حدیث نمبر: 1358
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الضَّالَّةُ وَعَنِ الْحِلْقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، اشعار پڑھنے اور گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتُمْ مَنْ یَبِیْعُ أَوْ یَبْتَاعُ فِیْ الْمَسْجِدِ، فَقُوْلُوْا: لَا أَرْبَحَ اللّٰہُ تِجَارَتَکَ۔)) یعنی: جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو: اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے۔ (ترمذی: ۱۳۲۱) ضَالَّۃ کا اطلاق اس گم شدہ چیز پر ہوتا ہے جو جاندار ہو، ایسی غیر جاندار چیز کو ضَائِع اور لَقِیْط کہتے ہیں۔ چونکہ علت اور وجہ ایک ہے، اس لیے مسجد میں ہر قسم کی گم شدہ چیز کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ شعر بحیثیت ِ شعر قابل مذمت نہیںہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزَلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) یعنی: اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔ (دارقطنی: ۴۹۰، الادب المفرد للبخاری: ۱۲۵، الصحیحہ: ۴۴۷) سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔)) یعنی: بعض اشعار، حکمت و دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ (بخاری، صحیحہ: ۲۸۵۱)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اشعار پڑھنا، سننا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ کا اشعار پڑھنا بھی ثابت ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا حسان رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، وہاں سے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے اور ان کی طرف گھورنا شروع کر دیا، لیکن آگے سے سیّدنا حسان نے کہا: ((قَدْ کُنْتُ اُنْشِدُ، وَفِیْہِ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْکَ۔)) یعنی: (اے عمر!) میں تو اس وقت بھی اس میں اشعار پڑھتا تھا، جب اس میں تجھ سے بہتر ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم: ۲۴۸۵)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اچھے مضمون پر مشتمل اشعار کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بہرحال شعروں کی کثرت کا اہتمام نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا اصول تھا۔ نماز جمعہ سے قبل ہر قسم کا حلقہ ممنوع ہے، وہ عام دنیوی گفتگو پر مشتمل ہو یا علمی درس و تدریس پر، اس سے صفیں بھی غیر مرتب ہو جائیں گے اور نماز اور ذکر میں مصروف رہنے والے لوگوں کو بھی تشویش ہو گی۔ اس کی بجائے خطبۂ جمعہ سے پہلے والی عبادات یعنی نماز اور اذکار مسنونہ وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے، مسنون خطبے سے پہلے لوگوں کو کسی حلقے کا پابند نہ کیا جائے اور جب خطبہ شروع ہو تو خاموشی کے ساتھ اسی پر توجہ دھری جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اشعار پڑھنا، سننا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ کا اشعار پڑھنا بھی ثابت ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا حسان رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، وہاں سے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے اور ان کی طرف گھورنا شروع کر دیا، لیکن آگے سے سیّدنا حسان نے کہا: ((قَدْ کُنْتُ اُنْشِدُ، وَفِیْہِ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْکَ۔)) یعنی: (اے عمر!) میں تو اس وقت بھی اس میں اشعار پڑھتا تھا، جب اس میں تجھ سے بہتر ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم: ۲۴۸۵)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اچھے مضمون پر مشتمل اشعار کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بہرحال شعروں کی کثرت کا اہتمام نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا اصول تھا۔ نماز جمعہ سے قبل ہر قسم کا حلقہ ممنوع ہے، وہ عام دنیوی گفتگو پر مشتمل ہو یا علمی درس و تدریس پر، اس سے صفیں بھی غیر مرتب ہو جائیں گے اور نماز اور ذکر میں مصروف رہنے والے لوگوں کو بھی تشویش ہو گی۔ اس کی بجائے خطبۂ جمعہ سے پہلے والی عبادات یعنی نماز اور اذکار مسنونہ وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے، مسنون خطبے سے پہلے لوگوں کو کسی حلقے کا پابند نہ کیا جائے اور جب خطبہ شروع ہو تو خاموشی کے ساتھ اسی پر توجہ دھری جائے۔
حدیث نمبر: 1359
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایاہے۔
حدیث نمبر: 1360
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ ضَالَّةً فَلْيَقُلْ لَهُ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَٰذَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسے آدمی کو سنے جو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کر رہا ہو تو وہ اسے کہے: اللہ یہ چیز تجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ مساجد اس لیے تو نہیں بنائی گئیں۔
حدیث نمبر: 1361
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ فِي الْمَسْجِدِ: مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ بَعْدَ الْفَجْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا وَجَدْتَّهُ لَا وَجَدْتَّهُ، إِنَّمَا بُنِيَتْ هَٰذِهِ الْبُيُوتُ قَالَ مُوَمِّلٌ هَٰذِهِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں فجر کے بعد اعلان کیا کہ کس نے سرخ اونٹ کو بلایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے نہ پائے، تو اسے نہ پائے، یہ مساجد صرف ان مقاصد کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو تعمیر کیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … اور مساجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ذکر، نماز،تلاوت ِ قرآن، علم شرعی اور مذاکرۂ خیر وغیرہ کا قیام ہے۔
حدیث نمبر: 1362
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَا)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ غَيْرِ مَرْفُوعَةٍ: وَلَا يُنْشَدُ فِيهَا الْأَشْعَارُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مساجد میں نہ حدود کا نفاذ کیا جائے اور نہ قصاص لیا جائے۔ اور ایک غیر مرفوع روایت میں مزیدیہ الفاظ بھی ہیں: اور نہ ان میں اشعار پڑھے جائیں۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا پہلا حصہ شواہد کی بنا پر اور دوسرا حصہ کئی احادیث میں ثابت ہے۔حدّ اور قصاص دونوں شرعی نصوص کا تقاضا ہیں، لیکن نتیجتاً مسجد کے گندا ہونے،اس میں آوازوں کے بلند ہونے اور اس کی بے ادبی کے کئی امور لازم آ سکتے ہیں۔ اس لیے سرے سے ایسے مقام میں ان کے نفوذ سے منع کر دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَقَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا شَيْبَةَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ، وَرَجَعَ شَيْبَةُ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ أَنْ أَجِبْ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: ((إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرْنًا فَغَيِّبْهُ)) قَالَ مَنْصُورٌ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّي عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ: ((فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُلْهِي الْمُصَلِّينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اکابر بنوشیبہ کی ماں ام عثمان بنت سفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی،یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ کو بلایا، اس نے دروازہ کھولا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو کر واپس آ گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو گئے اور شیبہ واپس چلا گیا۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد پھر سے پہنچا اور کہنے لگاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن۔ سو وہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے اسے چھپا دے۔ اسی حدیث کا ایک دوسرا راوی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا کہ بیت اللہ میں نمازیوں کو غافل کرنے والی کسی چیز کا ہونا نامناسب ہے۔
حدیث نمبر: 1364
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: ((إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَي الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُشْغِلُ الْمُصَلَّى)) قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک دوسری سند سے مروی ہے: صفیہ بنت شیبہ کہتی ہے:بنو سلیم کی ایک عورت، جو ہمارے گھر والوں میں سے اکثر کی والدہ ہے، نے مجھے بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو پیغام بھیجا۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ کہا کہ اس عورت نے عثمان بن طلحہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کیوں بلایا تھا؟ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب میں بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے، پھر میں بھول گیا کہ تجھے ان کو ڈھانپ دینے کا حکم دوں، اس لیے ا ب انہیں ڈھانپ دے، کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان فرماتے ہیں: مینڈھے کے دونوں سینگ بیت اللہ میں ہی رہے، جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ کو بلایا جبکہ کتب ِ ستہ اور دوسری کتب ِ احادیث اور خود مسند احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولنے کے لیے عثمان بن طلحہ کو بلایا اور یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔ اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں جو مینڈھا لایا گیا تھا، اس کے سینگ کعبہ کی عمارت کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ کے بعد بنو امیہ کا لشکر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبد اللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا اور منجنیق نصب کر کے کعبہ پر پتھر برسائے اور آگ لگ جانے کی وجہ سے بیت اللہ کے پردے، چھت اور یہ دو سینگ جل گئے، یہ صفر ۶۴ ھ کا واقعہ ہے۔ (بلوغ المعانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۳۶۰)
کتنی قابل غور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ جیسی مقدم عمارت کے اندر بھی نمازی کے خشوع و خضوع کی خاطرسینگوں پر کپڑا ڈالنے کو پسند کیا، مسجد کی زیب و زینت، بیل بوٹوں، انتہائی جاذب نظر منبروں اور محرابوں، رنگا رنگ کی الماریوں اور منقش پتھروں کا اہتمام کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے۔
کتنی قابل غور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ جیسی مقدم عمارت کے اندر بھی نمازی کے خشوع و خضوع کی خاطرسینگوں پر کپڑا ڈالنے کو پسند کیا، مسجد کی زیب و زینت، بیل بوٹوں، انتہائی جاذب نظر منبروں اور محرابوں، رنگا رنگ کی الماریوں اور منقش پتھروں کا اہتمام کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1365
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، حتیٰ کہ لوگ مساجد (کے بنانے) میں ایک دوسرے سے فخر کرنے لگ جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … فخر کرنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) زبان سے اظہار کرنا، جیسا کہ آج کل لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کی مسجد بہت خوبصورت اور وسیع ہے، اس میں لگا ہوا پتھر بڑا قیمتی ہے، اس کے مینار اتنے بلند ہیں، اس میں بچھا ہوا قالین اس قسم کا ہے، اس میں لکڑی کا کام بڑے ہنر کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ سننے والے منتظم حضرات کو اس سے خوشی ہوتی ہو۔ (۲) فعل سے اظہار کرنا، مثلا مسجد کی تزیین و آرائش میں مبالغے سے کام لینا اور دل ہی دل مین یہ سمجھنا کہ ہماری مسجد باقی سب مسجدوں سے ممتاز ہے، بلکہ بعض دفعہ زبان سے اس کا اظہار بھی کر دینا۔ کوئی مانے یا نہ مانے، کسی نہ کسی صورت میں اکثر و بیشتر لوگوں مین یہ فخر اپنے دونوں قسموں کے ساتھ پایا جا رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عالیشان مسجدیں تعمیر کرنے والی حکومتیں اور لوگ ان حقائق کو تسلیم ہی نہیں کرتے، حالانکہ ان کے اقوال و افعال میں واضح طور پر یہ اشارات مل رہے ہوتے ہیں کہ ان کا مقصد دوسری مساجد سے مقابلہ ہے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ درج ذیل بحث کا بغور مطالعہ کریں: ۱۔ سیّدنا ابو دردا اور سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِبْنُوْہُ عَرِیْشاً کَعَرِیْشِ مُوْسٰی۔)) یَعْنِی: مَسْجِدَ الْمَدِیْنَۃِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی کے چھپر کی طرح اس کو تعمیر کر دو۔ (الفوائد المنتقاۃ للمخلص: ۹/ ۱۹۳/ ۱، دلائل النبوۃ للبیہقی: ۲/ ۵۴۲، مسند الشامیین للطبرانی: صـ ۴۲۵، الصحیحۃ:۶۱۶)
مساجد کی تعمیر میں بلا شک و شبہ بہت بڑا اجرو ثواب ہے، یہ عمل حصول جنت کا بہت بڑا سبب ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ تعاون کرنے والوں کو اجرِ عظیم سے نوازے (آمین)۔ بہرحال عصر حاضر میں اکثر مساجد کی انتظامیہ کی سوچوں کا مرکزو محور یہ بن چکا ہے کہ ان کی مسجد خوبصورت ترین ہونی چاہیے، آج کل ایک ایک مسجد پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہدایت او ر ان کی آبادی کامعاملہ تعمیر نو سے پہلے والا ہی نظر آتا ہے یا اس سے بھی کم۔
۲۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اُمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسْجِدِ۔)) یعنی: میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم نہیںدیا گیا کہ مساجد کی تزئین و آرائش کروں۔ پھر سیّدنا ابن عباس نے خود کہا: ((لَتُزَخْرِفُنَّھَا کَمَا زَخْرَفَتْھَا الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی۔)) یعنی: تم مساجد کو اس طرح مزین کرو گے، جیسےیہود و نصاری نے (اپنی عبادت گاہوں کو) کیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۸)
۳۔ سعید بن ابی سعید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذًا زَوَّقْتُمْ مَسَاجِدَکُمْ وَحَلَّیْتُمْ مَصَاحِفَکُمْ، فَالدِّمَارُ عَلَیْکُمْ۔)) یعنی: جب تم لوگ مساجد کو مزین کرو گے اور مصاحف کو خوبصورت بناؤ گے تو تم پر ہلاکت و بربادی آ پڑے گی۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۰۰/ ۲، الصحیحۃ: ۱۳۵۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جہاد کے موقع پر کروڑہا روپوں کی مالیتوں کا فنڈ جمع کیا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں جتنا مالِ غنیمت حاصل کر کے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا، اس کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے، لیکن جب مسجد نبوی کی تعمیر کا وقت آتا ہے تو اس کو موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کا ڈیزائن دے دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین، بالخصوص سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سنہری عہدِ خلافت میں کثیر آمدنی کے انوکھے ذرائع عطا کیے، جن میں قیصر و کسری کے خزانوں کو بھی مسلمانوں پر لٹا دیا، لیکن مسجد نبوی کا عمارتی ڈیزائن نہیں بدلایا گیا۔ آخر ایسا کرنے میں کیا راز ہے؟ خیر و بھلائی اور تقوی و طہارت کا مرکز مسجد نبوی ہے، اس کے معمار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہیں، مسجد حرام کے بعد اس کی فضیلت مسلّم ہے، اس میں ایک نماز کا ایک ہزار گنا سے زائد ثواب ملتا ہے، لیکن اس کو چھپر کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے کیے پر غور و خوض کر کے مساجد کو آباد کرنے کی فکر کرنی چاہیے، نہ کہ اس کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح شخصیتوں اور اقوام کے معماروں پر روپیہ پیسہ خرچ کر کے خدمت ِ اسلام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ بات ذہن نشین کرنا پڑے گی کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ ہے، کیایہ کہنا مناسب نہ ہو گا کہ اس کے ڈیزائن اور بناوٹ کی ترتیب کی اجازت بھی گھر کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ سے لی جائے گی؟ ہم اپنے معاشرے کے گھروں کی پرشکوہ اور پر جلال عمارتوں سے مرعوب ہو گئے اور ان سے مساجد کا تقابل اور موازنہ کر نا شروع کر دیا۔ اس معاملے مین یہ حقیقت انتہائی حیران کن ہے کہ جو لوگ مساجد پر بے حساب رقم خرچ کرتے ہیں، غور فرمائیں کہ دیواروں پر پردے لٹکائے جا رہے ہیں، منبر و محراب پر لاکھوں خرچ کیا جا رہا ہے، قسما قسم کی ٹائلیں لگائی جا رہی ہیں، قیمتی اور نقش و نگار والے قالین بچھائے جا رہے ہیں، وضو گاہوں اور طہارت خانوں کو مزین بنایا جا رہا ہے، مرکزی دروازوں کو دیدہ زیب بنایا جا رہا ہے،لیکن اسی مسجد میں جب خطیب، امام، خادم اور تعلیم قرآن کے سلسلہ میں بچوں کے مدرس کی تنخواہ کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے تو انتہائی کنجوسی کا معاملہ کیا جاتا ہے اور بلا رورعایت لکھنا پڑے گا کہ انتظامیہ کے اکثر افراد کییہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ لوگ فارغ البال نہ ہوں اور ان کے پنجوں میں جکڑے رہیں۔ اگر خدمت ِ اسلام ہی مقصود ہے تو یہ تضاد کیوں ہے؟ قارئین کرام! کیا آپ حیران ہوں گے کہ آج اپریل۲۰۱۰ ء کی بات ہے، ایک شخص مسجد میں امامت، خطابت، ساٹھ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور مسجد کی صفائی کرنے کا ذمہ دار ہے، مسجد اس کے گھر سے پانچ گھنٹوں کے سفر پر ہے، دو تین ماہ کے بعد اس کو دو تین دن چھٹی ملتی ہے، لیکن اس کی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے، پانچ ہزار کا بندوبست ایک تنظیم کرتی ہے اور مسجد کے چودھری لوگ ایک ہزار روپیہ ماہانہ دے کر احسانِ عظیم کرتے ہیں اور اپنے امام کا احترام کرنا تو درکنار، اس کو اپنے ملازم کی حیثیت دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اب یہی لوگ جب مسجد کو مزین کرنے پر خرچ کریں گے تو کیا ان کے اقدام کو خدمت ِ اسلام سمجھا جائے گا؟ (فالی اللہ المشتکی) نہ میں اس نقطے کو سمجھ پا رہا ہوںاور نہ سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ بہرحال دعاگو ضرور ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خرچ کی ہوئی دولت قبول فرمائے اور ان کو مزید خلوص سے نواز دے۔
مساجد کی تعمیر میں بلا شک و شبہ بہت بڑا اجرو ثواب ہے، یہ عمل حصول جنت کا بہت بڑا سبب ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ تعاون کرنے والوں کو اجرِ عظیم سے نوازے (آمین)۔ بہرحال عصر حاضر میں اکثر مساجد کی انتظامیہ کی سوچوں کا مرکزو محور یہ بن چکا ہے کہ ان کی مسجد خوبصورت ترین ہونی چاہیے، آج کل ایک ایک مسجد پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہدایت او ر ان کی آبادی کامعاملہ تعمیر نو سے پہلے والا ہی نظر آتا ہے یا اس سے بھی کم۔
۲۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اُمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسْجِدِ۔)) یعنی: میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم نہیںدیا گیا کہ مساجد کی تزئین و آرائش کروں۔ پھر سیّدنا ابن عباس نے خود کہا: ((لَتُزَخْرِفُنَّھَا کَمَا زَخْرَفَتْھَا الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی۔)) یعنی: تم مساجد کو اس طرح مزین کرو گے، جیسےیہود و نصاری نے (اپنی عبادت گاہوں کو) کیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۸)
۳۔ سعید بن ابی سعید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذًا زَوَّقْتُمْ مَسَاجِدَکُمْ وَحَلَّیْتُمْ مَصَاحِفَکُمْ، فَالدِّمَارُ عَلَیْکُمْ۔)) یعنی: جب تم لوگ مساجد کو مزین کرو گے اور مصاحف کو خوبصورت بناؤ گے تو تم پر ہلاکت و بربادی آ پڑے گی۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۰۰/ ۲، الصحیحۃ: ۱۳۵۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جہاد کے موقع پر کروڑہا روپوں کی مالیتوں کا فنڈ جمع کیا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں جتنا مالِ غنیمت حاصل کر کے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا، اس کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے، لیکن جب مسجد نبوی کی تعمیر کا وقت آتا ہے تو اس کو موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کا ڈیزائن دے دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین، بالخصوص سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سنہری عہدِ خلافت میں کثیر آمدنی کے انوکھے ذرائع عطا کیے، جن میں قیصر و کسری کے خزانوں کو بھی مسلمانوں پر لٹا دیا، لیکن مسجد نبوی کا عمارتی ڈیزائن نہیں بدلایا گیا۔ آخر ایسا کرنے میں کیا راز ہے؟ خیر و بھلائی اور تقوی و طہارت کا مرکز مسجد نبوی ہے، اس کے معمار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہیں، مسجد حرام کے بعد اس کی فضیلت مسلّم ہے، اس میں ایک نماز کا ایک ہزار گنا سے زائد ثواب ملتا ہے، لیکن اس کو چھپر کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے کیے پر غور و خوض کر کے مساجد کو آباد کرنے کی فکر کرنی چاہیے، نہ کہ اس کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح شخصیتوں اور اقوام کے معماروں پر روپیہ پیسہ خرچ کر کے خدمت ِ اسلام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ بات ذہن نشین کرنا پڑے گی کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ ہے، کیایہ کہنا مناسب نہ ہو گا کہ اس کے ڈیزائن اور بناوٹ کی ترتیب کی اجازت بھی گھر کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ سے لی جائے گی؟ ہم اپنے معاشرے کے گھروں کی پرشکوہ اور پر جلال عمارتوں سے مرعوب ہو گئے اور ان سے مساجد کا تقابل اور موازنہ کر نا شروع کر دیا۔ اس معاملے مین یہ حقیقت انتہائی حیران کن ہے کہ جو لوگ مساجد پر بے حساب رقم خرچ کرتے ہیں، غور فرمائیں کہ دیواروں پر پردے لٹکائے جا رہے ہیں، منبر و محراب پر لاکھوں خرچ کیا جا رہا ہے، قسما قسم کی ٹائلیں لگائی جا رہی ہیں، قیمتی اور نقش و نگار والے قالین بچھائے جا رہے ہیں، وضو گاہوں اور طہارت خانوں کو مزین بنایا جا رہا ہے، مرکزی دروازوں کو دیدہ زیب بنایا جا رہا ہے،لیکن اسی مسجد میں جب خطیب، امام، خادم اور تعلیم قرآن کے سلسلہ میں بچوں کے مدرس کی تنخواہ کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے تو انتہائی کنجوسی کا معاملہ کیا جاتا ہے اور بلا رورعایت لکھنا پڑے گا کہ انتظامیہ کے اکثر افراد کییہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ لوگ فارغ البال نہ ہوں اور ان کے پنجوں میں جکڑے رہیں۔ اگر خدمت ِ اسلام ہی مقصود ہے تو یہ تضاد کیوں ہے؟ قارئین کرام! کیا آپ حیران ہوں گے کہ آج اپریل۲۰۱۰ ء کی بات ہے، ایک شخص مسجد میں امامت، خطابت، ساٹھ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور مسجد کی صفائی کرنے کا ذمہ دار ہے، مسجد اس کے گھر سے پانچ گھنٹوں کے سفر پر ہے، دو تین ماہ کے بعد اس کو دو تین دن چھٹی ملتی ہے، لیکن اس کی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے، پانچ ہزار کا بندوبست ایک تنظیم کرتی ہے اور مسجد کے چودھری لوگ ایک ہزار روپیہ ماہانہ دے کر احسانِ عظیم کرتے ہیں اور اپنے امام کا احترام کرنا تو درکنار، اس کو اپنے ملازم کی حیثیت دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اب یہی لوگ جب مسجد کو مزین کرنے پر خرچ کریں گے تو کیا ان کے اقدام کو خدمت ِ اسلام سمجھا جائے گا؟ (فالی اللہ المشتکی) نہ میں اس نقطے کو سمجھ پا رہا ہوںاور نہ سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ بہرحال دعاگو ضرور ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خرچ کی ہوئی دولت قبول فرمائے اور ان کو مزید خلوص سے نواز دے۔
حدیث نمبر: 1366
عَنِ الْخَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ فِي ثَوْبِهِ فَلْيَصُرَّهَا وَلَا يُلْقِهَا فِي الْمَسْجِدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حضرمی بن لاحق ایک انصاری آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کپڑے میں جوں محسوس کرے تو وہ اسے دبا لے اور مسجد میں نہ پھینکے۔
حدیث نمبر: 1367
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ كُرْزٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِي ثَوْبِهِ قَمْلَةً فَأَخَذَهَا لِيَطْرَحَهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَفْعَلْ، اِرْدُدْهَا فِي ثَوْبِكَ حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طلحہ بن عبید اللہ بن کرز، مکہ مکرمہ کے ایک قریشی شیخ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں محسوس کی اور وہ اسے مسجد میں پھینکنے لگا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ایسا نہ کر، مسجد سے نکلنے تک اسے اپنے کپڑے میں ہی رکھ۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث مبارکہ کا متن ہی مسئلہ سمجھانے کے لیے کافی ہے، لوگوں کو مساجد کے ساتھ اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 1368
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ)) ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: ((إِنَّ هَٰذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ)) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: ((قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوِ مِنْ مَاءٍ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ)) فَأَتَاهُ بِدَلْوِ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت ایک بدو آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ آپ کے صحابہ کہنے لگے: ٹھہر جا ٹھہرجا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو، اسے چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ مساجد گندگی، پیشاب اور پائخانہ میں سے کسی چیز کے لیے درست نہیں،یہ تو صرف نماز، اللہ کے ذکر اور تلاوت ِ قرآن کے لیے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا: اٹھ اور پانی کا ایک ڈول لا کر اس پر بہا دے۔ پس اس نے پانی کا ڈول لا کر اس پر ڈال دیا۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منفی اور مثبت اندازمیں مساجد کے آداب و مقاصد کی وضاحت کر دی ہے۔ یہ حدیث کئی اسباق و احکام پر مشتمل ہے: جاہل لوگوں کے ساتھ معاملہ بالعموم اور بالخصوص دین کی تعلیم میں ہمدردی کا ہونا چاہیے۔ مبلغ اور خطیب لوگوں کے لیے اس حدیث میں بہت بڑا سبق بیان کیا گیا ہے، انھیں سمجھنا چاہیے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے کہ مجرم کی اصلاح ہو جائے، موقع پر یہ فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ فلاں شخص کے لیے نرم رویہ مفید رہے گا یا سخت رویہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی اور رأفت و شفقت سے متصف تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیدانائی تھی کہ مسجد میں پیشاب کرنے والے بدّو کو دورانِ پیشاب اٹھایا جائے نہ اسے جھڑکا جائے، بصورتِ دیگر بڑی خرابی کا امکان پیدا ہو سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کردار سے معلوم ہوا کہ ضروری نہیں کہ برائی کو روکنے کے لیے غیظ و غضب اور ڈانٹ ڈپٹ کا ماحول ہی پیدا کر دیاجائے، بلکہ حالات و واقعات کو دیکھ کر مصلِح کوئی نرم یا سخت رویہ اختیار کر سکتا ہے، بہرحال اقدام جو بھی ہو، نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ بڑے فساد سے بچنے کے لیے چھوٹے فساد کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تفصیلیہ ہے کہ مسجد میں پیشاب کرنا واضح طور پر فساد ہے، لیکن ایسا کرنے والے کو فوراً اس کے کیے سے روکنا بڑی خرابی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ پیشاب روکنے کی وجہ سے اسے تکلیف ہو یا وہ اس چیز کو محسوس کر کے ایمان سے دور ہو جائے یا اس کا پیشاب نکلتا رہنے کی وجہ سے مسجد کا مزید حصہ متاثر ہو جائے۔ نتیجتاً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوٹے فساد کی پروا نہ کی۔ ایک فقہی اصطلاح اَخَفُّ الْمَفْسَدَتَیْن (دو فسادوں میں سے ہلکا فساد) کا یہی معنی و مفہوم ہے۔
مسجدکو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں: ۱۔ نجاست پر پانی بہا دینا: اس طریقے سے اول تو نجاست کے اثرات زمین میں جذب ہو جائیں گے، اگر بچ گئے تو ہوا، سورج کی روشنی، لوگوں کے چلنے پھرنے اور مٹی کی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔ بہرحال یہ ایک شرعی رخصت ہے، جسے بلا چون و چرا قبول کیا جانا چاہیے۔
۲۔ زمین کا خشک ہو جانا اور نجاست کے اثرات ختم ہو جانا: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نوجوان آدمی تھا، لیکن ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں دیکھتا تھا کہ کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب بھی کر دیتے تھے، مگر وہ (صحابہ) اس پر کوئی پانی نہ چھڑکتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۷۴، ابو داود: ۳۸۲، واللفظ لہ، امام ابوداود نے اس حدیث پر ((فی طھور الارض اذا یبست۔)) جب زمیں خشک ہو جائے تو اس کے پاک ہونے کا بیان کا باب ثبت کیا ہے۔)
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر زمین پر پڑنے والی نجاست سورج کی روشنییا ہوا کی وجہ سے خشک ہو جائے اور اس کے اثرات ختم ہو جائیں تو اسے پاک سمجھا جائے گا، پانی نہ چھڑکنے کا یہی مفہوم ہو سکتا ہے۔ (عون المعبود: ۱ / ۲۱۷) جس حدیث میں زمین کے متاثرہ حصے کی مٹی کو اٹھا لینے کا ذکر ہے، وہ انقطاع و ارسال کی وجہ سے متکلم فیہ ہے، جیسا کہ نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲ میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر مٹی کو اٹھا لینا ہی کافی ہوتا تو اس پر پانی بہانا بے سود ہوتا۔ واللہ اعلم بالصواب
مسجدکو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں: ۱۔ نجاست پر پانی بہا دینا: اس طریقے سے اول تو نجاست کے اثرات زمین میں جذب ہو جائیں گے، اگر بچ گئے تو ہوا، سورج کی روشنی، لوگوں کے چلنے پھرنے اور مٹی کی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔ بہرحال یہ ایک شرعی رخصت ہے، جسے بلا چون و چرا قبول کیا جانا چاہیے۔
۲۔ زمین کا خشک ہو جانا اور نجاست کے اثرات ختم ہو جانا: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نوجوان آدمی تھا، لیکن ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں دیکھتا تھا کہ کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب بھی کر دیتے تھے، مگر وہ (صحابہ) اس پر کوئی پانی نہ چھڑکتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۷۴، ابو داود: ۳۸۲، واللفظ لہ، امام ابوداود نے اس حدیث پر ((فی طھور الارض اذا یبست۔)) جب زمیں خشک ہو جائے تو اس کے پاک ہونے کا بیان کا باب ثبت کیا ہے۔)
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر زمین پر پڑنے والی نجاست سورج کی روشنییا ہوا کی وجہ سے خشک ہو جائے اور اس کے اثرات ختم ہو جائیں تو اسے پاک سمجھا جائے گا، پانی نہ چھڑکنے کا یہی مفہوم ہو سکتا ہے۔ (عون المعبود: ۱ / ۲۱۷) جس حدیث میں زمین کے متاثرہ حصے کی مٹی کو اٹھا لینے کا ذکر ہے، وہ انقطاع و ارسال کی وجہ سے متکلم فیہ ہے، جیسا کہ نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲ میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر مٹی کو اٹھا لینا ہی کافی ہوتا تو اس پر پانی بہانا بے سود ہوتا۔ واللہ اعلم بالصواب