کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1500
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر اس سے اترے، اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم صف میں داخل ہوگئے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1500
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4412، ومسلم: 504 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1891)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1891»
حدیث نمبر: 1501
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلْمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ يَعْنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں اسی حالت میں پہلی صف کے بعض حصے کے سامنے آ پہنچا، وہاں اس سے اترا، وہ چرنے لگی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑا ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ شریعت کی کمال رخصت ہے کہ مقتدی لوگوں کو سترہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ دورانِ جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنا جائز ہے، حدیث نمبر (۴۲۶) مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران جماعت بکری کے بچے کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے یعنی پہلی صف کے لوگوں کے سامنے سے گزر گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1501
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1857 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2376)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2376»
حدیث نمبر: 1502
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1502
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 1503
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: وہ اور بنوہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر تھے، وہ گدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزر گیا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے نہ نکلے، اتنے میں بنو عبد المطلب کی دو لڑکیوں نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا اورنماز سے نہ نکلے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1503
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 716، 717، والنسائي: 2/ 65 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3167)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3167»
حدیث نمبر: 1504
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1504
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 1505
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِللنَّاسِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ وَخَلَّيْتُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُتِ الصُّفُوفَ حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجَرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: أَفَلَا تَقُولُونَ: الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن عرنی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتی ہیں، وہ کہنے لگے: بری بات ہے کہ تم نے مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر کردیا ہے، میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں گدھے پر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں آپ کے سامنے قریب ہوگیا تو میں اس سے اترا اور اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں داخل ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اپنی نماز دہرائی اور نہ مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور ایک دفعہ یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچی صفوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ لی، اس سے بھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز دہرائی اور نہ اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اور واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حجرے سے ایک بکری کا بچہ نکل آیا اور آپ کے سامنے سے گزر نے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روک دیا۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نماز توڑ دیتا ہے؟
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے بچے کو بھی دورانِ نماز سامنے سے گزرنے سے روکا ہے، اس لیے لوگوں کو یہ بھی کہنا چاہیے کہ اس سے بھی نماز منقطع ہو جاتی ہے۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث تو ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو قطع کر دیتے ہیں۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ مختلف الزامی امور کا تذکرہ کر رہے ہیں، گدھے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قریب ہوجانا، اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، بچی کامعاملہ تو اسے شعور نہ ہونے کی وجہ سے واضح ہے۔ کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1505
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم، لكنه متابع، ثم ھو منقطع۔ أخرجه الطبراني: 12703 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2222، 2804)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2222»