کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2383
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ يُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک (کے سفر) میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے سے قبل (اپنے مقام سے) کوچ کر جاتے تو ظہر کو مؤخر کر کے اس کو عصر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرتے، اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تو ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کر لیتے، پھر سفر شروع کرتے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب سے پہلے سفر شروع کرتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو عشاء کے ساتھ پڑھتے اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء کو جلدی کرلیتے اور اس کو مغرب کے ساتھ ادا کر لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، وھو صحيح ان شاء الله أخرجه الترمذي: 553، 554، وابوداود: 1220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22094، وانظر الكلام المٖفصل علي ھذا الحديث في: 13584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22445»
حدیث نمبر: 2384
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو جلدی کر کے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشاء کو جلدی کر کے ادا کر لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2384
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: -»
حدیث نمبر: 2385
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سورج کے ڈھل جانے سے پہلے کوچ کر جاتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کرتے، پھر اترتے اور ان دونوں کو جمع کرتے، لیکن اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو نمازِظہر ادا کر کے سواری پر سوار ہوجاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2385
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1111، 1112، ومسلم: 704، وابوداود: 1218، والنسائي: 1/ 284 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13619»
حدیث نمبر: 2386
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا) فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَقَامَ فِيهِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا سَارَ وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ فَيَجْمَعُ بَيْنَ الْظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوقلابہ کہتے ہیں: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اور میرے علم کے مطابق وہ مرفوع روایت بیان کر رہے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ سفر کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے اور وہ مقام آپ کو اچھا لگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قیام کرتے اور ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کر لیتے، اور جب آپ چل رہے ہوتے اور (ٹھہرنے کے لیے) کوئی اچھا مقام نہ پاتے تو چلتے رہے اور ظہر کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ کسی مقام پر پہنچ کر ظہر و عصر کو جمع کر لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2386
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن قال الحافظ في ’’الفتح‘‘: 2/ 583: أِلا أنه مشكوك في رفعه، والمحفوظ أنه موقوف أخرجه البيھقي: 3/ 164 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2191»
حدیث نمبر: 2387
عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، قَالَ: فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمزہ ضبی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی منزل پر اترتے تو نمازِ ظہر ادا کیے بغیر وہاں سے روانہ نہ ہوتے۔ محمد بن عمر نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کو کہا: اے ابوحمزہ! اگرچہ نصف النہارکا وقت ہوتا؟ انھوں نے کہا: (جی ہاں) اگرچہ نصف النہار کا وقت ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2387
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12228»
حدیث نمبر: 2388
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَتَى سَرِفَ وَهِيَ تِسْعَةُ أَمِيَالٍ مِنْ مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غروب آفتاب کے وقت مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے اور نماز نہ پڑھی، یہاں تک کہ سرف مقام پر پہنچ گئے اور وہ مکہ سے نو میل کی مسافت پر ہے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2388
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الصحيح غير الأجلح وھو صدوق، وأبو الزبير مدلس، ولم يصرح بسماعه من جابر أخرجه ابوداود: 1215، والنسائي: 1/ 287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14274 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14325»
حدیث نمبر: 2389
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِسَرِفَ فَلَمْ يُصَلِّ الْمَغْرِبَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرف مقام پر سورج غروب ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب نہ پڑھی، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2389
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة و أبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا، وقد خالف الحجاج في متن ھذا الحديث، فرواه مقلوبا،وصوابه الحديث بالطريق الاول وانظر الحديث بالطريق الأول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15140»
حدیث نمبر: 2390
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَأَظْلَمَ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ عَلَى أَثَرِهَا ثُمَّ يَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمر بن علی کہتے ہیں: (ایک موقع پر) سیّدنا علی رضی اللہ عنہ چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور اندھیرا ہوگیا، پھر وہ اترے، نماز مغرب پڑھی اور اس کے بعد ہی نمازِ عشا ادا کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2390
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد۔ أخرجه ابوداود: 1234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1143»
حدیث نمبر: 2391
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ؟ قَالَ نَعَمْ، زَمَانَ غَزْوِنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا ہے، انہوں نے کہا: جی ہاں،غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2391
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14808»
حدیث نمبر: 2392
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ يَوْمَ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بنی مصطلق والے دن دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2392
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 458، 14/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6682، 6694، 6906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6906»
حدیث نمبر: 2393
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ: الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا إِذَا جَدَّبَهُ السَّيْرُ، وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا جَدَّبَهُ السِّيْرُ إِلَى رُبُعِ اللَّيْلِ أَخَّرَهُمَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام نافع کہتے ہیں: جب سرخی غائب ہو جاتی تو سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کرتے اور کہتے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چلنے میں جلدی ہوتی تو ان دونمازوں کو جمع کر لیتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے چوتھائی حصے تک چلنے میں جلدی ہوتی تو ان دو نمازوں کو مؤخر کر لیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2393
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1805، 3000، ومسلم: 703 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4472، 4542، 5120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4472»
حدیث نمبر: 2394
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبِ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسماعیل بن عبد الرحمن کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چراگاہ کی طرف نکلے، سورج غروب ہوگیا، لیکن ہم ان کی ہیبت کی وجہ سے نماز کا نہ کہہ سکے، حتی کہ افق کی سفیدی بھی غائب ہو گئی اور رات کا ابتدائی اندھیر ا بھی ختم ہو گیا، پھر وہ (بالآخر) اترے اور ہمیں تین اور دو رکعتیں (یعنی مغرب و عشاء کی نمازیں) پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2394
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الشافعي في ’’الأم‘‘: 1/ 77، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 161، والبيھقي: 3/ 161، وانظر الحديث السابق: 1245 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4598»
حدیث نمبر: 2395
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً، جَاءَهُ خَبَرٌ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا وَجِعَةٌ، فَارْتَحَلَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعَصْرَ وَتَرَكَ الْأَثْقَالَ، ثُمَّ أَسْرَعَ السَّيْرَ فَسَارَ حَتَّى حَانَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: الصَّلَاةَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَعْجَلَ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام نافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا، (تفصیل یہ ہے کہ) ان کو (اپنی بیوی) صفیہ بنت ابی عبیدکے متعلق یہ خبر موصول ہوئی کہ وہ بیمار ہے، پس وہ نماز عصر ادا کر کے روانہ ہوئے اور سامان وغیرہ وہیں چھوڑ دیا، انھوں نے تیزی کے ساتھ چلنا شروع کیا، سفر جاری رکھا،یہاں تک کہ مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا،ایک ساتھی نے کہا: نماز پڑھو۔ لیکن سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو کوئی جواب نہ دیا، پھر دوسرے بندے نے یہی بات کی، لیکن اس کو بھی کوئی جواب نہ دیا، جب تیسرے بندے نے یہی بات کی تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلدی چلنا ہوتا تو اس نماز کو مؤخر کردیتے، یہاں تک کہ دونوں نمازوں کو جمع کر کے ادا کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2395
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1207، وانظر الحديث: 1245 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6375»
حدیث نمبر: 2396
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ سَارَ حَتَّى أَمْسَى، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَسِيرُوا، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) جناب نافع کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو(ان کی بیوی) صفیہ کی مدد کے بارے میں خبر دی گئی، تو وہ اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت کے برابر چلے، چلتے رہے، حتیٰ کہ شام ہوگئی، میں نے کہا: نماز پڑھ لیں، لیکن وہ چلتے رہے اور میری طرف کوئی توجہ نہ کی،حتیٰ کہ اندھیرا ہوگیا، پھر ان کو جناب سالم یا کسی اور آدمی نے کہا:نماز پڑھ لیں، آپ نے تو شام کر دی ہے۔ (اب کی بار) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب جلدی چلنا ہوتا توآپ ان دونوں نمازوں کو جمع کرلیا کرتے تھے، اور میں بھی ان کو جمع کر کے ادا کرنا چاہتا ہوں، اس لیے تم چلتے رہو، پھر انھوں نے سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی، پھر اترے اور (مغرب و عشا)کو جمع کر کے ادا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2396
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5120»
حدیث نمبر: 2397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا (وَفِي لَفْظٍ) قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْعِشَاءَيْنِ، أَيْ بَدَلَ قَوْلِهِ صَلَاتَيْنِ‘‘ فَإِنَّهُ صَلَّاهُمَا بِجَمْعٍ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تو یہی دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز اس کے وقت پر ادا کی، سوائے دو نمازوں کے، مغرب و عشاء کو مزدلفہ کے مقام پر جمع کیا اور اس دن نماز فجر کو اس کے وقت سے پہلے ادا کیا۔ ابن نمیر کی روایت میں صَلَاتَیْن کے بجائے الْعِشَائَیْنِ کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو نمازوں کو مزدلفہ میں جمع کر کے ادا کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2397
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1289، وابوداود: 1934 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3638، 4046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4046»