کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو لے کر (دشمن کے علاقے کی طرف) سفر نہ کرو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ دشمن کے ہتھے چڑھ جائے گا۔
حدیث نمبر: 2315
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مصحف (قرآن) لے کر دشمن کے علاقے میں سفر کرنے سے منع فرما رہے تھے۔
حدیث نمبر: 2316
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ: آمَنْتُ بِاللَّهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلتا ہے اور یہ دعا پڑھتا ہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ … میں اللہ پرایمان لایا،اس (کی رسی) کو مضبوطی سے تھاما اور میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے بچنے کی قدرت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ۔ تو اس کو اس راستے کی خیر و برکت دی جائے گی اور اس راستے کو اس کی برائی سے بچالیا جائے گا۔