کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کا بیان¤اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے نماز کے اجر کا آدھا ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2430
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا، قُلْتُ لَهُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ تَقُولُ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ؟ قَالَ: ((إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے تو بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایاہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کی بہ نسبت آدھی ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح کا نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 2431
عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز سے (اجر و ثواب میں) آدھی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2432
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا،انہوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہوکر پڑھنے والے کی نماز سے آدھی ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں فی نفس الامر کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے فرق کو ظاہر کیا جا رہا ہے، وگرنہ جو شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا عادی ہو اور کسی عذر کی وجہ سے اسے بیٹھ کر نماز ادا کرنا پڑ جائے تو وہ مکمل اجر کا مستحق ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے۔ واللہ اعلم