کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سترے کے بغیر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1506
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فضا میں نماز پڑھی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے کوئی چیز نہیں تھی ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1506
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، حجاج بن ارطاة مدلس وقد عنعن، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 278، والبيھقي: 2/ 273 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1965)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1965»
حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِهِ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: مجھے کثیر بن کثیر بن مطلب نے بیان کیا اور اس نے اپنے کسی گھر والے کواپنے دادا سے بیان کرتے ہوئے سنا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنوسہم والے دروازے کے پاس نماز پڑھی، جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے اور آپ اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1507
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين كثير بن كثير وجدّه، وقد اختلف فيه علي سفيان بن عيينة، وانظر التفصيل في ھذا المكا، أخرجه ابوداود: 2016 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27241)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27783»
حدیث نمبر: 1508
وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَمَّنْ سَمِعَ جَدَّهُ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ سُتْرَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک مرتبہ امام سفیان نے کہا: مجھے کثیر بن کثیر نے اپنے دادے سے سننے والے کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو سہم کے دروازے کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، لوگ آپ کے آگے سے گزر رہے تھے او ر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1508
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، انظر الحديث: 471۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27784»
حدیث نمبر: 1509
قَالَ: سُفْيَانُ وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنْبَأَ عَنْهُ قَالَ: ثَنَا كَثِيرٌ عَنْ أَبِيهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ، وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي عَنْ جَدِّي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ سُتْرَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن جریج یہ خبر دیتے ہیں کہ سفیان کہتے ہیں کہ ان کو کثیر نے اپنے باپ سے بیان کیا، لیکن جب سفیان نے کثیر سے سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے نہیں سنا،بلکہ کسی رشتہ دار سے سنا اور وہ میرے دادا سے روایت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سہم کے دروازے کے قریب نماز پڑھی اور آپ کے او رطواف کرنے والوں کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے اس مسئلہ میں خانہ کعبہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1509
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، انظر الحديث: 471۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27785»