کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آزاد عورت چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ ساری کی ساری چھپانے کی چیز ہے
حدیث نمبر: 1400
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے قبول نہیں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … خِمَار ایسے کپڑے کو کہتے ہیں جس سے سر اور گردن کو ڈھانپا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں صرف اس روایت میں مرد اور عورت کے نماز والے لباس میں فرق کیا گیا ہے۔ قارئین کو یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عورت کے لیے پردے کا عمومی حکم اور ہے اور نماز کے لباس کا حکم اور ہے، پردے کے عام دلائل سے نماز کے لباس کا استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس بحث میں صرف نماز کے لباس کی تفصیل پیش کریں گے۔ اما م البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: امام عبد الرزاق نے صحیح سند کے ساتھ اپنی مصنف میں بیان کیا: ام الحسن کہتی ہیں: میں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا، وہ قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھتی تھیں۔
اسی طرح عبید اللہ خولانی کہتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھتی تھیں، جب کہ انھوں نے ازار پہنا ہوا نہ ہوتا تھا۔ (مؤطا امام مالک: ۱/ ۱۶۰، وعنہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۲۲۴، والبیہقی: ۲/ ۲۳۳) (جس قمیص کے ساتھ ازار استعمال نہیں کیا جاتا تھا، وہ اتنی لمبی ہوتی تھی کہ اس کے ساتھ شلوار وغیرہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی)۔ اس باب میں موجود دوسرے آثار سے بھییہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھنا ان کے ہاں معروف تھا، اور یہ کم از کم لباس ہے، جو عورت پر نماز میں فرض ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا درج ذیل اثر افضل و اکمل صورت پر محمول کیا جائے گا۔ تصلی المرأۃ فی ثلاثۃ اثواب: درع وخمار وازار۔ یعنی: عورت تین کپڑوں میں نماز پڑھے گی: قمیص، اوڑھنی اور ازار۔ (ابن ابی شیبہ، بیہقی) اسی طرح سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب عورت نماز پڑھے تو وہ سارے کپڑے پہن لیا کرے، یعنی قمیص، اوڑھنی اور چادر۔ (ابن ابی شیبہ)۔ (تمام المنۃ: ۱۶۱، ۱۶۲) عام طور پر درج ذیل حدیث پیش کی جاتی ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: کیا عورت تہ بند کے بغیر قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا کَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا یُغَطِّیْ ظُھُوْرَ قَدَمَیْھَا۔)) یعنی: جب قمیص اتنی لمبی ہو کہ قدموں کی پشت کو چھپا لے (تو پڑھ سکتی ہے)۔ (ابوداود: ۶۴۰) لیکن کئی ائمہ نے اس حدیث کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا اپنا قول قرار دیا ہے، اگرچہ امام صنعانی وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ موقوف مرفوع کے معنی میں ہے، لیکن موقوف کی سند میں بھی ام محمد راویہ مجہولۃ الحال ہے، اس لیےیہ روایت مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح ناقابل حجت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1400
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 641، والترمذي: 377، وابن ماجه: 655، وابن حبان: 1711، وابن خزيمة: 775 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25167)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25682»
حدیث نمبر: 1401
عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خِمَارٍ قَدْ حِضْنَ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَا تُصَلِّينَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي خِمَارٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَكَانَتْ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى عَلَيَّ حَقْوَهُ فَقَالَ: ((شُقِّيهِ بَيْنَ هَٰذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي فِي حِجْرِ أُمِّ سَلَمَةَ فَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ أَوْلَى أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن سیرین روایت کرتے ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صفیہ امِّ طلحۂ طلحات کے پاس آئیں اوراس کی کچھ لڑکیوں کو دیکھا، جو بالغ ہو چکی تھیں، لیکن بغیر اوڑھنیوں کے نماز پڑھ رہی تھیں۔ محمد کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ان میں سے کوئی لڑکی بغیر اوڑھنی کے نماز نہ پڑھے کیونکہ میری تربیت میں ایک لڑکی تھی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو آپ نے میری طرف اپنی چادر ڈالی اور فرمایا: یہ چادر اس لڑکی اور ام سلمہ کی گود میں جو لڑکیاں ہیں ان کے درمیان تقسیم کر دے کیونکہ میرا خیال ہے کہ یہ بالغ ہو چکی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1401
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 642 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25153»