کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
حدیث نمبر: 2285
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَافِرُوا تَصِحُّوا وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفر کیا کرو، تندرست رہو گے اور غزوہ کیا کرو، غنی ہوجاؤ گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2285
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة سييء الحفظ، ودراج بن سمعان ضعيف صاحب مناكير، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 8308 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8932»
حدیث نمبر: 2286
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ يَعْنِي مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِبَابِهِ رَايَتَانِ، رَايَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيْطَانٍ، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اتَّبَعَهُ الْمَلَكُ بِرَايَتِهِ فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ، وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسْخِطُ اللَّهَ اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی نکلنے والا، جو اپنے گھر سے نکلتا ہے، مگر اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ہیں، ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہو تا ہے اور ایک شیطان کے ہاتھ میں، اگر وہ شخص اللہ کے پسندیدہ کام کے لیے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے چل پڑتا ہے اور وہ شخص فرشتے کے جھنڈے کے نیچے رہتاہے یہاں تک کہ گھر واپس آ جاتا ہے اور اگر وہ ایسے کام کے لیے نکلتا ہے جو اللہ کو ناراض کرتا ہے، تو اس کے پیچھے شیطان اپنا جھنڈا لے کر چل پڑتا ہے اور وہ شخص شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہی رہتا ہے یہاں تک کے وہ گھر واپس لوٹ آتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 4783، والبيھقي في ’’الزھد‘‘: 699 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8269»
حدیث نمبر: 2287
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں کتا ہو یا گھنٹی کی آواز ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2113 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8509»
حدیث نمبر: 2288
عَنْ سُهَيْلِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ، وَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ فَتَنَكَّبُوا الطَّرِيقَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سبزہ زاروں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو اور جب تم خشک زمین پر سفر کرو تو تیزی کے ساتھ چلا کرو اور جب تم رات کے آخر میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے اتر کر ایک طرف پڑاؤ کیا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1926 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8423»
حدیث نمبر: 2289
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) ((وَإِذَا عَرَّسْتُمْ فَاجْتَنِبُوا الطُّرُقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں یہ ہے: اورجب تم رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ ڈالو تو راستوں سے ایک جانب ہو جایا کرو، کیونکہ یہ گزر گاہیں رات کو جانوروں کے راستے اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ بن جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2289
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8905»
حدیث نمبر: 2290
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبَ فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ، وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَجِدُّوا وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلَجِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ، وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمُ الْغِيْلَانُ فَنَادُوا بِالْأَذَانِ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سر سبز و شاداب زمین میں چلو تو اپنی سواریوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دو، (مسافر لوگوں کے آرام کرنے والی) منزلوں سے تجاوز نہ کیا کرو، جب بنجر زمین میں سفر کرو توتیزی سے چلا کرو اوررات کے اندھیرے میں سفر کیا کرو، کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے، اور جب جادو گر جنّ (لوگوں کو راستے سے گمراہ کرنے کے لیے) مختلف رنگوں اور شکلوں میں ظاہر ہوں تو اذان کہا کرواور راستے کے درمیان میں نماز پڑھنے اور پڑاؤڈالنے سے بچو، کیونکہ یہ رات کو درندوں اور سانپوں وغیرہ کا ٹھکانہ ہوتے ہیں اور (راستے میں) پیشاب یا پاخانہ وغیرہ کرنے سے بھی بچو، کیونکہ یہ فعل لعنت کا سبب بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2290
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: ((اذا تغولت الغيلان فبادروا بالأذان))، وھذا السند منقطع، لم يسمع الحسن البصري من جابر، أخرجه ابوداود: 2570، وابن ماجه: 329 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14277، 15091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14328»
حدیث نمبر: 2291
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَيْهِ وَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے اور جب صبح سے کچھ دیر پہلے پڑاؤ کرتے تو اپنے بازو زمین پر کھڑے کر کے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سر رکھ کر لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2291
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 683 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22546م، 22632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23009»