کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2398
عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَمَا أَرَادَ لِغَيْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ میں جمع کر کے ادا کیا، جبکہ نہ کوئی خوف تھا اور نہ بارش۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ (بارش اور خوف کے بغیر) ایسا کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا تھا؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ امت کو تنگی میں نہ ڈالیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2398
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 705، وابوداود: 1211، والترمذي: 187، والنسائي: 1/ 290 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1953»
حدیث نمبر: 2399
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ مُقِيمًا غَيْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِيًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مغرب و عشاء کو جمع کر کے ان کی) سات اور (ظہر و عصر کو جمع کر کے ان کی) آٹھ رکعتیں ادا کیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں مقیم تھے اور مسافر نہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2399
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 543، 1174، ومسلم: 705 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1918، 1929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1929»
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ! أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت جمع کرکے اور سات رکعت جمع کرکے پڑھیں۔عمرو کہتے ہیں: میں نے جابر بن زید سے کہا: اے ابو شعثاء! میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کو مؤخر کرکے اور عصر کو جلدی کر کے اور مغرب کو مؤخر کرکے اور عشاء کو جلدی کر کے پڑھا ہوگا۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2400
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1250 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1918»
حدیث نمبر: 2401
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ، وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَٰذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةَ الْفَجْرِ هَٰذِهِ السَّاعَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں تھا، انھوں نے دو نمازیں پڑھیں، ہر نماز اکیلی اذان اور اقامت کے ساتھ ادا کی اور ان کے درمیان کھانا بھی کھایا، فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر طلوع ہوچکی تھی، یا یہ کہا کہ یہ نماز اس وقت پڑھی، جب کوئی کہتا کہ فجر طلوع ہو گئی اور کوئی کہتا کہ طلوع نہیں ہوئی، پھر کہا:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس مقام پر ان دو نمازوں کو ان کے اوقات سے پھیر دیا جاتا ہے، کیونکہ لوگ مزدلفہ میں اس وقت پہنچتے ہیں جب (غروبِ شفق کے بعد والا) اندھیرا ہو چکا ہوتا ہے اور فجر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2401
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1683، وسلف مختصرا: 1248 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3969»
حدیث نمبر: 2402
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حکم کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی تین رکعات ایک اقامت کے ساتھ پڑھائیں، اس سے سلام پھیرنے کے بعد نماز عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر انھوں نے ذکر کیا کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشخين أخرجه النسائي: 1/ 239۔ وھذا الحديث من مسند عبد الله بن عمر أخرجه مسلم: 1288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2534، 5241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2534»
حدیث نمبر: 2403
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب و عشاء کو ایک اقامت کے ساتھ ادا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2403
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي۔ وأما قوله: ’’باقامة‘‘ فانه تفرد به جابر الجعفي في حديث ابي ايوب الانصاري، وغيره لم يذكر الاقامة فيه، ويشھد له حديث ابن عمر الآتي بعده، لكن خالفه حديث اسامة بن زيد عند البخاري (1672) ومسلم: 1280، وحديث جابر عند مسلم (1218)، ففيھما: انه اقام لكل صلاة، وفي المسألة خلاف بين اھل العلم والقول الثاني ھو المشھور۔أخرج بنحوه الطبراني: 3870 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23970»
حدیث نمبر: 2404
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۱۲۵۵۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کو جمع فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی تین رکعات او رعشاء کی دو رکعات ایک اقامت کے ساتھ پڑھائیں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2404
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1288، وأخرجه البخاري: 1673 بلفظ: كل واحدة منھما باقامة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4894»
حدیث نمبر: 2405
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى أَثَرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سالم اپنے باپ (سیّدنا عبد اللہ بن عمر) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزد لفہ میں مغرب و عشاء کو ایک اقامت کے ساتھ جمع کیا اور نہ ان دونوں کے درمیان نفلی نماز پڑھی اور نہ ان میں سے ہر ایک کے بعد۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2405
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1256 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5186»
حدیث نمبر: 2406
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزدلفہ تشریف لائے تو اترے، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا،پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ہرآدمی نے اپنے اونٹ کو اپنے مقام پر بٹھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2406
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 139، 1669، 1672، ومسلم: ص 934 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22157»
حدیث نمبر: 2407
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور مزدلفہ پہنچ گئے اور نماز مغرب قائم کی، پھر لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنی منازل میں بٹھائیں، لیکن ابھی تک ان سے سامان نہیں اتارا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عشاء کھڑی کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر لوگوں نے سامان وغیرہ اتارا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22085»
حدیث نمبر: 2408
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّوُا الْمَغْرِبَ ثُمَّ حَلُّوا رِحَالَهُمْ وَأَعَانْتُهُ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ پہنچے، لوگوں نے نماز مغرب ادا کی، پھر انھوں نے کجاوے اتارے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عشاء پڑھائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2408
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الحميدي: 548، والنسائي: 1/ 292، وابن خزيمة: 64، 2847، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22092»