حدیث نمبر: 1458
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَجَلَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْبَيْتِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ كَبَّرَ وَهَلَّلَ وَدَعَا ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: ((هَٰذِهِ الْقِبْلَةُ، هَٰذِهِ الْقِبْلَةُ)) مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اورتکبیر و تہلیل بیان کی،پھر اپنے سامنے والے بیت اللہ کے حصے کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنا سینہ ، رخسار اور ہاتھ اس پر رکھ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تہلیل بیان کی اور دعا بھی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام کونوں میں یہی عمل کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دو یا تین مرتبہ فرمایا: یہی قبلہ ہے،یہی قبلہ ہے۔
حدیث نمبر: 1459
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسِ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِالدُّخُولِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْقِبْلَةِ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ: ((هَٰذِهِ الْقِبْلَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھاکہ کیاآپ نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ تمہیں صرف بیت اللہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ اس میں داخل ہونے کا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس میں داخل ہونے سے منع تو نہیں کرتے تھے، البتہ میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا: سیّدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے سارے کونوں میں دعا کی اور نماز نہیں پڑھی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے،باہر نکل کرقبلہ کے سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: یہ قبلہ ہے۔
حدیث نمبر: 1460
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلَالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يَقُولُ: لَمْ يُصَلِّ فِيهِ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی۔ انھوں نے کہا: سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تو یہ بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی تھی،البتہ اس کے مختلف کونوں میں تکبیر کہی (اللہ کی بڑائی بیان کی) تھی۔
حدیث نمبر: 1461
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَ بِلَالًا هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی تھیں۔
حدیث نمبر: 1462
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَاهَكَ حِينَ تَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور ان دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی، جو تیرے داخل ہوتے وقت تیرے سامنے پڑتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عام قارئین کے لیے درج بالا احادیث میں تناقض پایا جا رہا ہے، کیونکہ سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی، لیکن سیّدنا بلال اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے۔ اس میں حقیقت میں تضاد کی کوئی صورت نہیں پائی جا رہی، محدثین کااس امر پر اتفاق ہے کہ اس باب میں سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہی لیا جائے گا، کیونکہ ان کے پاس زیادہ علم ہے اور ان کی حدیث مثبت ہے، جس کو نفی والی حدیث پر مقدّم کیا جاتا ہے۔ پورے واقعہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام نے بیت اللہ میںداخل ہو کر دراوزہ بند کر دیا تھا اور ہر کوئی دعا میں مصروف ہو گیا تھا، اس لیے ممکن ہے کہ سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے نہ دیکھا ہو اور سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا ہو۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ دو علیحدہ علیحدہ واقعات ہیں، جیسا امام ابن حبان نے کہا: میرے نزدیک راجح بات یہ ہے کہ ان دو احادیث کا تعلق دو مختلف واقعات سے ہے، فتح مکہ کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو نماز پڑھی، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر داخل تو ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (تلخیص از صحیح ابن حبان: ۷/ ۴۸۳) تطبیق کے بعد معلوم ہوا کہ کعبہ کی عمارت کے اندر فرضی اور نفلی دونوں نمازیں پڑھنا جائز ہیں، امام احمد اور امام ابوحنیفہ سمیت جمہوراہل علم کا یہی خیال ہے، کیونکہ ایسی غیر اضطراری صورت میں نفل اور فرض دونوں نمازوں کے لیے قبلہ کا ایک حکم ہے۔