کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
حدیث نمبر: 1497
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نفل پڑھتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1497
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 772»
حدیث نمبر: 1498
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهَا وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ عِنْدَ عُمَرَ: فَلَعَلَّهَا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! قَالَتْ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: أُخْبِرُكَ بِالْيَقِينِ وَتَرُدُّ عَلَيَّ بِالظَّنِّ، بَلْ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن جعفر بن زبیر کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے امیر مدینہ عمر بن عبد العزیز کو یہ حدیث بیان کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ کی طرف نماز پڑھتے تھے اور وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ ابو امامہ بن سہل کہنے لگے : ابوعبداللہ ! شاید انھوں نے یہ کہا ہوکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی ہوتی تھیں؟یہ سن کر عروہ نے کہا: میں تجھے یقین کے ساتھ خبر دے رہا ہوں اور تو مجھ سے گمان والی بات کر رہا ہے، (حقیقت یہ ہے کہ) وہ جنازے کی طرح واقعی آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا اور چیز ہے اور اس کے سامنے بیٹھے رہنا یا سوئے رہنا اور چیز ہے۔ اسی طرح جن روایات کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سجدہ کرتے وقت اپنی ٹانگوں کو پیچھے کر لیتی تھیں، پھر آگے کر دیتی تھیں، ان سے بھی گزرنا ثابت نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1498
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26889»
حدیث نمبر: 1499
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملا قات کرنے کے لیے ہماری بستی میں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں نماز عصر ادا کی، جبکہ ہماری کتوری اور گدھی، جو چر رہی تھی، آپ کے سامنے تھیں، لیکن نہ ان کو پیچھے ہٹایا گیا اور نہ ڈانٹا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … کون سے امور نماز کو قطع کر دیتے ہیں؟ اس تفصیل کا بیان باب مبطلات الصلاۃ میں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1499
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1797»