حدیث نمبر: 2345
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةُ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا كَانَتْ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَمَّ اللَّهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا فِي الْحَضَرِ، وَأَقَرَّ الصَّلَاةَ عَلَى فَرْضِهَا الْأَوَّلِ فِي السَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو نماز شروع میں فرض کی گئی، وہ مغرب کے علاوہ دو دو رکعتیں تھیں، مغرب کی تین رکعتیں تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ظہر، عصر، اور عشاء کی نمازوں کی حضر میں چار چار رکعتیں پوری کر دیں اور پہلے فرض ہونے والی ( دو دو رکعتوں) کو سفر میں مقرر کردیا۔
حدیث نمبر: 2346
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وَتْرُ النَّهَارِ، وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهَا، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُوْلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: مکہ میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو دو دو رکعتوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا، سوائے نمازِ مغرب کے، کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں،اور سوائے نمازِفجرکے، کیونکہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو پہلے والی نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2347
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَالْخَوْفِ رَكْعَةً عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار رکعتیں، سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی۔
حدیث نمبر: 2348
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ لَكُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار اور سفر کی نماز دو رکعتیں فرض کی ہیں۔
حدیث نمبر: 2349
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سفری نماز کی دو رکعتیں، نمازِ عیدالاضحی کی دو رکعتیں، نماز عید الفطر کی دو اور نمازِ جمعہ کی دو رکعتیں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر پوری نمازیں ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2350
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔
حدیث نمبر: 2351
عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: الصَّلَاةُ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، قُلْتُ إِنَّا آمِنُونَ، قَالَ: سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوحنظلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سفر کی نماز کے بار ے سوال کیا تو انہوں نے کہا: سفر کی نماز دو رکعتیں ہیں۔ میں نے کہا: ہم تو اب امن میں ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
حدیث نمبر: 2352
عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
خالد بن اسید کی آل میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں قرآن مجید میں خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن ہم سفر کی نماز کا کوئی ذکر نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے، جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2353
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَجْفَى النَّاسِ فَنَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)امیہ بن عبد اللہ کہتے ہیں : ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہاکہ ہم خوف اور حضر کی نمازیں تو قرآن میں پاتے ہیں ، لیکن ہم مسافر کی نماز کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا، جبکہ ہم سب لوگوں سے سب سے زیادہ سخت مزاج تھے، پس ہم تو اب اسی طرح کریں گے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2354
عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ قَامَ أَرْبَعًا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور جب مقیم ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضر میں دو رکعتیں پڑھتا ہے۔سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: صرف ایک دفعہ نماز کو (ایک رکعت پر) قصر کر کے پڑھا گیا، (اور وہ بھی اس طرح تھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی۔
حدیث نمبر: 2355
عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان سے سفری نماز کے بارے میں پوچھتے تھے،وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو واپس لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ فَكَانَا لَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ فَبِهِ نَقْتَدِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیے، میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے دو رکعتوں سے زیادہ نماز پڑھی ہو اور ہم تو گمراہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ذریعے ہمیں ہدایت دی،سو ہم تو ان ہی کی پیروی کرتے ہیں۔