حدیث نمبر: 1426
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، آپ (سلام پھیرنے کے بعد کبھی) دائیں طرف سے پھرتے تھے اور کبھی بائیں طرف سے، آپ ننگے پاؤں بھی نماز پڑھ لیتے تھے اور جوتا پہن کربھی، نیز میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی پی لیا کرتے تھے اور بیٹھ کر بھی۔
حدیث نمبر: 1427
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟)) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا، فَإِنْ رَأَى بِهِمَا خَبَثًا فَلْيَمْسَحْهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ لْيُصَلِّ فِيهِمَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک آپ نے جوتے اتار دیے،یہ دیکھ کر مقتدی لوگوں نے بھی جوتے اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے پوچھا: تم نے جوتے کیوں اتارے؟ لوگوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو جبریل علیہ السلام آئے تھے اورانہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ نجاست لگی ہوئی ہے (اس لیے میں نے جوتے اتار دیئے تھے)۔ (اب اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ) جب کوئی آدمی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے الٹا کر ان کو دیکھ لے، اگر ان میں کوئی گندگی دیکھے تو اسے زمین کے ساتھ (رگڑ کر) صاف کر لے، اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 1428
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مسلمہ سعید بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
حدیث نمبر: 1429
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کراوربیٹھ کراورننگے پاؤں اور جوتا پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … کھڑے ہو کریا بیٹھ کر نماز پڑھنا، اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفلی نماز پر محمول کرنا چاہیے، کیونکہ دونوں حالتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برابر اجر ملتا تھا۔ اگر فرضی نماز کو بھی اس حدیث کا مصداق بنایا جائے تو بیٹھ کر نماز ادا کرنا عذر کی بنا پر ہوتا ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 1430
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ، قَالَ: فَتَنَخَّمَ فَتَفَلَهُ تَحْتَ نَعْلِهِ الْيُسْرَى، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُهُ حَكَّهَا بِنَعْلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو العلا بن شخیر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ کو کھنکار آیا تو آپ نے اسے اپنے بائیں جوتے کے نیچے تھوک دیا، پھر اس کو اپنے جوتوں کے ساتھ رگڑ دیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیں جوتے سے اس کو رگڑ دیا۔
حدیث نمبر: 1431
عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا وَعَلَيْهِمْ نِعَالُهُمْ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ وَرَبِّ هَٰذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى هَٰذَا الْمَقَامِ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ وَانْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ (وَفِي رِوَايَةٍ): رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو الأوبر کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ ہیں جو لوگوں کو جوتوں میں نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں؟ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں، بلکہ اس حرم کے رب کی قسم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوتے پہن کر اس مقام کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تھے تو جوتے پہنے ہوئے تھے۔ (مزید غور کرو کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرما دیا إلاّیہ کہ دوسرے دنوں میں آ جائے۔ اورایک روایت میں ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتوں میں نماز پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … الا یہ کہ وہ دوسرے دنوں میں آجائے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی قسم کے روزے رکھ رہا ہو اور بیچ میں جمعہ کا دن آجائے تو اس کا روزہ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں، مقصودِ احادیثیہ ہے کہ صرف جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1432
عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ غُلَامٍ مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ أَنَّهُ أَدْرَكَهُ شَيْخًا أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقُبَاءٍ فَجَلَسَ فِي فَيْءِ الْأَحْمَرِ (وَفِي رِوَايَةٍ فِي فِنَاءِ الْأَجْمِ) وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَاسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسُقِيَ فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَحَفِظْتُ أَنَّهُ صَلَّى بِنَا يَوْمَئِذٍ الصَّلَاةَ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ لَمْ يَنْزَعْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجمع بن یعقوب اہل قبا کے ایک ایسے لڑکے سے بیان کرتے ہیں، جس کوانہوں نے بڑھاپے کی حالت میں پایا تھا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس قبا میں آئے تو گھنے درختوں کے سائے میں بیٹھ گئے اور لوگ بھی آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا، پس آپ کو پانی دے دیا گیا اور آپ نے پی لیا۔ میں آپ کی دائیں طرف تھا اور میں لوگوں میں نو عمرلڑکا تھا، پھر آپ نے (پیالہ) مجھے پکڑا دیا اور میں نے بھی اس سے پانی پیا۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تھی، جبکہ آپ نے جوتے پہنے ہوئے تھے اور انہیں اتارا نہیں تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث میں موجود بریکٹ والی عبارت کو سامنے رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے جیسے کہ فوائد کے ضمن میں وضاحت موجود ہے۔
حدیث نمبر: 1433
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ: مَا أَدْرَكْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ وَهُوَ غُلَامٌ حَدِيثٌ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِنَا يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، قَالَ: فَجِئْنَا فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ وَجَلَسَ إِلَيْهِ النَّاسُ، قَالَ: فَجَلَسَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَجْلِسَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) محمد بن اسماعیل سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن ابی حبیبہ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا (علمی چیز) حاصل کی؟ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے تھے تو اس وقت یہ نو عمر لڑکے تھے، بہرحال انہوں نے جواب دیا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہماری مسجد یعنی مسجد قبا میں تشریف لائے ، ہم بھی آکر آپ کے پاس بیٹھ گئے اور دوسرے لوگ بھی پہنچ گئے۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا آپ بیٹھے رہے، پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ جوتوں میں نماز پڑھ رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درختوں کے سائے میں بیٹھے تھے، جبکہ دوسری روایت کے مطابق آپ مسجد میں جلوہ افروز ہوئے؟ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے سائے میں ہی بیٹھے ہوں، پھر پانی پی کر مسجد میں جا کر بیٹھ گئے ہوں۔ پہلی روایت میں فِیْ فَیْئِ الْاَحْمَر کی بجائے فِیْ فِنَائِ الْأَجْم کے الفاظ زیادہ واضح اور ظاہر ہیں، اول اذکر الفاظ کا کوئی معنی سمجھ نہیں آ رہا۔ اور لفظ الأجم کو تین طرح سے پڑھا جا سکتا ہے: (۱) … ’ ’الأَجْم، اس کے معانی چھت والے گھر کے ہیں، اور فِنَائ کے معانی صحن اور فَیْئ کے معانی سائے کے ہیں۔
(۲) … الأُجُم، اس کے معانی محل یا قلعہ کے ہیں۔
(۳) … الأَجَم، یہ الأَجَمَۃ کی جمع ہے، اس کے معانی گھنے اور گنجان درختوں کے ہیں۔
(۲) … الأُجُم، اس کے معانی محل یا قلعہ کے ہیں۔
(۳) … الأَجَم، یہ الأَجَمَۃ کی جمع ہے، اس کے معانی گھنے اور گنجان درختوں کے ہیں۔
حدیث نمبر: 1434
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں اور جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔
حدیث نمبر: 1435
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ جَدُّهُ أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ كَانَ يُصَلِّي وَيُوْمِئُ إِلَى نَعْلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَأْخُذُهُمَا فَيَنْتَعِلُهُمَا وَيُصَلِّي فِيهِمَا، وَيَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نعمان بن سالم ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا اوس بن ابی اوس نماز پڑ ھتے اور نماز میں ہی اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کرتے پھر انہیں پکڑ لیتے اور پہن کر نماز پڑھتے اور کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1436
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ هَٰذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي ثَلَاثَ مِرَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن نماز پڑھی اور اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں طرف رکھ دیئے۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث تین مرتبہ سنی تھی۔