کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2412
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهِيَ تَمَامٌ وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں دو رکعت نماز مقرر کی ہے اور یہ پوری نماز ہے اور سفر میں وتر پڑھنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 2413
عَنْ جَابِرٍ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: كَانَا يُوْتِرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں صرف دو رکعت نماز پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھتے تھے۔ جابر نے سالم سے پوچھا: کیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ) سفر میں وتر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 2414
عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّيْنَا الْفَرِيضَةَ فَرَأَى بَعْضَ وَلَدِهِ يَتَطَوَّعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِي السَّفَرِ فَلَمْ يُصَلُّوا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلَوْ تَطَوَّعْتُ لَأَتْمَمْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حفص بن عاصم کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے اور (ایک مقام پر) فرض نماز ادا کی، پھر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے بعض لڑکے سنتیں ادا کر رہے تھے تو کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں، انھوں نے تو پہلے والی اور بعد والی سنتیں ادا نہیں کیں۔ پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے یہ نفلی نماز پڑھنی ہی ہوتی تو (فرض نماز کو بھی) پورا پڑھ لیتا۔
حدیث نمبر: 2415
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ، فَرَأَى نَاسًا يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ظہر و عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں، پھر وہ اپنی ایک چٹائی کے لیے کھڑے ہوئے اور یہ دیکھ کر کہ لوگ اس کے بعد نفلی نماز پڑھ رہے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ میں نے کہا: نوافل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے فرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز پڑھنی ہوتی تو فرائض کو ہی پورا پڑھ لیتا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک ان کی صحبت میں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات تک ان کے ساتھ بھی رہا، وہ بھی دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہا بھی ایسے ہی کرتے تھے۔