حدیث نمبر: 1369
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ نَقِيلُ فِيهِ وَنَحْنُ شَبَابٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہم مسجد میں سوتے تھے، قیلولہ کر لیا کرتے تھے، حالانکہ ہم نوجوان تھے۔
حدیث نمبر: 1370
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَا كَانَ لِي مَبِيتٌ وَلَا مَأْوَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں میرے لیے مسجد کے علاوہ نہ کوئی رات گزارنے کی جگہ ہوتی تھی اور نہ کوئی اور پناہ گاہ۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے بھی فوائد و متون میں اس قسم کی احادیث گزر چکی ہے، ثابت ہوا کہ مسجد میں سونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اعتکاف کرنے والوں کا معاملہ بھی اس حوالے سے واضح ہے۔
حدیث نمبر: 1371
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى ظَهْرِهِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر مسجد میں پیٹھ کے بل چت لیٹے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مسجد میں لیٹنا تو واضح طور پر معلوم ہور ہا ہے۔ نیز درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا اسْتَلْقٰی أَحَدُکُمْ عَلٰی ظَھْرِہِ فَـلَایَضَعْ إِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلٰی الْأُخْرٰی۔)) یعنی: جب آدمی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہوا ہو تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔ (ترمذي: ۲/۱۲۷، صحیحہ: ۱۲۵۵واخرجہ مسلم: ۶/ ۱۵۴بلفظ: لایستلقین احدکم، ثم یضع احدی رجلیہ علی الاخری)
بظاہر ان دو احادیث میں تعارض نظر آ رہا ہے، لیکن حقیقت میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ نہی والی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس کو ستر کھلنے اور بے پردہ ہونے کا خطرہ ہو، اگر پردے کا مکمل اہتمام کیا ہوا ہو تو پھر اس طرح لیٹنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اورایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم)
بظاہر ان دو احادیث میں تعارض نظر آ رہا ہے، لیکن حقیقت میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ نہی والی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس کو ستر کھلنے اور بے پردہ ہونے کا خطرہ ہو، اگر پردے کا مکمل اہتمام کیا ہوا ہو تو پھر اس طرح لیٹنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اورایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم)
حدیث نمبر: 1372
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ يُخْبِرُنِي عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي الْمَسْجِدِ، قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ: فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: لَا، فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں سینگی لگوائی۔ روای کہتے ہیں: میں نے ابن لہیعہ سے پوچھا: اپنے گھر کی مسجد میں؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسجد نبوی میں۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح روایت کے مطابق اس حدیث کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں حجرہ لگایا تھا، مسجد میں سینگی لگوانے والییہ روایت صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1373
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور حبشی لوگ کھیل رہے تھے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی (صحیح بخاری: ۹۵۰)کی روایت کے مطابق یہ عید کا دن تھا اور عید کے دن کھیلنا ویسے بھی جائز ہے، جب تک کوئی کھیل کسی حرام کام پر مشتمل نہ ہو۔ رہا مسئلہ حبشی لوگوں کا تو ان کا کھیلنا محض کھیل نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی آلات کے ذریعے جنگی مہارت کا اظہار کر رہے تھے، جو کہ مطلوب ِ شریعت ہے۔ بنوارفدہ، حبشی لوگوں کا لقب تھا یا ان کے نسب میںکسی باپ کا نام ارفدہ تھا، جس کی طرف ان کو منسوب کیا جاتا تھا، یہ لوگ عید کے روز دوسرے صحابہ کی بہ نسبت کھیل کود کا زیادہ شوق رکھتے تھے۔ مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی زجرو توبیخ کی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اس قسم کے امور جائز ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مہلب کہتے ہیں: جماعۃ المسلمین کے معاملات مسجد کے ساتھ معلق ہیں، اس لیے جن امور کا تعلق دین اور اہل دین کی منفعت سے ہو، نہ کہ فردِ واحد کی ذات سے، ان کا مسجد میں سرانجام دینا جائز ہے۔ (فتح الباری: ا/ ۷۲۱)
حدیث نمبر: 1374
عَنْ سَعِيدِ (بْنِ الْمُسَيَّبِ) قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يَنْشُدُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَهُوَ يَنْشُدُ الشِّعْرَ) فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ: فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْشُدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَنْشُدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ))؟ قَالَ: نَعَمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسیّب کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیّدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں شعر پڑھ رہے ہو ؟ آگے سے سیّدناحسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ سے بہتر ہستی کی موجودگی میں میں شعر پڑھاکرتا تھا، پھر وہ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : (حسان!) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ (یہ سن کر)سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور سمجھ گئے کہ حسان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بَابٌ جَامِعٌ فِیْمَا تُصَانُ عَنْہُ الْمَسَاجِدُ مین یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ مسجد میں اچھے اشعار پڑھنا درست ہے۔