کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان جگہوں کا بیان جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا اور جن میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے
حدیث نمبر: 1419
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ الْأَرْضِ مَسْجِدٌ وَطَهُورٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبرستان اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے اور پاک کرنے والی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ممکنہ صورت میں فرضی نماز مساجد میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بصورت دیگر چند مخصوص مقامات کے علاوہ ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا ہے، جبکہ سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں ہی پہنچ کر نماز ادا کریں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے ((اُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَھُنَّ اَحَدٌ قَبْلِیْ: … وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَھُوْرًا …)) پر بحث کرتے ہوئے کہا: زیادہ راجح قول خطابی کا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل لوگوں کے لیے صرف مخصوص عبادت خانوں میں نماز ادا کرنا جائز تھا، جیسے کلیسا اور گرجا گھر وغیرہ، اس کی تائید عمرو بن شعیب والی روایت سے ہوتی ہے، جس مین یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ فِیْ کَنَائِسِھِمْ)) (اور مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے) اور بزار کی روایت کردہ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْاَنْبِیَائِ اَحَدٌ یُصَلِّیْ حَتّٰییَبْلُغَ مِحْرَابَہٗ۔)) (اور (مجھسےقبل) کوئی نبی ایسا نہیں تھا جو اپنے محراب میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھتا ہو)۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۷۶)
حمام کے معانی گرم پانی کے ہیں، لیکن بعد میں اس لفظ کو جائے غسل کے لیے استعمال کیا جانے لگا، اگرچہ غسل گرم پانی سے کیا جائے یا ٹھنڈے پانی سے۔ اس ضمن میں درج ذیل روایت ذہن نشین رہنی چاہیے: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع کیا: کوڑا خانہ، ذبح خانہ، مقبرہ، گزر گاہ، حمام، اونٹ کا باڑہ، بیت اللہ کی چھت۔ (ترمذی، ابن ماجہ) لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی تفصیل اور وجہ آگے آ رہی ہے۔ اَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ میں بَابُ النَّہْیِ عَنْ أِتِّخَاذِ قُبُوْرِ الْأَنْبِیَائِ وَالصَّالِحِیْنَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّکِ وَالتَّعْظِیْم، میں قبرکو جائے نماز بنانے سے متعلقہ بعض احادیث گزر چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1419
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، أخرجه ابوداود: 492، و الترمذي: 317 ، وابن ماجه: 745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11784، 11788)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11806»
حدیث نمبر: 1420
عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا (وَفِي لَفْظٍ) لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قبروں کی طرف نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: قبروں پر بیٹھو نہ ان پر نماز پڑھو۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ قبر پر بیٹھا جائے، نہ اس پر یا اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1420
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 972 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17216)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17348»
حدیث نمبر: 1421
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اونٹوں اور گائیوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1421
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6658)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6658»
حدیث نمبر: 1422
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ پاؤ تو بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کرو اور اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1422
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 348، وابن ماجه: 768، 795، وابن حبان: 1384 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9825، 10365)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10370»
حدیث نمبر: 1423
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَعْقُوبُ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1423
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 770 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15341)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15416»
حدیث نمبر: 1424
عَنِ ابْنِ مُغَفَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتُمْ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَصَلُّوا، وَإِذَا حَضَرَتْ وَأَنْتُمْ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَلَا تُصَلُّوا، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے اور تم بکریوں کے باڑوں میں ہو تو نماز پڑھ لیا کرو، لیکن جب نماز حاضر ہو جائے اور تم اونٹوں کے باڑوں میں ہو تو وہاں نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطانوں سے پیدا کیے گئے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اونٹوں کو شیطانوں سے پیدا کیا گیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے مزاج میں نفرت اور سرکشی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نماز خراب ہو سکتی ہے یا نمازی کا نقصان ہو سکتا ہے، عرب لوگ ہر سرکش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1424
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 769، والنسائي: 2/ 56 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20815»
حدیث نمبر: 1425
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تُصَلُّوا فِي عُطُنِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الْجِنِّ خُلِقَتْ، أَلَا تَرَوْنَ عُيُونَهَا وَهِبَابَهَا إِذَا نَفَرَتْ، وَصَلُّوا فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ فَإِنَّهَا هِيَ أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنوں سے پیدا کیے گئے ہیں، جب یہ بدکتے ہیں تو کیا تم ان کی آنکھیں اور ہوشیاری نہیں دیکھتے۔ البتہ بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اِن احادیث میں بکریوںکے باڑے میں نماز پڑھنے اور اونٹوں کے باڑے میں نہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس فرق کی وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے۔ یہ بات درست نہیں کہ اونٹوں کے باڑوں میں ان کے پیشاب اور لید کے نجس ہونے کی وجہ سے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اگر یہ وجہ درست ہوتی تو بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھنے سے روک دیا جاتا، کیونکہ دونوں کے پیشاب وغیرہ کا ایک حکم ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس علت کی وضاحت فرما دی ہے کہ اونٹوں کے مزاج میں شیطنت اور شرارت پائی جاتی ہے، اس لیے نمازی کو یہ حکم دیا گیا، تاکہ وہ متوقع نقصان سے بچ سکے۔ یہ رحمت کے زیادہ قریب ہیں کا مفہوم یہ ہے کہ اونٹوں کے برعکس اس جانور کے مزاج میں کمزوری اور نرمی پائی جاتی ہے، نمازی کو اس سے کوئی تشویش نہیں ہوتی۔ مزید درج ذیل احادیث ِ مبارکہ پر غور کریں: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْ مُرَاحِ الْغَنَمِ، وَامْسَحُوْا رُغَامَھَا، فَإِنَّھَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھا کرو اور ان کی رینٹ صاف کیا کرو، کیونکہیہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔ (بیہقی: ۲/ ۴۴۹، بزار: ۴۹، صحیحہ: ۱۱۲۸)
سیّدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلُّوْا فِیْھَا فَاِنَّھَا بَرَکَۃٌ۔)) یعنی: ان میں نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ ان میں برکت ہے۔ (ابوداود: ۱۸۴، ترمذی: ۸۱، ابن ماجہ: ۴۹۴)
علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ بکریوں میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ نہیں پایا جاتا، بلکہ ان کے مزاج میں ضعف اور سکینت ہوتی ہے، وہ نمازی کو تکلیف دیتی ہیں نہ اس کی نماز منقطع کرتی ہیں، بلکہ یہ برکت والی ہوتی ہیں، اس لیے ان کے باڑوں میں نماز پڑھنی چاہیے۔ (عون المعبود: ۱/۱۲۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1425
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الشافعي: 1/ 67، والبيھقي: 2/ 449 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20557)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20831»