کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
حدیث نمبر: 2711
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَحْنُ الْآخِرُونَ وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتِ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ هَٰذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ فَلِلْيَهُودِ غَدًا وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ))، قَالَ أَحَدُهُمَا: بِيَدِ أَنَّ، وَقَالَ آخَرُونَ: بِأَيْدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم (دنیا میں تو) آخری ہیں، لیکن قیامت والے دن (حساب کتاب میں) پہلے ہوں گے، ہاں یہ بات تو ہے کہ ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد۔ پھر یہ جو دن ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو ان پر بھی فرض کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑ گئے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی ہدایت دے دی تو لوگ اس بارے میں ہمارے تابع ہیں، اس طرح کہ یہودیوں کو کل ملا اور عیسائیوں کو (اِس سے بھی اگلا دن اتوار) ملا۔ ایک راوی نے بَیْدَ أَنَّ کہا اور دوسرے نے بِأَیْدٍ کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2711
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6624، 7036، مسلم: 855 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7399، 7707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7393»
حدیث نمبر: 2712
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) ((فَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَجَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا عِيدًا، فَالْيَوْمَ لَنَا وَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ نے اس (جمعہ کے دن) کو ہمارے لیے عید بنا دیا۔ پس آج (جمعہ کا دن) ہمارا ہے، کل (ہفتہ کا دن) یہود کے لیے ہے اور پرسوں (اتوار کا دن) عیسائیوں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2712
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7395»
حدیث نمبر: 2713
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فِيهَا وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ، غَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والے لوگوں پر بھی جمعہ فرض تو کیا تھا، لیکن وہ اختلاف میں پڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس معاملے میں ہدایت دی، پس لوگ ہمارے تابع ہیں۔ کل (ہفتے کا دن) یہودیوں کے لیے ہے اور پرسوں(اتوار کا دن)عیسائیوں کے لیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2713
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه مسلم: 856، وانظر الحديث بالطريق الأول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7213»
حدیث نمبر: 2714
عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: ((لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمَعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيُكْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر اور سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا نے اس بات پر شہادت دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر کی لکڑیوں پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ضرور ضرور ایسے ہو گا کہ یا تو لوگ جمعہ ترک کرنے سے باز آ جائیں گے، یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے اور غافلوں میں سے لکھ لیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2714
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 865 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2132، 2290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2132»
حدیث نمبر: 2715
عَنْ جَعْفَرٍ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ أَخْرُجَ بِفِتْيَانِي مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ فِي بُيُوتِهِمْ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ))، فَسُئِلَ يَزِيدُ: فِي الْجُمُعَةِ هَٰذَا أَمْ فِي غَيْرِهَا؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا إِلَّا هَٰكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ نماز کا حکم دوں، پس وہ کھڑی کر دی جائے اور میں جوانوں کے ساتھ نکل جاؤں، ان کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، پھر میں ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دوں جو اذان سنتے ہیں، لیکن نماز ادا کرنے کے لیے نہیں آتے۔ یزید راوی سے پوچھا گیا کہ یہ وعید جمعہ کے بارے میں تھی یا دوسری نمازوں کے متعلق؟ انھوں نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور نماز کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2715
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 651 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10975»
حدیث نمبر: 2716
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کی نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے بارے میں فرمایا: میں نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ کسی آدمی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور میں خود ان آدمیوں سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2716
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 652 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3816»
حدیث نمبر: 2717
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیرتین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2717
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14613»
حدیث نمبر: 2718
عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى قَلْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ ، جو صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیر اور سستی کرتے ہوئے تین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2718
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1052، والنسائي: 3/ 88، والترمذي: 500، وابن ماجه: 1125 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15580»
حدیث نمبر: 2719
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2719
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 3184، والحاكم: 2/ 488 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22926»
حدیث نمبر: 2720
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحْضُرُوا الْجُمُعَةَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّلُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَخَلَّلُ عَنِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو، یقینا ایک آدمی جمعہ سے پیچھے رہنا شروع کر دیتا ہے، حتی کہ اسے جنت سے پیچھے کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ جنتی لوگوں میں سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2720
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف الحكم بن عبد الملك، والحسن البصري لم يصرح بسماعه من سمرة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6854، وفي ’’الصغير‘‘: 346، والبيھقي: 3/ 238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20373»
حدیث نمبر: 2721
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ جُمُعَةً فِي غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جو عذر کے بغیر جمعہ ترک کر دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے ، اگر اس کے پاس اتنا نہ ہو تو نصف دینار دے دے ۔‘‘
سیّدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے جانور رکھ لیتا ہے اور (شروع شروع میں) نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر جب اس کے جانوروں کو (چرنے کی چیزوں کی) کمی کا شکوہ ہونے لگتا ہے، تو وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، سو وہ منتقل ہو کر (دور چلا جاتا ہے) اور صرف جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے جانور(چرنے کی چیزوں کی کمی کا) عذر پیش کرنے لگتے ہیں، پس وہ کہنے لگتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے اس سے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، پھر وہ جگہ بدل لیتا ہے اور (اتنا دور چلا جاتا ہے کہ) جمعہ کے لیے حاضر ہوتا ہے نہ جماعت کے لیے، اس وجہ سے اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2721
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف عمر مولي غفرة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3229، 3230، والبيھقي: 3/ 247 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20347»