کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان¤اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
حدیث نمبر: 1410
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ بْنِ بَقِيَّةَ قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ كُنَّا نَفْعَلُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ إِذَا كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ، فَأَمَّا إِذْ وَسَّعَ اللَّهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نضرہ بن بقیہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا کرتے تھے اور ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن یہ لباس اس وقت تھا جب کپڑوں میں قلت تھی، اب اگر اللہ نے وسعت کر دی ہے تو دوکپڑوں میں نماز ادا کرنا زیادہ پاکیزگی والا ہے۔
حدیث نمبر: 1411
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحٍ بِهِ مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یقینا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے وقت حضر می چادرلپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے علاوہ آپ پر اور (کوئی کپڑا) نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 1412
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: ((أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی اور پوچھا: کیا کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: کیا بھلا ہر ایک کے پاس دو دو کپڑے ہیں؟
حدیث نمبر: 1413
(زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَثِيَابُهُ عَلَى الْمِشْجَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو ابو ہریرہ کو پہچانتا ہے کہ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہے حالانکہ اس کے مزید کپڑے کھونٹی (ہینگر) پر لٹکے ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ ہے کہ دوسرے کپڑے کی موجودگی میں بھی ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1414
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا لَمْ يَكُنْ لِلرَّجُلِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَزَرَّ بِهِ ثُمَّ لْيُصَلِّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ ذَلِكَ، وَيَقُولُ: لَا تَلْتَحِفُوا بِالثَّوْبِ إِذَا كَانَ وَحْدَهُ كَمَا تَفْعَلُ الْيَهُودُ، قَالَ نَافِعٌ: وَلَوْ قُلْتُ لَكَ إِنَّهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَرَجَوْتُ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: جب آدمی کے پاس صرف ایک ہی کپڑا ہو تو وہ اسے ازار بنا کر نماز پڑھ لیا کرے، کیونکہ میں نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا تھا۔ اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جب ایک ہی کپڑا ہو تو اس سے اس طرح التحاف نہ کیا کرو، جس طرح کہ یہودی کرتے ہیں۔ نافع کہتے ہیں: اگر میں یہ کہہ دوں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا تو مجھے امید ہے کہ جھوٹا نہیں قرار پاؤں گا۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی دوسری روایت (۶۳۵۶) کے الفاظ یہ ہیں: انھوں نے کہا: لَایَشْتَمِلْ اَحَدُکُمْ فِیْ الصَّلَاۃِ اِشْتِمَالَ الْیَھُوْدِ، لِیَتَوَشَّحْ، مَنْ کَانَ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ وَلْیَرْتَدْ، وَمَنْ لَّمْ یَکُنْ لَہٗثَوْبَانِفَلْیَأْتَزِرْ، ثُمَّ لِیُصَلِّ۔ یعنی: کوئی آدمی نماز مین یہودیوں کی طرح چادر نہ لپیٹا کرے، البتہ توشیح کر لیا کرے، جس کے پاس دو کپڑے ہوں تو وہ ایک سے ازار بنا لے اور ایک سے اوپر والی چادر، اور جس کے پاس دو کپڑے نہ ہوں تو وہ صرف ازارباندھ کر نماز پڑھ لیا کرے۔ (یہودیوں کی طرح لپیٹنے سے مراد یہ ہے کہ ایک کپڑے کو یوں لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔)
توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
حدیث نمبر: 1415
عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ: ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحٌ بِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: الْمَكْتُوبَةَ وَغَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں توشیح کر کے نماز پڑھتے تھے۔ بعض لوگوں نے ابو زبیر سے پوچھا کہ کیا فرض نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: فرض اور غیر فرض دونوں نمازیں پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کندھے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔
حدیث نمبر: 1416
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ؟ قَالَ: ((فَزُرَّهُ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! چونکہ میں شکار میں ہوتا ہوں، تو کیا میں صرف قمیص میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (پڑھ سکتے ہو لیکن) اس کو بٹن لگا لو، اگرچہ کانٹے کے علاوہ اورکچھ نہ ملے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر نمازی نے صرف قمیص پہنی ہوئی تو اسے چاہیے کہ بٹن وغیرہ کے ذریعے اس کو اوپر سے بند کر لے، وگرنہ اوپر سے ستر ننگے ہونے کا خطرہ ہو گا۔
ننگے سر نماز پڑھنا
ہمارے ہاں نماز میں سر ننگا رکھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور بسااوقات تو ایسے نمازی کی مخالفت کرنے کے لیے جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے۔ بہرحال شریعت کا اپنا مزاج اور پابندیاں ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل بحث پر غور کریں۔
مردوزن کے نماز کے لباس کے بارے میںدرج بالا ابواب میں کئی روایات گزر چکی ہیں، کسی ایک حدیث میں بھی مرد کے لیے سر ڈھانپنے کو نماز کا لباس نہیں قرار دیا گیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور کئی صحابہ سے ننگے سر نماز پڑھنا ثابت ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تـُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ۔)) یعنی: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔ (ابوداود: ۶۴۱، وتقدم فی ھذ المسند) اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ سر کو ڈھانپنے کی قید عورت کے لیے ہے، مرد کی سر ننگے نماز ہو جاتی ہے۔
بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت کپڑوں میں تنگی تھی، اب وسعت کے زمانے میں سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں بعض مواقع پر بے شمار مال و دولت جمع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں بعض صحابہ کرام امیر تھے، تیسری بات جو اہم ہے کہ اگر سر کو ڈھناپنا ضروری ہوتا تو شریعت میں اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ صحابہ کرام کے ادوار میںیقینا بہت مال و دولت جمع ہو گیا تھا۔ لیکن سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ پھر ایک آدمی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کا سوال کیا، آپ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کر دی ہے تو تم بھی وسعت سے کام لو، یعنی آدمی ازار اور چادر میںیا ازار اور قمیص میںیا ازار اور چوغے میں،یا شلوار اور چادر میں،یا شلواور قمیص میں،یا شلوار اور چوغے میںیا نیکر اور چوغے میںیا نیکر اور قمیص میں نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۵) معلوم ہوا کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وسعت کے زمانے میں بھی سر کو ڈھانپنا نماز کا لباس نہیں سمجھا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پگڑی باندھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اورشریف و معزز لوگوں نے اسی لباس کو اختیار کیا ہے، لیکن نماز میں اس کا اہتمام کرنے یا نہ کرنے سے نماز کے اجرو ثواب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ قارئین کو یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف ملبوسات پہننا ثابت ہیں، لیکن ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو نماز کے لیے ضروری سمجھ لیا جائے،مثلا موزے پہننا اور ان میںنماز پڑھنا۔
سیدسابق نے کہا: احناف کے نزدیک ننگے سر آدمی کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ وہ خشوع کی خاطر ننگے سر نماز پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں، بہرحال کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے، جو نماز میں سر ڈھانپنے کی افضیلت پر دلالت کرے۔ (فقہ السنہ: ۱/ ۴۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سر ڈھانپنا نماز کے لباس میں سے نہیں ہے، اس لیے لوگوں کو خواہ مخواہ کی تنگیوں میں نہیں ڈالنا چاہیے، اور مسجدوں کو میل کچیل سے بھری ہوئی پلاسٹک وغیرہ کی بنی ہوئی ٹوپیوں سے پاک رکھنا چاہیے۔
ننگے سر نماز پڑھنا
ہمارے ہاں نماز میں سر ننگا رکھنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور بسااوقات تو ایسے نمازی کی مخالفت کرنے کے لیے جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے۔ بہرحال شریعت کا اپنا مزاج اور پابندیاں ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل بحث پر غور کریں۔
مردوزن کے نماز کے لباس کے بارے میںدرج بالا ابواب میں کئی روایات گزر چکی ہیں، کسی ایک حدیث میں بھی مرد کے لیے سر ڈھانپنے کو نماز کا لباس نہیں قرار دیا گیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور کئی صحابہ سے ننگے سر نماز پڑھنا ثابت ہو گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تـُقْبَلُ صَلَاۃُ حَائِضٍ إِلاَّ بِخِمَارٍ۔)) یعنی: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔ (ابوداود: ۶۴۱، وتقدم فی ھذ المسند) اس حدیث سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ سر کو ڈھانپنے کی قید عورت کے لیے ہے، مرد کی سر ننگے نماز ہو جاتی ہے۔
بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت کپڑوں میں تنگی تھی، اب وسعت کے زمانے میں سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں بعض مواقع پر بے شمار مال و دولت جمع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں بعض صحابہ کرام امیر تھے، تیسری بات جو اہم ہے کہ اگر سر کو ڈھناپنا ضروری ہوتا تو شریعت میں اس کی وضاحت کر دی جاتی۔ صحابہ کرام کے ادوار میںیقینا بہت مال و دولت جمع ہو گیا تھا۔ لیکن سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔ پھر ایک آدمی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کا سوال کیا، آپ نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے وسعت پیدا کر دی ہے تو تم بھی وسعت سے کام لو، یعنی آدمی ازار اور چادر میںیا ازار اور قمیص میںیا ازار اور چوغے میں،یا شلوار اور چادر میں،یا شلواور قمیص میں،یا شلوار اور چوغے میںیا نیکر اور چوغے میںیا نیکر اور قمیص میں نماز پڑھے۔ (صحیح بخاری: ۳۶۵) معلوم ہوا کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وسعت کے زمانے میں بھی سر کو ڈھانپنا نماز کا لباس نہیں سمجھا۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پگڑی باندھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اورشریف و معزز لوگوں نے اسی لباس کو اختیار کیا ہے، لیکن نماز میں اس کا اہتمام کرنے یا نہ کرنے سے نماز کے اجرو ثواب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ قارئین کو یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مختلف ملبوسات پہننا ثابت ہیں، لیکن ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو نماز کے لیے ضروری سمجھ لیا جائے،مثلا موزے پہننا اور ان میںنماز پڑھنا۔
سیدسابق نے کہا: احناف کے نزدیک ننگے سر آدمی کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ وہ خشوع کی خاطر ننگے سر نماز پڑھنے کو افضل سمجھتے ہیں، بہرحال کوئی ایسی دلیل موجود نہیں ہے، جو نماز میں سر ڈھانپنے کی افضیلت پر دلالت کرے۔ (فقہ السنہ: ۱/ ۴۳) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سر ڈھانپنا نماز کے لباس میں سے نہیں ہے، اس لیے لوگوں کو خواہ مخواہ کی تنگیوں میں نہیں ڈالنا چاہیے، اور مسجدوں کو میل کچیل سے بھری ہوئی پلاسٹک وغیرہ کی بنی ہوئی ٹوپیوں سے پاک رکھنا چاہیے۔