کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2357
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي السِّمْطِ أَنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دَوْمِينُ، مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 692 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 198»
حدیث نمبر: 2358
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ مِنَ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ) لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا (اور ایک روایت میں ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر کیا) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آنے تک دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 547، والنسائي: 3/ 117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1852»
حدیث نمبر: 2359
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنَى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1083، 1656، ومسلم: 696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18727، 18731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18934»
حدیث نمبر: 2360
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2360
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 688 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1862، 1996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1862»
حدیث نمبر: 2361
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكِ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ كَمْ تُصَلِّي فِي الْبَطْحَاءِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: جب تم مسجد میں نماز (باجماعت) نہیں پاتے توبطحاء میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہوں اور یہی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2361
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1996»
حدیث نمبر: 2362
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي؟ فَقَالَ: رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند)میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا:جب میں مکہ میں ہوتا ہوں تو وہاں کیسے نماز پڑھوں؟ انھوں نے جواب دیا: دو رکعتیں اور یہی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2362
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2632»
حدیث نمبر: 2363
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ أَمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور سیّدناعثمان کے ساتھ چھ سال تک منی میں نماز پڑھی، وہ مسافر والی نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2363
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 694 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4858 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4858»
حدیث نمبر: 2364
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مدینہ میں مسجد نبوی میں ظہر کی نماز کی چار رکعت پڑھائی، اور ذو الحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی، یہ حجۃ الوداع کا (سفر تھا) ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امن کی حالت میں تھے اور کسی سے نہیں ڈر رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2364
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 418، وابن حبان: 2746، وابويعلي: 3634، وأخرجه مسلم مختصرا: 690 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12079، 13488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13522»
حدیث نمبر: 2365
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، قَالَ كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمِيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2365
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 691 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12338»
حدیث نمبر: 2366
عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أُنْطَلِقَ بِنَا إِلَى الشَّامِ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَكُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَقَامَ الْقَوْمُ يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ، فَوَاللَّهِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّةَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَةَ، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ أَقْوَامًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس رضی اللہ عنہ ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے ، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیں گی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2366
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 2905، والضيائ: 1894 وابن عساكر في ’’تاريخ دمشق‘‘: 5/ ورقة 180، وأخرج القسم المر فوع منه البزار: 1853 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12642»
حدیث نمبر: 2367
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُهُ: هَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2367
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2049، 2293، 3781، ومسلم: 1427 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13006»
حدیث نمبر: 2368
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنَى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ أَمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے منی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہاں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ پوری پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2368
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1082، ومسلم: 694 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5178»
حدیث نمبر: 2369
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ (وَفِي لَفْظٍ) الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2369
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 495، 499، ومسلم: 503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18743، 18747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18954»
حدیث نمبر: 2370
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي (بْنَ أَبِي سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَهُ مَكَّةَ، قَالَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ، قَالَ: وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنَى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنَى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ (يَعْنِي مُعَاوِيَةَ) نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُمَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَا: فَقَالَا لَهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا: وَيْحَكُمَا، وَهَلْ كَانَ غَيْرَ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا: فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا، وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ لَهُ عَيْبٌ، قَالَ فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچا زاد (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچا زاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2370
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 765 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16982»