کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ااشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ اور ایک کپڑے میں گوٹھ مانے کی کراہیت کا بیان
حدیث نمبر: 1417
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ: الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو حالتوں سے منع فرمایا: بولی بکّل مارنے سے اور آدمی کے کپڑے کے ساتھ اس طرح گوٹھ مارنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر اس میں سے کچھ نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔ جبکہ فقہاء نے کہا: آدمی اپنے جسم پر کپڑا لپیٹے اور پھر اس کا ایک کنارہ اٹھا کر کندھے پر رکھ دے اور اس طرح اس کی شرم گاہ ننگی ہونے لگے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۲۹) سنن ابی داود (۴۰۸۰) کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو قسموں سے منع کیا ہے: آدمی کا اس طرح گوٹھ مارنا کہ اوپر سے اس کی شرمگاہ ننگی ہو رہی ہو اور اس طرح کپڑا پہننا کہ ایک جانب ننگی رہ جائے اور کپڑا کندھے پر ڈال دے۔ اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تعریف، فقہاء کی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: لفظ صَمّائ کو سامنے رکھا جائے تو اس معنی کی گنجائش نہیں ملتی، اصمعی کا بیان کردہ معنی اس لفظ کے زیادہ قریب ہے، وہ کہتے ہیں: آدمی کا ایک کپڑے سے اپنا سارا جسم اس طرح ڈھانپ لینا کہ ہاتھ نکالنے کے لیے بھی کوئی سوراخ نہ بچے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے موذی چیزوں سے دفاع نہ کر سکے۔ (عون المعبود: ۱/ ۱۱۲۲) حبوہ (گوٹھ مارنا): سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد سہارا لینے کے لیے دونوں ہاتھ باندھ لینایا کمر اور گھٹنوں کے گردکپڑا باندھنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس انداز میں بیٹھ جایاکرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں بیٹھنا جائز ہے، بشرطیکہ بیٹھنے والا ننگا نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1417
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4080 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8949) وأخرج مثله البخاري: 368، 584 ۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9425»
حدیث نمبر: 1418
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔
وضاحت:
فوائد: … اشتمال الصمائ اور گوٹھ مارنے کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ بائیں ہاتھ سے کھانے اور ایک جوتے میں چلنے سے منع کیا گیا، کیونکہیہ دونوں شیطان کی عادتیں ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لِیَأْکُلْ أَحَدُکُمْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیَشْرَبْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیَأْخُذْ بِیَمِیْنِہٖ، وَلْیُعْطِ بِیَمِیْنِہٖ، فَإِنَّ الشَّیْطَانُیَأْکُلُ بِشِمَالِہٖ،وَیَشْرَبُ بِشِمَالِہٖ،وَیُعْطِیْ بِشِمَالِہٖ،وَیَأْخُذُ بِشِمَالِہٖ۔)) یعنی: ہر کوئی دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں سے پئے، دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے ہی دے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲/۳۰۳، احمد: ۲/۳۲۵/ ۳۴۹، صحیحہ: ۱۲۳۶)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَمْشِيْ فِيْ النَّعْلِ الْوَاحِدَۃِ۔)) یعنی: بیشک شیطان ایک جوتا پہن کر چلتا ہے۔ (مشکل الآثار للطحاوی: ۲/۱۴۲، الصحیحۃ: ۳۴۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14118)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14917»