کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا¤اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
حدیث نمبر: 2371
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2371
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4298، 4299 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1958»
حدیث نمبر: 2372
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَمَّا فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو وہاں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعت نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2372
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، شريك بن عبد الله النخعي وانظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2758»
حدیث نمبر: 2373
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلَاةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران قصر نماز پڑھتے رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2373
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14186»
حدیث نمبر: 2374
عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ؟ قَالَ: وَمَا ذُو الْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَكَانٌ نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، قَالَ: يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ، لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ، فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُصْبَ عَيْنَيَّ يُصَلِّيها رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَزَعَ هَٰذِهِ الْآيَةَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثمامہ بن شراحیل کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا:مسافر کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: دو دو رکعتیں ہے، سوائے نماز مغرب کے، وہ تین رکعت ہے۔ میں نے کہا:آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم ذی المجاز میں ہوں تو؟ انھوں نے کہا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا:وہ ایک جگہ کا نام ہے، ہم اس میں جمع ہوتے ہیں اورخرید و فروخت کرتے ہیں اور وہاں پندرہ یا بیس راتیں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:ارے!، میں آذربیجان میں چار یا دو ماہ تک ٹھہرا رہا، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} تلاوت کی یعنی: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔ حتیٰ کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2374
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5552»
حدیث نمبر: 2375
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَتَى مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَٰذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوهُ أَوْ كَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانَ عَشْرَةَ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفَرٌ، وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَجَّاتٍ فَلَمْ يُصَلِّيَا إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَا إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2375
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل علي بن زيد بن جدعان، ولبعض الحديث شواھد، ابن ابي شيبة: 2/ 450، وابن خزيمة: 1643، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ (515)، وأخرجه مختصرا ابوداود:1229 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19865، 19871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20112»
حدیث نمبر: 2376
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) مَا سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَإِنَّهُ أَقَامَ بِمَكَّةَ زَمَانَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَاهُ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ إِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَقُولُ: ((يَا أَهْلَ مَكَّةَ قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ فَإِنَّا سَفَرٌ))، ثُمَّ غَزَا حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى جِعْرَانَةَ فَاعْتَمَرَ مِنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ، ثُمَّ غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ يُونُسُ إِلَّا الْمَغْرِبَ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَدْرَ إِمَارَتِهِ، قَالَ يُونُسُ: رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوسفر بھی کیا، اس میں واپس آنے تک دو دو رکعت ہی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور لوگوں کو دو دو رکعت ہی پڑھائیں ، ما سوائے مغرب کے۔ پھر آپ (مقیم لوگوں کو) فرماتے تھے: اے اہل مکہ! کھڑے ہو جاؤ اور مزید دو رکعتیں بھی پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں ۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں دو دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ کی طرف لوٹے، وہاں سے ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ بھی کیا، (ان سفروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قصر نماز ہی پڑھتے رہے) پھر میں نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد، حج اور عمرہ ادا کیا، وہ بھی نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، (اس کے بعد میں یہی کام) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کیے، وہ بھی دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے شروع میں تو اسی طرح (قصر نماز) پڑھتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2376
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20105»