑے پہنے، پھر وہ نکلا حتیٰ کہ مسجد میں آگیا، پھر (نفلی) نماز پڑھی، جتنی اس کی توفیق میں تھی اور کسی کو تکلیف نہ دی، پھر امام کے آنے کے بعد نماز سے فارغ ہونے تک خاموشی اختیار کی، تو (یہ عمل) اِس جمعہ سے لے کر پچھلے جمعہ کے ما بین (ہونے والے گناہوں) کا کفارہ بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 2756
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ))، قَالَ: ((وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی جمعہ والے دن اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے اورامام کے قریب ہو کر خاموشی سے بیٹھے اور غور سے خطبہ سنے، تو اس کے اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے اور مزید تین دنوں کے (گناہ) بخش دیئے جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جس نے کنکریوں کو چھوا، اس نے یقینا لغو کام کیا۔