کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1483
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے،اگر کوئی (رکنے سے) انکار کرتاہے تواس سے لڑے کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5585)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5585»
حدیث نمبر: 1484
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نمازپڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے اور اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹائے،اگر وہ (رکنے سے) انکار کرے تواس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
وضاحت:
فوائد: … گزرنے والے پر شیطان کا اطلاق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ شیطانی فعل کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1484
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 505 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11299)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11319»
حدیث نمبر: 1485
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ صَاحِبِ سُلَيْمَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ قَائِمًا يُصَلِّي مُعْتَمًّا بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ مُرْخِي طَرَفَيْهَا مِنْ خَلْفٍ مُصْفَرِّ اللَّحْيَةِ، فَذَهَبْتُ أَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَرَدَّنِي ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ فَقَرَأْ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: ((لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ هَاتَيْنِ، الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ أَحَدٌ فَلْيَفْعَلْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سلیمان کے ساتھی ابو عبید کہتے ہیں: میں نے عطا بن یزید لیثی کودیکھا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے سیاہ رنگ کی پگڑی باندھ کر اس کا کنارہ پیچھے لٹکایا ہوا تھا اور داڑھی کو زرد کر رکھا تھا، میں ان کے آگے سے گزرنے لگا لیکن انہوں نے مجھے روک دیا، پھر کہا: مجھے سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں تھے، آپ نے قراءت کی لیکن قراءت آپ پر خلط ملط ہونے لگی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کاش تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے، میں نے اپنا ہاتھ جھکایا (اور اسے پکڑ لیا پھر) اس کا گلا گھونٹتا رہا حتی کہ مجھے اس کے لعاب کی ٹھنڈک ان دونوں انگلیوں یعنی انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی کے درمیان محسوس ہوئی،اور اگر میر ے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستون کے ساتھ باندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ اس لیے تم سے جوشخص یہ طاقت رکھتا ہے کہ (اس کی نماز کے دوران) کوئی اس کے اور قبلہ کے درمیان حائل نہ ہو تو ایسا ہی کرے۔
وضاحت:
فوائد: … حضرت سلیمان کییہ دعا مراد ہے: {رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ} (ص: ۳۵) یعنی: انھوں نے کہا: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی شخص کے لائق نہ ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابلیس پر قابو تو پا لیا تھا، صرف اس کو باندھنا باقی تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از راہ تواضع ایسا نہ کیایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے زیادہ طاقت نہیں تھی۔ پہلی بات ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ایک جِنّ کو اس طرح باندھ دینے سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت سے تشبیہ لازم نہیں آتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دعا کا ادب کرتے ہوئے یہ کام بھی نہ کیا۔ حدیث ِ مبارکہ کا آخری حصہ قابل توجہ ہے کہ نمازی اپنے سامنے سترہ رکھے اور پھر کسی چیز کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1485
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مختصرا ابوداود: 699 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11780)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11802»
حدیث نمبر: 1486
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَرَّتْ امْرَأَةٌ بِالْبَطْحَاءِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْخَّرِي، فَرَجَعَتْ حَتَّى صَلَّى ثُمَّ مَرَّتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن زید اور ابو بشر انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کو بطحاء مقام پر نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے گزرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اشارہ کیا کہ وہ پیچھے ہوجائے، پس وہ وا پس لوٹ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھر وہ گزری۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بوقت ِ ضرورت دورانِ نماز ایسا اشارہ کیا جا سکتا ہے، جس سے کوئی بات سمجھانا مقصود ہو، اس کو اِشَارَۃ مُفْہِمَۃ کہتے ہیں۔ کئی دوسری احادیث سے بھییہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1486
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 751 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21888)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22233»
حدیث نمبر: 1487
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ أَوْ عُمَرُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا قَالَ: فَرَجَعَ، قَالَ: فَمَرَّتْ ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، قَالَ: فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هُنَّ أَغْلَبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن قیس اپنی ماں سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ کے آگے سے عبد اللہ یا عمر رضی اللہ عنہما گزرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے (ان کو واپس ہو جانے کا) اشارہ کیا، پس وہ واپس چلے گئے، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی گزرنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو روکنے کے لیے اپنے ہاتھ سے اسی طرح ا شارہ کیا، لیکن وہ گزر گئی’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: یہ عورتیں (مخالفت کرنے میں) زیادہ غالب ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1487
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن قيس، أخرجه ابن ماجه: 948 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26523)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27058»
حدیث نمبر: 1488
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيَّ فَمَنَعْتُهُ فَأَبَى، فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ يَا ابْنَ أَخِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا ، میرے سامنے سے ایک آدمی گزرا،میں نے اسے روکا، لیکن اس نے رکنے سے انکار کردیا۔ پھرمیں نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! وہ تجھے نقصان نہیں دے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ اس نمازی کو اس سے زیادہ روکنے کی طاقت نہ ہو، اس لیے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے یہ بات کہی ہو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طاقت کے مطابق گزرنے والے کو روکنے کی تلقین کی ہے۔ بہرحال یہ موقوف روایت ہے، اس باب میں مرفوع احادیث واضح ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، فيه سويد بن سعيد، لكنه قد توبع، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 464 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 523)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 523»
حدیث نمبر: 1489
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ حَتَّى قَامَتَا بَيْنَ يَدَيْهِ عِنْدَ رَأْسِهِ فَنَحَّاهُمَا وَأَوْمَأَ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ دو بچیاں آئیں اور آپ کے سامنے کھڑی ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہٹایااور اپنے دائیں بائیں اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1489
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 716، 717، والنسائي: 2/ 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2899، 3167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2899»
حدیث نمبر: 1490
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَعْلَى الْوَادِي نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ، قَدْ قَامَ وَقُمْنَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا حِمَارٌ مِنْ شَعْبِ أَبِي دُبٍّ شَعْبِ أَبِي مُوسَى فَأَمْسَكَ النَّبِيُّ فَلَمْ يُكَبِّرْ وَأَجْرَى إِلَيْهِ يَعْقُوبُ بْنُ زَمْعَةَ حَتَّى رَدَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی وادی کے بالائی حصے میں تھے، ہم چاہتے تھے کہ نماز پڑھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہم بھی کھڑے ہوگئے، لیکن اچانک شعبِ ابی دبّ یعنی شعبِ ابی موسیٰ سے ایک گدھا ہماری طرف نکل آیا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اورتکبیر نہ کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یعقوب بن زمعہ کو اس کی طرف دوڑایا حتی کہ ا س نے اسے واپس لوٹا دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ میں ایک وادی کا نام شعب ابی دبّ ہے، آج کل اس کو دَحْلَۃ الجِنّ کہتے ہیں، کسی راوی نے اس گھاٹی کے مقام کی وضاحت کرنے کے لیے شعب ِ ابی موسی کہا ہے، نہ کہ اس لیے کہ عہد نبوی مین یہ اس کا دوسرا نام تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1490
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شعيب لم يدرك عبد الله بن عمرو، أخرجه عبد الرزاق: 2333 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6898)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6898»
حدیث نمبر: 1491
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِلَى جَدْرٍ اتَّخَذَهُ قِبْلَةً فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دیوار کو قبلہ بنا کر انہیں نماز پڑھا رہے تھے، ایک بکر ی کا بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے روکتے رہے اور دیوار کے قریب ہوتے گئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ دیوار کے ساتھ لگ گیا اور وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔
وضاحت:
فوائد: … عام دوسری احادیث سے بھییہی ثابت ہوتا ہے کہ دوران جماعت امام کا سترہ مقتدیوں کا بھی سترہ ہوتا ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے اس مسئلہ کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلا کہ دوران جماعت مقتدی کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے بکری کے بچے کے گزرنے کا یہ مطلب ہوا کہ وہ پہلی صف کے نمازیوں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔
لغت میں بَہْمَۃٌ کا اطلاق بھیڑ کے نر اور مادہ بچے پر ہوتا ہے، لیکن تغلیباً بکری کے بچے کو بھی کہہ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه ابوداود: 708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6852م)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6852»
حدیث نمبر: 1492
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَثَمَّ بَهْمَةٌ أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ تَجَافَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے اور وہاں بکری کا کوئی بچہ ہوتا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرنا چاہتا تو (وہ گزر جاتا)۔آپ (سجدہ میں اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں سے) دور کرلیتے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ اِذَا سَجَدَ جَافٰی بَیْنَیَدَیْہِ حَتّٰی لَوْ اَنَّ بَھْمَۃً اَرَادَتْ اَنْ تَمُرَّ تَحْتَ یَدَیْہِ مَرَّتْ۔)) بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں کے درمیان فاصلہ کرتے، (یعنی ان کو پہلوؤں سے جدا کرتے) حتی کہ اگر کوئی میمناآپ کے سامنے والے حصے کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو وہ گزر جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 496، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26809)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27345»
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَجَعَلَ جَدْيٌ يُرِيدُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ، قَالَ حَجَّاجٌ: يَتَقِيْهِ وَيَتَأَخَّرُ حَتَّى يُرَى وَرَاءَ الْجَدْيِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، بکری کا ایک بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بچنے کے لیے آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ حجاج نے کہا: اس سے بچ رہے تھے اور بچتے بچتے پیچھے ہو گئے، حتی کہ بکری کے بچے کے پیچھے نظر آ نے لگے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والی ہر چیز کو دفع کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے، اس مقصد کے لیے اسے لڑنے، اشارہ کرنے اور نقل و حرکت کی بھی اجازت ہے۔
دیگر نسخوں کو سامنے رکھیں تو مفہوم یہ ہے کہ بکری کا بچہ آپ کے پیچھے سے گزر گیا جیسے کہ حدیث نمبر ۱۴۹۱ میں گزرا ہے۔ (مزید تفصیل دیکھیں: محقق مسند احمد: ۵/۲۵۷) (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 709 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2653، 3174)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3174»