حدیث نمبر: 1463
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى نَاقَتِهِ تَطَوُّعًا فِي السَّفَرِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر قبلے کے علاوہ دوسری طرف رخ کر کے نفلی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1464
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ خَلَّى عَنْ رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو ایک دفعہ قبلہ رخ ہو کر نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی سواری کوچھوڑ دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جاری رکھتے، سواری جس طرف مرضی رخ کر لیتی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو تکبیر تحریمہ کہتے وقت ایک دفعہ قبلہ رخ ہو جانا چاہیے، اس کے بعد سفر کی نوعیت کے مطابق قبلہ سے رخ پھیر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1465
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ فِي التَّطَوُّعِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ، يُوْمِئُ إِيمَاءً، وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری او ر سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ لیتے تھے۔ وہ جس طرف مرضی رخ کر لیتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود کے لیے اشارہ کرتے تھے او ر رکوع کی بہ نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھک جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 1466
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ سواری کا منہ مشرق کی طرف تھا، آپ اشارے کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتے اور رکوع کی بہ نسبت سجدے کے لیے زیادہ جھکتے تھے، میں نے آ کر سلام کہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: فلاں فلاں کام کا کیا بنا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اگر مدینہ منورہ میں مشرق کی طرف منہ کیا جائے تو نمازی کی دائیں جانب کعبہ کی طرف ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1467
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُقْبِلًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، وَفِيهِ نَزَلَتْ: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، سواری جدھر مرضی رخ کر لیتی تھی،یہ آیت اسی مسئلے کے بارے نازل ہوئی: {أَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ} (تم جس طرف بھی منہ کرواللہ کا چہرہ وہاں ہی ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں بیان کردہ صورت میں غالب اوقات یا پوری نماز میں کعبہ کی طرف نمازی کی پشت رہے گی۔
حدیث نمبر: 1468
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُوَجَّهٌ (وَفِي رِوَايَةٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ) إِلَى خَيْبَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن عمر سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ خیبر کی طرف تھا۔
وضاحت:
فوائد: … خیبر مشرق کی سمت میں پڑتا تھا، جیسا کہ اس حدیث کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ خیبریعنی مشرق کی طرف تھا۔ (مسند احمد: ۵۲۰۶)
حدیث نمبر: 1469
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ التَّطَوُّعَ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سواری پر نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جس طرف بھی اس کا رخ ہو جاتا۔ جب میں نے ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 1470
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِيْنَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ تُصَلِّي إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ؟ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ مَا فَعَلْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
انس بن سیرین کہتے ہیں: جب سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے،تو ہم انہیں عین التمر مقام پر ملے، ہم نے دیکھا کہ وہ ا پنی سواری پر غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھ رہے تھے، پس ہم نے ان سے کہا: آپ غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی ایسے نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 1471
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواری کی پیٹھ پر ہر جہت کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … عین التمر مقام،شام کے ساتھ ملا ہوا عراق کے راستے پر پڑتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے فرضی اور نفلی نماز میں قبلہ رخ ہونے کا اہتمام کیا جائے گا، مذکورہ بالا احادیث میں سواری جیسے عذر کی بنا پر نفلی نماز کے لیے قبلہ رخ ہونے کے معاملے میں ایک رخصت دی گئی ہے۔ البتہ حدیث نمبر (۴۳۵) سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازی کو تکبیر تحریمہ کہتے وقت ایک دفعہ قبلہ رخ ہو جانا چاہیے، اس کے بعد سفر کی نوعیت کے مطابق قبلہ سے رخ پھیر لینے میں کوئی حرج نہیں، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ یہ رخصت سفر و حضر کے لیے عام ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ آرام دہ سفر اور گاڑیاں ہونے کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سنت پر عمل نہیں کیا جاتا، بلکہ اکثریت کو دوران سفر موسیقی اور فحش گانے سننے یا گندی اور حیا باختہ فلمیں دیکھنےیا گپ شپ لگانے کا نشہ کی حد تک شوق ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے مہربان نبی کی اطاعت و فرمانبرداری کا اہتمام کرنا چاہیے۔