کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا¤اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2325
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَيَأْتِيهِ النَّاسُ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو چاشت کے وقت میں واپس آتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچ جاتے تو مسجد سے شروع ہوتے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر وہاں بیٹھ جاتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو سلام کہتے۔
حدیث نمبر: 2326
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا، كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سفر سے واپسی پر) رات کو گھر نہیں آتے تھے، بلکہ صبح یا شام کے وقت آتے تھے۔
حدیث نمبر: 2327
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: ((إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ))، قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا دَخَلْتَ فَعَلَيْكَ الْكَيْسَ الْكَيْسَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو رات کو سفر سے واپس لوٹے تو اپنے گھر والوں کے پاس نہ جا، حتیٰ کہ غائب خاوند کی بیوی استرا استعمال کر لے (زیر ناف بال مونڈ لے) اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا جابر سے فرمایا: جب تو سفر سے واپس گھر میں آئے تو عقلمندی کو لازم پکڑنا، عقلمندی کو (یعنی حق زوجیت ادا کرنے کا اہتمام کرنا)۔
حدیث نمبر: 2328
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الْعَقِيقَ فَنَهَى عَنْ طُرُوقِ النِّسَاءِ اللَّيْلَةَ الَّتِي يَأْتِي فِيهَا فَعَصَاهُ فَتَيَانِ فَكِلاهُمَا رَأَى مَا يُكْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقیق نامی جگہ پراترے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو بیویوں پر داخل ہونے سے منع فرما دیا۔ دو نوجوانوں نے اس حکم کی نافرمانی کی، پس ان دونوں نے( اپنے گھروں میں) ایسی چیزیں دیکھیں جس کو ناپسند کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2329
عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا دَخَلْتُمْ لَيْلًا فَلَا يَأْتِينَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ طُرُوقًا))، فَقَالَ جَابِرٌ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو (سفر سے) واپس آ جاؤ تو کوئی بھی رات کو اپنے اہل کے پاس نہ جائے، (بلکہ صبح کا انتظار کرے)۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے بعد میں ان کے پاس رات کو آنا شروع کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 2330
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا، أَنْ يَخَوِّنَهُمْ أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی رات کے وقت (سفر سے ) اپنے اہل کے پاس آئے، کہ وہ ان کی خیانت کو ڈھونڈے یا ان کی غلطی کا موقع تلاش کرے۔
حدیث نمبر: 2331
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ رات کو سفر سے واپس آئے اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے پاس پہنچے، وہ کیا دیکھتے ہیں کہ گھر میں چراغ تھا اور اس کی بیوی کے پاس کوئی فرد تھا۔ پس اس نے تلوار پکڑی، لیکن اتنے میں اس کی بیوی نے کہا: پیچھے ہٹ جا، یہ فلاں عورت ہے، میری کنگھی کر رہی تھی۔ پھر وہ نبی کریم کے پاس آیا اور ساری بات بتلائی، (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرما دیا کہ آدمی رات کو اپنے اہل کے پاس آئے۔