کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ستر کو چھپانے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1396
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَإِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ: ((إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا)) قُلْتُ: فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ: ((فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ)) وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا عَلَى فَرْجِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسے دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے عورہ کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھ میں یہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے عورہ) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہوں کی طرف دیکھنا جائز ہے، یہی معاملہ آقا اور اس کی لونڈی کا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ سے شرم کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کی پسند کو ترجیح دیتے ہوئے علیحدگی میں بھی پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، وگرنہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے پردہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عام طور پر خواتین آپس میں ان مقامات کا پردہ بھی نہیں کرتیں، جن کا شریعت نے سختی سے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ گناہ کا کام ہے، صرف میاں بیوی اور آقاو لونڈی کو مستثنی کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1396
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4017، والترمذي: 1920، 2769، وابن ماجه: 1920، والجملة الاخيرة اي فوضعھا علي فرجه اسنادھا حسن ايضا و أخرجھا عبد الرزاق: 1106، والطبراني في الكبير : 19/ 989 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20034، 20035)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20296»
حدیث نمبر: 1397
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد ، مرد کے ستر کی طرف اور عورت، عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور مرد ایک ہی کپڑے میں دوسرے مرد کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت ایک ہی کپڑے میں دوسری عورت کی طرف پہنچے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا معنییہ ہے کہ مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں داخل نہ ہوں، کیونکہ اس صورت میں ایک کا ننگا جسم دوسرے کے ننگے جسم کو ٹچ کرے گا، بے پردگی ہو گی اوراگر وہ خود محرم بھی ہوں تو خیالات ضرور بگڑیں گے اور غیر محرم کو اس حالت میں دیکھنے کا شیطانی وسوسہ پیدا ہو گا اور مزید فساد … رہا مسئلہ ایک دوسرے ساتھ سونے کا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کی عمر کے بعد بچوں کو علیحدہ علیحدہ سلانے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1397
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 338، وابوداود: 4018 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11601)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11623»
حدیث نمبر: 1398
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِي عَوْرَتَهُ فِي الْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا نہ اتارتے حتی کہ اپنی شرمگاہ پانی میں چھپا لیتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن غور کیا جائے کہ کیا درج ذیل روایت اس کا شاہد بن سکتی ہے: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل ننگے نہاتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام حیادار اور پردہ دار ہونے کی وجہ سے پردہ کر کے نہاتے تھے۔ ان کیقوم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ان کی شرمگاہ میں کوئی عیب ہے، اس لیےیہ پردہ کرتے ہیں۔ ایک دن موسیٰ علیہ السلام اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ کر نہا رہے تھے، اچانک وہ پتھر کپڑوں سمیت چل پڑا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اس کے تعاقب میں چل پڑے: پتھر! میرےکپڑے، پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گئے، … … (مسند احمد: ۹۰۹۱، صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹) بہرحال یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام غسل کے وقت پردے کا انتظام کرتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1398
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13764)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13800»
حدیث نمبر: 1399
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ إِلَى فَرْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ، أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرمگاہ نہیں دیکھی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، کئی شرعی نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے جسم کا کوئی عضو دوسرے کے لیے پردہ نہیں ہے، یہی معاملہ آقا و لونڈی کا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1399
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائشة رضي الله عنها ۔ أخرجه ابن ماجه: 662، 1922، الترمذي في الشمائل : 352 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24848»