کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان¤اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
حدیث نمبر: 1473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا وَلَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تواپنے سامنے کوئی چیز رکھ لیا کرے، اگر کوئی چیزنہ پائے تو لاٹھی گاڑھ لیا کرے اور لاٹھی اس کے پاس نہ ہو تو اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ لیا کرے، کیونکہ ایسا کرنے کے بعد اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی چیز اسے نقصان نہیں دے سکی گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے نمازی کو اپنے سامنے کوئی چیز رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے، لکیر کھینچنا کفایت نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1473
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لاضطرابه وجھالة راويه ابي محمد بن عمرو بن حريث، أخرجه ابوداود: 690، وابن ماجه: 943 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7392)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7386»
حدیث نمبر: 1474
عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ لِصَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سبرۃ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنی نمازکے لیے سترہ رکھ لیا کرے، اگر چہ وہ تیر ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 278، والطبراني في الكبير : 6542، وابن خزيمة: 810، والحاكم: 1/ 252، والبيھقي: 2/ 270 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15340)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15415»
حدیث نمبر: 1475
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَيَعْرِضُ الْبَعِيرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: سَأَلْتُ نَافِعًا فَقُلْتُ: إِذَا ذَهَبَتِ الْإِبِلُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ ابْنُ عُمَرَ؟ قَالَ: كَانَ يَعْرِضُ مُؤَخَّرَةَ الرَّحْلِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ (وَفِي لَفْظٍ) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ بن نافع ، سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اور قبلہ کے درمیان (یعنی اپنے سامنے) اونٹ بٹھا کرنماز پڑھتے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع سے سوال کیا: جب اونٹ چلا جاتا تو سیّدنا ابن عمر کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: تو وہ اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی رکھ لیتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری کے سامنے ہوتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کا نماز میں اپنے سامنے سترہ رکھنے کا اہتمام تھا، کیا آج اس قسم کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی سنت کو زیادہ اہم یا کم اہم قرار دینے کا دارومدار ہمارے مزاج یا ذہن پر نہیں ہے، بلکہ آیات و احادیث پر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 507، ومسلم: 502 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4468، 6128)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6128»
حدیث نمبر: 1476
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دونوں عیدوں کی نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑدیا جاتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث مبارکہ کا تعلق اگرچہ میدانیا کھلی جگہ سے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب کیسے کشید کر لیا جائے کہ مساجد اور گھروں میں سترے کی ضرورت نہیں ہے، ایک مقام پر ایک سنت کا اہتمام کرنے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ دوسرے مقام پر اس کی اہمیت کم ہو جائے، جبکہ عام حکم بھی موجود ہو اور مساجد کے اندر سترے کا اہتمام کرنے کی احادیث بھی موجود ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 498، 972، ومسلم: 501 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4614، 5840)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5840»
حدیث نمبر: 1477
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مِثْلُ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدِي أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ عَلَيْهِ)) وَقَالَ عُمَرُ مَرَّةً: ((بَيْنَ يَدَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نماز پڑھ رہے ہوتے او ر ہمارے سامنے سے چوپائے گزر جاتے تھے، جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس چیز کا ذکر کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز ہو تو پھر آگے سے گزر جانے والی چیز نقصان نہیں دیتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 499 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1388)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1388»
حدیث نمبر: 1478
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رُكِزَتِ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے برچھی گاڑ دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور گدھا برچھی کے پیچھے سے گزرتا رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1478
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ، أخرجه ابن خزيمة: 840، وأخرج بنحوه الطبراني: 11620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2175) وأخرجه البخاري: 4412، ومسلم: 504 بلفظ آخر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1891)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2175»
حدیث نمبر: 1479
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِالْبَطْحَاءِ) الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ قَدْ أَقَامَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا النَّاسُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ: قِيلَ لَهُ: مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَبْرِي النَّبْلِ وَأَرِيشُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ابطح یا بطحاء میں ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعتیں پڑھائی تھیں۔ آپ کے سامنے وہ برچھی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے کھڑا کیا تھا، اس کے پیچھے سے لوگ، گدھے اور عورتیں گزرتے رہے۔ ایک روایت میں ہے: ان سے پوچھا گیا کہ تم اس وقت کس جیسے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:میں تیر درست کرتا تھا او را س کے پر بناتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 495، 499، 3566، ومسلم: 503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18743، 18746)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18953»
حدیث نمبر: 1480
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہوجائے تاکہ شیطان اس پر اس کی نماز قطع نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں دیا گیا حکم عام ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نماز شیطان کی وجہ سے متأثر ہو گی۔ اس لیے ہر مقام پر سترے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 695،والنسائي: 2/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16090)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16188»
حدیث نمبر: 1481
عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى عَمُودٍ وَلَا عُودٍ وَلَا شَجَرَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَلَا يَصْمُدُ لَهُ صَمْدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی ستون یا لکڑی یا درخت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہو، مگر آپ اسے اپنی دائیں یا بائیں سمت کی طرف کر لیتے او ربالکل اس کے سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس باب کی دوسری احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ نمازی کے سامنے کم از کم اونٹ کی پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہونی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1481
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، الوليد بن كامل لين الحديث، والمھلب بن حجر وضباعة مجھولان، أخرجه ابوداود: 693 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24321»
حدیث نمبر: 1482
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ سَأَلَهُ ابْنُ عُمَرَ عَنْ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ دُخُولِهِ الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کیا کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستون اپنی دائیں طرف، ایک بائیں طرف اورتین اپنے پیچھے کر کے نماز پڑھی تھی، جبکہ قبلہ او رآپ کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سترہ کے قریب ہونے کی مقدار ہے، تین ہاتھ کا فاصلہ ساڑھے چار فٹ کے برابر ہوتا ہے، عام طور پرنماز کے لیے بچھائی جانے والی صفوں کی مقدار بھییہی ہوتی ہے۔ اونٹ کے پالان کی پچھلی لکڑی کی مقدار کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) ایک ہاتھ (ڈیڑھ فٹ) اور (۲) دو تہائی ہاتھ (ایک فٹ)، دوسرا قول زیادہ مشہور ہے۔ سترے کی مقدار کا خلاصہ یہ ہوا کہ وہ اس کی اونچائی کم از کم ایک فٹ ہونی چاہیے، ڈیڑھ فٹ کا اہتمام کرنا زیادہ محتاط عمل ہے، چوڑائی کے بارے میں کوئی قید نہیں، وہ دیوار اور ستون بھی ہو سکتا ہے اور کوئی برچھی اور تیر وغیرہ بھی۔
مذکورہ بالا احادیث سے سترہ کی اہمیت واضح ہو رہی ہے، مزید احادیث و اقوال یہ ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تُصَلِّ اِلَّا اِلٰی سُتْرَۃٍ، وَلَاتَدَعْ اَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَیَدَیْکَ، فَاِنْ اَبٰی فَلْتُقَاتِلْہُ فَاِنَّ مَعَہُ الْقَرِیْنَ۔)) یعنی: تو نماز ادا نہ کر مگر سترہ کی طرف اور کسی کو سامنے سے نہ گزرنے
دے، اگر کوئی رکنے سے انکار کرتا ہے تو اس سے لڑائی کر، کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہے۔ (صحیح مسلم، مستدرک حاکم، صحیح ابن خزیمہ واللفظ لہ) سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ فَلْیُصَلِّ اِلٰی سُتْرَۃٍ وَلْیَدْنُ مِنْھَا، …۔)) یعنی: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔ (ابو داود، ابن ماجہ) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((لَقَدْ رَاَیْتُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَبْتَدِرُوْنَ السَّوَارِیَ عِنْدَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَھُمْ کَذَالِکَ یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔)) یعنی: میں صحابہ کو دیکھتا کہ وہ مغرب کے وقت (اذان ِ مغرب کے بعد نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھنے کے لیے) ستونوں کی طرف لپکتے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آتے۔ اور ایک روایت میں ہے: (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو) وہ مغرب سے پہلے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری) قرہ بن ایاس تابعی کہتے ہیں: میں دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا تھا، جب سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے میری گدی سے پکڑا اور مجھے سترے کے قریب کر کے کہا: اس کی طرف نماز پڑھا کرو۔ (صحیح بخاری معلقا، مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کوئی آدمی نماز پڑھے تو وہ سترے کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے، تاکہ اس کے سامنے سے شیطان نہ گزرتا رہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: چار چیزیں اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہیں: (۱) آدمی کا سترے کے بغیر نماز پڑھنا، …۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، بیہقی) جناب ِ نافع تابعی کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ستونوں تک نہ پہنچ پاتے تو مجھے کہتے: اپنی پیٹھ میری طرف پھیر کر (میرے سامنے ہو جاؤ)۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) ان دلائل اور آثار کے باوجود اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اس سنت سے غافل ہے، قارئین کو ان دلائل کی روشنی میں اپنے کیے کا جائزہ لے لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 505 ، ومسلم: 1329 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4891، 5927) ۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24391»