کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
حدیث نمبر: 1402
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ)) وَقَالَ مَرَّةً: ((عَاتِقِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا کہ دورانِ نماز ستر کے علاوہ کندھوں پر بھی کپڑا ہونا ضروری ہے، مزید وضاحت اگلی روایات میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 359، ومسلم: 516، وابوداود: 626 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7307)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7305»
حدیث نمبر: 1403
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کے دونوں کنارے کندھے کے اوپر سے مخالف سمت میں ڈال دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1403
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 360، وابوداود: 627 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10758»
حدیث نمبر: 1404
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَطَابِخِ حَتَّى أَتَى الْبِئْرَ وَهُوَ مُتَزَرٌّ بِإِزَارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَرَأَى عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِيدًا يُصَلُّونَ، فَحَلَّ الإِزَارَ وَتَوَشَّحَ بِهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَا أَدْرِي الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا کیسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مطابخ مقام سے نکل کر بئر مقام پر آئے، آپ نے صرف ازار باندھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اوپر والی چادر نہیں تھی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بئر مقام کے پاس کچھ غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے بھی اپنا ازار کھول کر ا س سے توشیح کر لی اور پھر دو رکعتیں پڑھیں، مجھے معلوم نہیں کہ وہ ظہر تھی یا عصر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1404
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 1050،و الطبراني في الكبير : 19/ 436 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15524»
حدیث نمبر: 1405
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي كَيْسَانَ مَا أَدْرَكْتَ مِنَ النَّبِيِّ؟ قَالَ: رَأَيْتُهُ يُصَلِّي عِنْدَ الْبِئْرِ الْعُلْيَا بِئْرِ بَنِي مُطَيْعٍ مُتَلَبِّبًا فِي ثَوْبٍ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) عبد الرحمن بن کیسان کہتے ہیں:میں نے اپنے باپ سیّدنا کیسان رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا چیز پائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو بنو مطیع کے کنویں بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں لپٹ کر ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز دو رکعت پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … توشیح: توشیحیہ ہے کہ کپڑے کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جا کر داہنے کندھے پر ڈالنا اور دوسرا کنارہ داہنے کے تلے سے بائیں کندھے پر ڈالنا، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینہ پر گرہ دے دینا۔ مُتَلَبِّبًا: سینے پر کپڑے کو جمع کیا ہوا تھا، یعنی توشیح والی صورت اختیار کی ہوئی تھی۔ اس انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی چادر سے ستر بھی ڈھانپ لیا اور کندھوں پر بھی کپڑا کر لیا۔ لیکنیہ عمل اس وقت ہو گا جب چادر کھلی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1405
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 1051، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15446)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15525»
حدیث نمبر: 1406
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفٌ بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبٌ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ هَٰذَا لِيَرَانِيَ الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُوا عَلَى جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَ: ((يَا جَابِرُ! مَا هَٰذَا الِاشْتِمَالُ؟ إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن حارث کہتے ہیں : ہم سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس اس حالت میں داخل ہوئے کہ وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی اوپر والی چادر ان کے اتنی قریب تھی کہ اگر وہ اسے پکڑنا چاہتے تو پکڑ لیتے۔ بہرحال جب انھوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے اس لباس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تا کہ تمہارے جیسے بیوقوف مجھے دیکھ کر جابر پر ایسی رخصت کا چرچاکریں جس کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی۔ پھر سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، جب میں (دورانِ سفر) رات کے وقت آپ کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھ پر بھی ایک ہی کپڑا تھا، اس لیے میں نے اس کے ساتھ اشتمال کیا اور آپ کی ایک جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جابر! یہ اشتمال کیسا ہے؟ جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تجھ پر ایک ہی کپڑا ہو، اگر وہ وسیع ہو تو اس سے التحاف کر لیا کر اور کپڑا تنگ ہونے کی صورت میں صرف ازار باندھ لیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا ہے کہ مجبوری کی صورت میں صرف ستر کو ڈھانپنا کافی ہے، کندھے ننگے ہی رہیں گے۔ اگرچہ دو کپڑوں میں نماز افضل ہے، سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کا مقصد لوگوں پر اس رخصت کو واضح کرنا ہے، تاکہ ضرورت کے وقت ان کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
اشتمال: اس حدیث میں اشتمال پر انکار کیا گیا، اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) … کپڑے کو جسم پر اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ بھی باہر نہ رہے۔
(۲) … توشیح اور التحاف کی طرح ایک ہی چادر کو ازار کے لیے استعمال کرکے کندھوں پر ڈالنا، لیکن اس موقع پر کپڑا تنگ ہونے کی وجہ سے ستر سے سکڑا ہوا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا اور صرف ازار باندھ لینے کا حکم دیا۔
التحاف: لفظی معنی تو کپڑا لپیٹنا ہے، لیکن مرادی معنییہ ہے کہ اگر ایک کپڑا ہو تو نماز میں اس کو جسم کے وسط میں اس طرح نہ باندھا جائے کہ کندھے ننگے رہ جائیں،بلکہ اس کے کناروں کو کندھوں پر ڈال دیا جائے۔ ہاں اگر کپڑا تنگ ہو تو ازار باندھ لینا ہی کافی ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1406
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 361، وأخرج نحوه مسلم: 3008، 3010 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14518)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14572»
حدیث نمبر: 1407
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشَدَّهُ تَحْتَ الثَّدْيَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں اس طرح نماز پڑھائیں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا تھا، پس انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی، جبکہ ان کاکپڑا پستانوں والی جگہ کے نیچے باندھا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 518 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14120)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14751»
حدیث نمبر: 1408
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أَزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ أَمْثَالَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الإِزَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! لَا تَرْفَعْنَ رُؤُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے مردوں کو نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں ازار تنگ ہونے کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنے ازار اپنی گردنوں میں باندھے ہوئے دیکھا ، کسی کہنے والا نے کہا : اے عورتوں کی جماعت! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔
وضاحت:
فوائد: … مجبوری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ازار میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا معنییہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدیوں کا ستر ننگا ہو رہا تھا۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب لباس تنگ ہو تو نقل و حرکت کے وقت یا کسی اور وجہ سے بے پردگی ہو سکتی ہے، اس لیے عورتوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1408
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 362، 814، 1215، ومسلم: 441 وابوداود!: 630 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15562)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15647»
حدیث نمبر: 1409
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ (بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ بِمَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں فتح کے دن ایک کپڑے کے دوکنارے مخالف سمت سے کندھوں سے گزار کر آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی نماز کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1409
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1103، 1176، 4292، و مسلم: 336 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26900)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27442»