حدیث نمبر: 1380
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّخِذَ الْمَسَاجِدَ فِي دِيَارِنَا وَأَمَرَنَا أَنْ نُنَظِّفَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنے محلوں میں مساجد بنانے کا اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے۔‘ـ‘
حدیث نمبر: 1381
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے کا ،انہیں صاف ستھرا رکھنے کا اور ان میں خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے گھروں میں مساجد بنانے کا استدلال محل نظر ہے، اگرچہ دار کا معنی گھر بھی کیا گیا ہے، لیکن ان احادیث میں دار سے مراد محلہ یا قبیلہ ہے۔ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: بغوی نے شرح السنۃ میں کہا: (دُوْر یا دِیَار سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ محلے ہیں، جن میں گھر ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {سَأُرِیْکُمْ دَارَ الْفَاسِقِیْنَ} قبیلہ کے لوگ جس محلے میں جمع ہوتے تھے، عرب لوگ اسے دار کہتے تھے۔ امام سفیان نے کہا: دُور سے مراد قبائل ہیں،یعنی قبائل میں مسجدیں تعمیر کی جائیں، … … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی حکمت یہ ہے کہ ہر محلے میں اہل محلہ کے لیے ایک مسجد ہو، جس میں وہ آسانی سے نماز ادا کر سکیں، کیونکہ بسا اوقات دوسرے محلہ کی مسجد میں پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، اور اس طرح سے لوگ مسجد اور جماعت کے اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۲۴۹)
حدیث نمبر: 1382
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَدِمَ أَبِي مِنَ الشَّامِ وَافِدًا وَأَنَا مَعَهُ فَلَقِيَنَا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَ أَبِي حَدِيثًا عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبِي: أَيْ بُنَيَّ احْفَظْ هَٰذَا الْحَدِيثَ فَإِنَّهُ مِنْ كُنُوزِ الْحَدِيثِ، فَلَمَّا قَفَلْنَا انْصَرَفْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَإِذَا هُوَ حَيٌّ وَإِذَا شَيْخٌ أَعْمَى مَعَهُ، قَالَ: فَسَأَلْنَا هُوَ عَنِ الْحَدِيثِ فَقَالَ: نَعَمْ، ذَهَبَ بَصَرِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ بَصَرِي وَلَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ خَلْفَكَ، فَلَوْ بَوَّأْتَ فِي دَارِي مَسْجِدًا فَصَلَّيْتَ فِيهِ فَاتَّخَذْتُهُ مُصَلَّى، قَالَ: ((نَعَمْ، فَإِنِّي غَادٍ عَلَيْكَ غَدًا)) قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى مِنَ الْغَدِ الْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَامَ حَتَّى أَتَاهُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَاءَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ) فَقَالَ: ((يَا عِتْبَانُ! أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُبَوِّئَ لَكَ؟)) فَوَصَفَ لَهُ مَكَانًا فَبَوَّأَ لَهُ وَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ حُبِسَ أَوْ جَلَسَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاحْتَبَسُوا عَلَى طَعَامٍ) وَبَلَغَ مَنْ حَوْلَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاؤُوا حَتَّى مُلِئَتْ عَلَيْنَا الدَّارُ فَذَكَرُوا الْمُنَافِقِينَ وَمَا يَلْقَوْنَ مِنْ أَذَاهُمْ وَشَرِّهِمْ حَتَّى صَيَّرُوا أَمْرَهُمْ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ (وَفِي رِوَايَةٍ الدُّخْشُنِ أَوِ الدُّخَيْشِنِ) وَقَالُوا: مِنْ حَالِهِ وَمِنْ حَالِهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟)) فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ قَالُوا: إِنَّهُ لَيَقُولُهَا، قَالَ: ((وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ! لَئِنْ قَالَهَا صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ لَا تَأْكُلُهُ النَّارُ أَبَدًا)) قَالُوا: فَمَا فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ كَفَرَحِهِمْ بِمَا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو بکر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے والد وفد کی صورت میں شام سے آئے،میں بھی ان کے ساتھ تھا،ہمیں محمود بن ربیع ملے، انہوں نے میرے والد کو سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کی، میرے والد کہنے لگے: میرے پیارے بیٹے! یہ حدیث یاد کرلو کیونکہ یہ حدیث خزائنِ حدیث میں سے ہے۔ پھر جب ہم واپس گئے تومدینہ جا کر ان کے بارے میں پوچھا، وہ زندہ تھے اور ان کے پاس ایک نابینا بزرگ بھی تھے۔ ہم نے ان سے حدیث کے بارے میں پوچھا، وہ کہنے لگے: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں میری نظر ختم ہو گئی، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نظر ختم ہو گئی ہے، میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ میرے گھر میں مسجد کے لیے کوئی جگہ پسند فرما کر اس میں نماز پڑھتے تو میں اسے جائے نماز بنا لیتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، کل صبح میں تیرے پاس آؤں گا۔ اگلے دن آپ نے (فجر کی) نماز پڑھی تو اس کی طرف چل پڑے حتی کہ اس کے پاس پہنچ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عتبان! تو کہاں پسندکرتاہے کہ میں تیرے لیے (نماز کی) جگہ متعین کروں؟ اس نے ایک جگہ کا تعین کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں بیٹھ گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ کھانے کے لیے رک گئے۔ جب ارد گرد کے انصار کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا) پتہ چلا تو وہ بھی جمع ہونے لگ گئے حتی کہ ہمارا گھر بھر گیا۔لوگ وہاں منافقوں اور ان کی
طرف سے آنے والی تکلیف اور شرّ کا ذکر کرنے لگے، حتی کہ مالک بن دخشم (یا دخشن یا دخیشن) نامی آدمی کا تذکرہ چل نکلا، لوگوں نے اس کے بارے میں کافی باتیں کیں کہ وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموشی کے ساتھ تشریف فرما تھے، جب بہت زیادہ باتیں ہونے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ شخص لاإلہ إلا اللہ کی گواہی نہیں دیتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ سوال کیا، جس کا جواب دیتے ہوئے لوگ کہنے لگے: یہ کلمہ تو وہ پڑھتا ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر مبعوث کیا ہے! اگر وہ صدقِ دل سے یہ کلمہ پڑھتا ہے آگ کبھی بھی اس کو نہیں کھائے گی۔ لوگ کبھی بھی کسی چیز سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے خوشی ہوئی۔
طرف سے آنے والی تکلیف اور شرّ کا ذکر کرنے لگے، حتی کہ مالک بن دخشم (یا دخشن یا دخیشن) نامی آدمی کا تذکرہ چل نکلا، لوگوں نے اس کے بارے میں کافی باتیں کیں کہ وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموشی کے ساتھ تشریف فرما تھے، جب بہت زیادہ باتیں ہونے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ شخص لاإلہ إلا اللہ کی گواہی نہیں دیتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ سوال کیا، جس کا جواب دیتے ہوئے لوگ کہنے لگے: یہ کلمہ تو وہ پڑھتا ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق دے کر مبعوث کیا ہے! اگر وہ صدقِ دل سے یہ کلمہ پڑھتا ہے آگ کبھی بھی اس کو نہیں کھائے گی۔ لوگ کبھی بھی کسی چیز سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنا کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے خوشی ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، البتہ صحیح روایت کا سیاقیہ ہے: سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات سیلاب اور پانی کی رو میرے اور میری قوم کی مسجد کے مابین حائل ہو جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں ایک جگہ میں نماز پڑھیں تو میں اس کو مسجد بنا سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ہم ایسا ہی کریں گے۔ اگلے دن بوقت ِ صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے پاس گئے اور ان کو اپنے ساتھ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عتبان کے گھر پہنچے توفرمایا: تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم نماز پڑھیں؟ انھوں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ ہم نے قیمے اور آٹے سے ایک کھانا تیار کیا ہوا تھا، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک لیا۔ جب اس بستی والوں کو پتہ چلا تو وہ بھی گھر میں جمع ہونے شروع ہو گئے، حتی کہ گھر بھر گیا۔ باتیں ہونے لگیں، ایک آدمی نے کہا: مالک بن دخشم کہاں ہے؟ دوسرے نے یوں کہہ دیا: وہ منافق ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کرنے کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے، اس کے بارے مین یہ دعوی مت کیا کرو۔ اس نے کہا: بات یہ ہے کہ ہمیں تو اس کی توجہ اور خیر خواہی منافقوں کی طرف ہی نظر آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کرنے کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہے، اس کے بارے مین یہ دعوی مت کیا کرو۔ ایک آدمی نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی قیامت والے دن آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کرنے کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کر دے گا۔ (مسند احمد: ۱۶۴۸۲، وأخرجہ البخاری: ۶۸۶، ۸۳۸، ۸۳۹، ۶۴۲۲ مطولا ومختصرا، مسلم: ۲۶۳)
حدیث نمبر: 1383
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ: فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ، وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرَّضُ بِالنِّفَاقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالُوا: بَلَى، قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یہی روایت ایک دوسری سند کے ساتھ یوں ہے: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو گئی، اس لیے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! اگر آپ تشریف لائیں اورمیرے گھر میں نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی جائے نماز کو مسجد بنالوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔ سیّدنا عتبان رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر مالک بن دخشم کا ذکر کرنے لگے اور اس کے نفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ لوگ کہنے لگے: کیوں نہیں (یہ شہادت تو وہ دیتا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بندہ بھی صدق و اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہتا ہے، اس پر آگ حرام کر دی جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی الوہیت و ربوبیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت دیتا ہو، اس پر کفر یا نفاق کا فتوی لگانے کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے، جب تک کوئی واضح دلیل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1384
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ گھر میں نماز کی جگہ مخصوص ہونی چاہیے، لیکنیہ جگہ مالک کی ملکیت میں ہی رہے گی۔ لیکن ہمارے ہاں اس چیز کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا، اگر ہو سکے تو گھر میں ایک کمرہ کو خاص کر دیا جائے تو گھر کے افراد وہاں نماز پڑھ سکیں۔ اِن واقعات میں ایسی جگہ کا افتتاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے کیا گیا۔ کیا آج کسی نیک آدمی کو اس مقصد کے لیے بلایا جا سکتا ہے؟ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔