کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سونے والے کپڑے اور عورتوں کی شمیزوں میں نماز پڑھنے کا بیان اور چھوٹے بچے کے کپڑے کا حکم
حدیث نمبر: 1445
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يَنَامُ مَعَكِ فِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے، جس میں آپ کے ساتھ سوتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، لیکن جب تک اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 366، والنسائي: 1/ 155، وابن ماجه: 540 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27404، 26760)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27296»
حدیث نمبر: 1446
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أُصَلِّي فِي ثَوْبِي الَّذِي آتِي فِيهِ أَهْلِي؟ قَالَ: ((نَعَمْ، إِلَّا أَنْ تَرَى فِيهِ شَيْئًا تَغْسِلُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پو چھا: کیا میں اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں جس میں اپنی بیوی کے پاس آتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اگر تو اس میں کوئی(گندگی والی ) چیز دیکھے تو اسے دھو لیا کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1446
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، الا انه اختلف في رفع ھذا الحديث ووقفه، ومال الامام احمد وابو حاتم الي وقفه، وصححه مرفوعا ابن حبان والبوصيري۔ أخرجه ابن ماجه: 542 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20825)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21110»
حدیث نمبر: 1447
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ قَالَ: ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا، قَالَ بِشْرٌ: هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن سرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتایا گیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری شمیزوں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایک راوی بشر کہتے ہیں کہ یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ وہ کپڑا ہے جسے قمیص کے نیچے پہنا جاتا ہے سے مراد وہ لباس ہے جو بدن کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے، اس کو تحتانی لباس کہتے ہیں، ہمارے ہاں عام طور پر عورتوں کے ایسے کپڑے کو شمیز کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1447
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، وھذا اسناد فيه انقطاع، أخرجه ابوداود: 368، والترمذي: 600، والنسائي: 8/ 217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24698)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25205»
حدیث نمبر: 1448
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ أَوْ أُمَيْمَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ بِنْتُ زَيْنَبَ يَحْمِلُهَا إِذَا قَامَ وَيَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ حَتَّى فَرَغَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امامۃیا امیمہ بنت ابی العاص کو اٹھائے ہوئے دیکھا،یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھی، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھالیتے تھے اور جب رکوع کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے حتی کہ آپ نماز سے فارغ ہوجاتے ۔
وضاحت:
فوائد: … آخری حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران نماز اپنی نواسی کو اٹھائے رکھا، یہ فرضی نماز کا واقعہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس عمل کا تعلق جواز سے ہے۔ یہ تمام دعوے اور تاویلیں باطل ہیں کہ یہ رخصت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص تھی،یا منسوخ ہو چکی ہے، یا اس کا تعلق نفلی نماز سے ہے۔ مزید اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچے کے جسم اور کپڑے کو پاک ہی سمجھا جائے گا، جب تک نجاست کے اثرات واضح نہ ہو جائیںیایقینی طور پر علم نہ ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امہات المؤمنین کے تحتانی لباس میں نماز نہ پڑھنا، علامہ عظیم آبادی نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ عورتوں کے ان کپڑوں سے اجتناب کرنا چاہیے، جن کے بارے میں پلید ہو جانے کاخطرہ ہو اور یہی حکم باقی کپڑوں کا ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۳۳۶) امام ابوداود نے یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد یہ باب قائم کیا ہے: باب الرخصۃ فی ذلک اور اس مین یہ حدیث ذکر کی ہے: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چادر پہن کر نماز پڑھتے، جبکہ اس کا کچھ حصہ آپ کی کسی حائضہ بیوی پر ہوتا تھا۔ (ابوداود: ۳۶۹، ابن اجہ: ۶۵۳) لیکن اس حدیث سے رخصت کی گنجائش نکالنا محل نظر ہے، کیونکہ عورت کا لباس زیب تن کرنا اور بات ہے اور خاوند کے لباس کے بعض حصے کا اس کی بیوی سے لگ جانا اور اس پر پڑ جانا اور بات ہے۔ شرعی نصوص کی روشنی میں اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ نجس کپڑا زیب تن کرنا منع ہے، اسی طرح مرد حضرات اس لباس سے بھی گریز کریں گے، جو عورتوں کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طبعی طور پر امہات المؤمنین کا تحتانی لباس نہ پہنتے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 516، ومسلم: 543 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22519، 22524)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22886»