حدیث نمبر: 1378
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَخَرِبٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ثَامِنُونِي)) فَقَالُوا: لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِّعَ وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ بنو نجار کی ملکیت تھی اور اسمیں کھجوروں کے درخت اور زمانہ جاہلیت کی قبریں تھیں اور کچھ جگہ ویران پڑی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے قیمتاً سودا کر لو۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے لیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے درختوں کے بارے حکم دیاتو انہیں کاٹ دیا گیا اور کھیتی کے متعلق حکم دیا تو اسے اجاڑ دیا گیا اور قبروں کے بارے حکم دیا تو انہیں اکھاڑ دیا گیا۔ اس سے پہلے جہاں آپ کو نماز پالیتی، آپ وہیں ادا کر لیتے، حتی کہ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت مین یہ وضاحت ہے کہ یہ مشرک لوگوں کی قبریں تھیں، چونکہ ایسی قبروں کو کوئی حرمت حاصل نہیں ہے، اس لیے ان کو اکھاڑ کر اس جگہ پر مسجد کی تعمیر کی گئی۔ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں پر مسجدیں بنانے والوں پر لعنت فرمائی اور دوسری طرح مسجد نبوی کی تعمیر ہی قبروں کی جگہ پر کی گئی؟ حافظ ابن حجر جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں (مفہوم): لعنت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے قبروں کی تعظیم لازم آتی تھی، پھر قبر والوں کی شان میں غلوّ شروع ہو جاتا ہے اور اس کا نتیجہ ان کی عبادت کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی طرح انبیاء اور ان کے پیرکاروں کی قبریں اکھاڑ کر از راہ تبرّک وہاں مسجد تعمیر کرنا بھی اسی قبیل سے ہے۔ رہا مسئلہ مشرکوں کا تو ان کی قبریں اکھاڑ دینے اور ان کی اہانت کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ایسے مقامات پر مسجدیں تعمیرکرنے سے ان کی تعظیم لازم نہیں آتی اور یہی تعظیم ہے جس کی بنا پر ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۹۰)