کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان اذکار کا بیان، جو مسافر سفر کے ارادے کے وقت ، دورانِ سفرکہیں اترتے وقت¤اور اپنے وطن کو واپس ہوتے ہوئے کہتا ہے
حدیث نمبر: 2317
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا قَالَ: ((اللَّهُمَّ بِكَ أَصُوْلُ وَبِكَ أَحُوْلُ وَبِكَ أَسِيرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ۔ … اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہی (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں، تیرے ساتھ ہی میں حرکت کرتا ہوں اور تیرے ساتھ ہی میں چلتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2317
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عمران بن ظبيان الحنفي الكوفي قال البخاري: فيه نظر، وقال ابو حاتم: يكتب حديثه، يعني في المتابعات، وتناقض ابن حبان فذكره في الثقات، وقال في ’’الضعفائ‘‘: فحش خطؤه حتي بطل الاحتجاج به، وقال يعقوب بن سفيان: ثقة ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1296»
حدیث نمبر: 2318
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى سَفَرٍ قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ))، وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ: ((آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ))، وَإِذَا دَخَلَ أَهْلَهُ قَالَ: ((تَوْبَةً تَوْبَةً لِرَبِّنَا أَوْبَةً لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔ … اے اللہ! تو سفر میں ساتھی ہے اور ہمارے گھر میں خلیفہ ہے،اے اللہ! میں تجھ سے سفر میں کثرتِ عیال سے اور سفر سے ناکام واپسی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت کو کم کر دے) اور ہمارے لے یہ سفرآسان کردے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔ … واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اورجب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو فرماتے: تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔ ہم توبہ کرتے ہیں، ہم توبہ کرتے ہیں اور اپنے اس رب کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو ہمارا کوئی گناہ نہیں چھوڑتا، (بلکہ سب کو معاف فرما دیتا ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2318
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه أبو يعلي: 2353، وابن حبان: 2716، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 11735، والبزار: 3127، والحاكم: 1/ 488 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2311»
حدیث نمبر: 2319
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (قَالَ عَاصِمٌ: وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ): كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ فِي سَفَرٍ قَالَ: ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمُظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ))، وَإِذَا رَجَعَ قَالَ مِثْلَهَا إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: ((وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ))، فَيَبْدَأُ بِالْأَهْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔( اے اللہ ! میں سفر کی مشقتوں سے، واپس لوٹنے کے غم سے، زیادہ ہو جانے کے بعد نقصان سے، مظلوم کی بددعا سے اور مال اور گھر میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹتے تو یہی کلمات دوہراتے ۔ البتہ آخری جملے کو اس طرح کہتے تھے: وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔(اور اپنے اہل اور مال میں برے منظر۔) یعنی اس میں الْأَہْل کا لفظ پہلے آیا، (اور المَال کا بعد میں)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2319
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21057»
حدیث نمبر: 2320
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَسُئِلَ عَاصِمٌ عَنِ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ قَالَ حَارَ بَعْدَ مَا كَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) عاصم سے الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ کے (معنی کے) بارے میں پوچھاگیا تو انھوں نے کہا: (کسی نعمت کے) زیادہ ہو جانے کے بعد اس میں کمی آجانا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2320
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الترمذي: 3439، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21062»
حدیث نمبر: 2321
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ: ((يَا أَرْضُ! رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ یا کسی اور سفر کے لیے نکلتے اور راستے میں رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھتے: یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔(اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شرّ سے، تیرے اندر کے شرّ سے، تیرے اندر پیدا کی ہوئی چیزوں کے شرّ سے اور تیرے اوپر رینگنے والی چیزوں کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ہر قسم کے شیر، شخص، سانپ اور بچھو کے شرّ سے اور اس علاقے میں رہنے والے کے شرّ سے ، (غرضیکہ) ہر جنم دینے والے اور ہر جنم لینے والے کے شرّ سے۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2321
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الزبير بن الوليد الشامي، تفرد بالرواية عنه شُريح بن عبيد الحضرمي، أخرجه ابوداود: 2603 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6161»
حدیث نمبر: 2322
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ كُلِّهَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ خولہ بنت حکیم سلمیۃ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کہیں پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھے: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ ( میں اللہ کے تمام اور مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جواس نے پیداکی۔)تو کوئی چیز اسے وہاں سے روانہ ہونے تک نقصان نہیں دے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2322
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2708 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27663»
حدیث نمبر: 2323
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، جب (بلند جگہ پر)چڑھ رہے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب (بلند جگہ سے) اتر رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2323
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2993، 2994 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14622»
حدیث نمبر: 2324
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَعِدَ أَكَمَةً أَوْ نَشَزًا قَالَ: ((اللَّهُمَّ لَكَ الشَّرَفُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ، وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَمْدٍ (وَفِي لَفْظٍ) وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى كُلِّ حَالٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی ٹیلے یا اونچی جگہ پر چڑھتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (ایک روایت کے الفاظ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہتے) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ … اے اللہ! ہر بلند جگہ پر عزت و حیثیت تیرے لیے ہی ہے اور ہر قسم کی تعریف پر (اصل) تعریف تیرے لیے ہی ہے۔ اور (ایک روایت کے مطابق) ہر حال میں تعریف تیرے لیے ہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2324
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عمارة بن زاذان و زيادِ بن عبد الله النميري، أخرجه أبويعلي: 3297، والطبراني في ’’الدعائ‘‘: 849، والبيھقي في ’’الدعوات الكبير‘‘: 413 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12306»