کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جو ران اور ناف کو چھپائے جانے والے حصوں میں شامل نہیں سمجھتا، اس کی دلیل
حدیث نمبر: 1393
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتَيَّ لَتَمَسُّ فَخِذَي نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذَي نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَي نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (الحديث)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی جنگ لڑی، ہم نے خیبر کے پاس اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے ، جبکہ میں ابو طلحہ کا ردیف تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیر کے بازاروں میں اپنا گھوڑا دوڑایا اور میرے گھٹنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رانوں کو لگ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تہبندرانوں سے ہٹا ہوا تھا اورمیں اللہ کے نبی کی رانوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1393
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 371، ومسلم: ص 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11992)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12015»
حدیث نمبر: 1394
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا كَاشِفًا عَنْ فَخِذِهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَرْخَى عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، فَلَمَّا قَامُوا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَذِنْتَ لَهُمَا وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ أَرْخَيْتَ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ؟ فَقَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَسْتَحِي مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ران سے کپڑا ہٹا کر بیٹھے ہوئے تھے،اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی، آپ نے انہیں اجازت دے دی، جبکہ آپ اسی طرح رہے، پھر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی اور آپ اسی طرح ہی رہے۔ پھر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ نے اپنی ران پر کپڑا ڈال لیا۔ جب یہ سارے لوگ چلے گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ (اپنی ران ننگی رکھے ہوئے) اسی حالت پر بیٹھے رہے،لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو آپ نے (ران پر)کپڑا ڈال لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: عائشہ: میں اس آدمی سے حیا کیوں نہ کروں کہ اللہ کی قسم فرشتے بھی جس سے حیا کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1394
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2401 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24330)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24834»
حدیث نمبر: 1395
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلُ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فَقَالَ بِقَمِيصِهِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمیر بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ملے اور کہنے لگے: ادھر آؤ میں تمہیں اس مقام پر بوسہ دوں جہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بو سہ دیتے ہوئے دیکھا تھا، پھر انھوں نے قمیص اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس بحث سے متعلقہ مزید دلائل یہ ہیں: سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اس وقت تیرا کیا بنے گا، جب تو ایسی قوم میں ہو گا، جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، … … (صحیح مسلم: ۶۴۸) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا بَیْنَ السُّرَّۃِ وَالرُّکْبَۃِ عَوْرَۃٌ۔)) یعنی: ناف سے گھٹنے تک ستر اور پردہ ہے۔ (ابوداود، مسند احمد، ارواء الغلیل: ۲۴۷، ۲۷۱)
قارئین کرام! مذکورہ بالا دو ابواب میں مندرج احادیث سے دو مختلف مفہوم پیدا ہو رہے ہیں، ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ران کو پردہ قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے اپنے ران مبارک کو بے پردہ بھی کر رہے ہیں۔ ہم بحث میں پردہ کے لیے لفظ عَورَہ استعمال کریں گے۔ جمہور علماء و فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ ران پردہ ہے، جبکہ امام احمد، ایک روایت کے مطابق امام امالک اور اہل ظاہر کا یہ خیال ہے کہ مرد کی صرف قُبُل (اگلی شرم گاہ) اور دُبُر (پچھلی شرم گاہ) پردہ ہیں۔ امام شوکانی رحمتہ اللہ علیہ نے جمہور کی تائید کرتے ہوئے کہا: حق بات یہ ہے کہ ران عورہ ہے، اس باب کی مختلف احادیث حجت بن جاتی ہیں، جبکہ ان کے بارے میں کلی حکم اور عام شریعت کا اظہار بھی پایا جاتا ہے۔ جن واقعات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ران کو ننگا کرنے کا ثبوت ملتا ہے، وہ مخصوص اور معین واقعات ہیں، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو اصل اباحت پر محمول کیا جائے، نیزیہ بھی ایک عام بات ہے کہ امت کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کو فعل پر ترجیح دی جاتی ہے۔ (نیل الاوطار: ۲/ ۷۴) لیکن امام شوکانی کا یہ کلام اس مسئلہ میں اطمینان کے لیے کافی نہیں ہے، کیونکہ کسی واضح دلیل کے بغیر کسی چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول ہو یا فعل، دونوں امت مسلمہ کے حق میں حجت ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اپنے ارشاد پر عمل کریں، اس سلسلے میں درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نُھِیْتُ عَنِ التَّعَرِّیْ۔)) وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یَّنْزِلَ عَلَیْہِ النُّبُوَّۃُ۔ یعنی: مجھے ننگا ہونے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ نبوت کے نزول سے پہلے کا عمل ہے۔ (مسند طیالسی: ۲۶۵۹، صحیحہ: ۲۳۷۸)
معلوم ہوا کہ اگر ران پردہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ننگا نہ ہونے دیتے۔ امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ران عورہ نہیں ہے، اگر یہ عورہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی معصوم اور مطہَّر شخصیت کو رسالت و نبوت کے دور میں ان کو ننگا نہ کرنے دیتا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تو نبوت سے پہلے اور بچپنے کے زمانے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عورہ کو ننگا ہونے سے بچائے رکھا، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ازار باندھ کر تعمیر کعبہ کے وقت پتھر منتقل کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: بھتیجے! اگر تم ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو (تو بہتر ہو گا)۔ لیکن جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازار کھول کر اپنے کندھے پر رکھا، بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔ امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی ران پر ہاتھ مارا، کو مد نظر رکھ کر کہتے ہیں: اگر ران عورہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مقدس ہاتھ سے ابو ذر کی ران کو نہ چھوتے، … … اور کسی مسلمان کے لیےیہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی انسان کی اگلی اور پچھلی شرم گاہ پر یا غیر محرم عورت کے وجود پر کپڑے کے اوپر سے ہاتھ مارے، (پس اگر ران پردہ ہوتی تو کسی کی ران پر ہاتھ نہ مارا جاتا)۔ خلاصۂ کلام: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قول کے ذریعے کسی چیز سے منع کرتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل میں اس کی مخالفت پائی جاتی ہو تو قول کے تقاضے کو مستحبّ و مندوب پر محمول کرتے ہیں اور فعل کو جواز پر۔ اس طرح سے دونوں دلائل پر عمل ہو جاتا ہے، یعنی بہتر یہ ہے کہ ران کا پردہ کیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پتہ چلتا ہے، لیکن اگر یہ عضو ننگا ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ اس تطبیق سے ثابت ہوا کہ ران عورۂ مخففہ ہے اور شرمگاہ عورۂ مغلظہ ہے۔ مذکورہ بالا مختلف دلائل کا یہی نتیجہ ثابت ہوتا ہے، بالخصوص فوائد میں ذکر کی گئی سیّدنا ابو ذر اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی احادیث کا۔ واللہ اعلم۔ یہ اجتہاد بھی بہتراور مناسب ہے کہ فقہاء و محدثین کے درج ذیل دو قوانین کو سامنے رکھ کر اس سلسلے میں احتیاط برتی جائے: (۱) … اگر حظر اور اباحت میں بظاہر تناقض پیدا ہو جائے تو از راہِ احتیاط حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکم عدولی کا شبہ ہی ختم ہو جائے۔ اس باب میں حظر یہ ہے کہ ران کو ننگا نہ کیا جائے۔
(۲) … اگر دو احادیث کے مفہوم میں بظاہر تضاد پیدا ہو جائے اور ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو احتیاطاً دوسری کو متأخر سمجھ کر اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس باب میں ران کے پردے کا لحاظ نہ کرنا براء ت ِ اصلیہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ران، پردے والے مقامات میں سے ہے، لیکن اس کو ننگا کر لینے میں حرج نہیں ہے، بہرحال احتیاطیہ ہے کہ اس کو پردے میں ہی رکھا جائے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا اندیشہ ٹل جائے۔ ہمارے ہاں بعض کھیلیں کھیلتے وقت کھلاڑیوں کی رانیں ننگی ہوتی ہیں، اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1395
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به عمير بن اسحاق، والقول الفصل فيه انه حديثهيقبل في المتابعات والشواھد، وما انفرد به فضعيف۔ أخرجه ابن حبان: 5593، والحاكم: 3/ 168،والبيھقي: 2/ 232 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7462)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7455»