کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
حدیث نمبر: 1352
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةٍ لَهُ: ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، هَٰذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَقَدْ كُنْتُ أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهَا مِنَ الرَّجُلِ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ فَيُخْرَجُ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الْبَقِيعَ، فَمَنْ أَكَلَهَا فَلَا بُدَّ، فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: لوگو! تم دو درخت تھوم اور پیاز کھاتے ہو، میں تو انہیں خبیث (مکروہ) ہی سمجھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا تھا، جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو محسوس کرتے تو اس کے متعلق ایسا حکم دیتے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے مسجدسے باہر نکال دیا جاتا تھا،یہاں تک کہ اسے بقیع مقام پر لایا جاتا۔ اگر کسی شخص نے ان کو کھانا ہی ہے تو پکا کر (ان کی بو کو) ختم کر لیا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 567، 1617 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 186»
حدیث نمبر: 1353
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ درخت (پیازیا لہسن ) کھالے وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں(یعنی مسجدوں) میں نہ آئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 853، مسلم: 561 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4715»
حدیث نمبر: 1354
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يُؤْذِيَنَّا فِي مَسْجِدِنَا)) وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: ((فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت یعنی تھوم سے کچھ کھا لیا تو وہ ہماری مسجد میں آکر ہرگز ہمیں تکلیف نہ دے۔ ایک دوسرے مقام میں فرمایا: ایسا شخص نہ ہماری مسجدکے قریب آئے اور نہ تھوم کی بو سے ہمیں اذیت پہنچائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 563 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7599»
حدیث نمبر: 1355
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْبَقَلَةِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا وَنَاسٌ جِيَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ، فَقَالَ: ((مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ)) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ وَلَكِنْهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1355
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 565 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11084، 11583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11604»
حدیث نمبر: 1356
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ قَالَ: فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تھوم یا پیاز کھا لے تو وہ ہم سے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه أخرجه البخاري: 855، 5452، ومسلم: 564 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15373»
حدیث نمبر: 1357
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ فَلَمَّا صَلَّى قُمْتُ أَقْضِي فَوَجَدَ رِيحَ الثُّومِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَكَلَ هَٰذِهِ الْبَقْلَةَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا)) قَالَ: فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي عُذْرًا، نَاوَلْنِي يَدَكَ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ وَاللَّهِ سَهْلًا، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ فَأَدْخَلَهَا فِي كُمِّي إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا فَقَالَ: ((إِنَّ لَكَ عُذْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھا کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھ چکے تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں ایک رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوم کی بو محسوس کی اور فرمایا: جو شخص یہ سبزی کھائے تو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا عذر ہے، اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے آپ کو نرم پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ دے دیا، پھر اسے میری آستین میں سے داخل کر کے سینے تک پہنچایا اور میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی محسوس کر کے فرمایا: واقعی تیرا عذر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام روایات اپنے مفہوم میں انتہائی واضح ہیں اور ان سے کیا جانے والا استدلال بھی انتہائی بیّن ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ موجودہ دور میں انسان کی خواہشات، چاہتیں اور زبان کے چسقے اس کے مذہب پر غالب آ گئے ہیں، ہمارے ہاں کھانے کے ساتھ پیاز اور مولی وغیرہ بطور سلاد استعمال کئے جاتے ہیں۔ روکنے ٹوکنے کے باوجود کھانے والوں کی توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کی طرف جھکاؤ ہی اختیار نہیں کرتی اور بعض احباب وقت کو ٹالنے کے لیے اتنا تو کہہ دیتے ہیں کہ پیاز وغیرہ کے بعد چینییا گڑ وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بدبو ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ خود یہ نسخہ استعمال کئے بغیر مساجد کی طرف چل دیتے ہیں۔
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی اذاں رہ گئی مگر روحِ بلالی نہ رہی
اس بے توجہی کا مطلب یہ ہوا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیںیا فرشتوں کی قربت سے دور رہنا چاہتے یا ان کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْمُنْتِنَۃِ فَـلَایَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذّٰی مِمَّا یَتَأَذّٰی مِنْہُ الْاِنْسُ۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یعنی: جو آدمی اس بدبودار درخت کا پھل (پیاز) کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، جس سے انسان کرتے ہیں۔ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب وہ کسی آدمی سے پیاز اور لہسن کی بو محسوس کرتے تو اسے بقیع کی طرف نکل جانے کا حکم دے دیتے۔ (مسلم: ۵۶۷) آخر کیا وجہ ہے کہ اس قسم کی وعیدوں کے باوجود ہم ان احادیث کے مفاہیم پر غور نہیں کرتے اور اپنی طبیعت اور زبان کے چسقے کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ کیا کچا پیاز وغیرہ کھانے والے آدمی کے لیےیہ وعید کافی نہیں ہے کہ اگر مسجد نبوی ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہوتے تو اسے مسجد نبوی سے باہر نکال دیا جاتا؟ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((نَھٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الثُّوْمِ وَالْبَصَلِ وَالْکُرَاثِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لہسن، پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ (مسند طیالسی: ۲۱۷۱، صحیحہ:۲۳۸۹)
گندنا: … ایک بدبودار قسم کی ترکاری جو پیاز کے مشابہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اگر ان بدبودار چیزوں کو پکا کر ان کی بدبو ختم کر دی جائے تو ان کا کھانا جائز ہو گا۔ممکن ہے کہ اس ضمن میں ہم درج ذیل حدیث سے سبق حاصل کر لیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّی أَتَاہُ الْمَلَکُ فَقَامَ خَلْفَہٗیَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَیَدْنُوْ فَلا یَزَالُیَسْتَمِعُ وَیَدْنُوْ حَتّٰییَضَعَ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ فَـلَا یَقْرَأُ آیَۃً إِلاَّ کَانَتْ فِی جَوْفِ الْمَلَکِ۔)) یعنی: جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے پیچھے کھڑے ہو کر قرآن مجید سنتا اورقریب ہوتا رہتا ہے، وہ قرآن مجید سنتے سنتے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور نمازی جو آیت بھی پڑتا ہے فرشتہ اسے اپنے اندر سما لیتا ہے۔ (سنن بیہقی: ۱/ ۳۸، مسند بزار: ص ۶۰، صحیحہ: ۱۲۱۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، غير ان الدارقطني قد رجح ارساله، وقال الألباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود:3826، وابن ابي شيبة: 2/ 510، وابن حبان: 2095، وابن خزيمة: 1672 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18176، 18205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18392»