حدیث نمبر: 1340
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ أَنْ تُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں کھنکارپھینکے تو وہ اسے چھپا دیا کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مومن کے جسم یا کپڑے پر لگ جائے اور اس طرح اسے تکلیف ہو۔
حدیث نمبر: 1341
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَى فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ((إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ)) ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَكَّهُ ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَحَضَبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجدمیں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی سمت میں ایک کھنکار نظر آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجا ت کرتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طر ف اور نہ ہی اپنی دائیں طر ف کھنکار پھینکا کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اسے کھرچ دیا اور خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔
حدیث نمبر: 1342
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَدْفِنْهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں تھوکے تو اسے دفن کردیا کرے ، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تواپنے کپڑے میں تھوکا کرے۔
حدیث نمبر: 1343
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: ((لْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں ایک کھنکار دیکھااور اسے کنکری سے کھرچ دیا، پھر آدمی کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوکا کرے۔
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ وَاحِدٌ مِنْهَا فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضِبًا فَقَالَ: ((أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَٰكَذَا)) وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ وَتَفَلَ يَحْيَى فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ میں کھجور کی ٹہنیاں رکھنا پسند تھا، ایک دن آپ کے ہاتھ میں یہی ایک ٹہنی تھی کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں کچھ کھنکار دیکھ کر انہیں کھرچا حتی کہ انہیں صاف کر دیا، پھر غصہ کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: کیا تم سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی آدمی آئے اوراس کے چہرے پہ تھوک دے؟ (غور کرو کہ) جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ربّ اس کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب، (اس لیے) وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ وہ اپنے بائیں قدم کے نیچےیا اپنی بائیں طرف تھوکے، اگر اس کو کوئی جلدی پڑ جائے تو وہ اس طرح کرلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے کے بعض حصے کو بعض پر مل دیا۔ اور راویٔ حدیث یحییٰ نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دیا۔
حدیث نمبر: 1345
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 1346
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرے۔ ابن جعفر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے اور اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک لے۔
حدیث نمبر: 1347
عَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَدَفْنُهَا حَسَنَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو امامۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا برائی ہے اور اسے دفن کرنا نیکی ہے۔
حدیث نمبر: 1348
عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَسَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: ((لَا يُصَلِّي لَكُمْ)) فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((نَعَمْ)) وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: ((آذَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سعد کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا وا ثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو مسجد ِدمشق میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک کر اسے قدم کیساتھ رگڑ دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو کر مسجد میں تھوک رہے ہیں؟ تو سیّدنا وا ثلہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 1349
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنَةٍ وَسَيِّئَةٍ، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میں جب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت میں ہے: ((اِنَّکَ قَدْ آذَیْتَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ)) تونےاللہاوراسکےرسولکوتکلیف دی ہے۔ یہ بہت بڑی ڈانٹ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس آدمی نے ایسا کام کیا جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند نہیں کرتا ہے۔امامت و خطابت جیسی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے اور اپنے منصب کی قدر کرتے ہوئے تمام آلائشوں سے باز رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 1350
عَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: هَٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت مجھ پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور برے اعمال میں مسجد میں غیر مدفون کھنکاردیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 1351
عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، وَإِلَّا فَتَحْتَ قَدَمَيْكَ وَادْلُكْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا طارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو اپنے آگے اور دائیں طرف نہ تھوک، البتہ اپنی بائیں جانب تھوک لیا کر، بشرطیکہ وہ خالی ہو (یعنی اس طرف کوئی نمازی نماز نہ پڑھ رہا ہو)، وگرنہ اپنا قدم اٹھا اور (اس کے نیچے تھوک کر) اسے مل دے۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا احادیث مین یہ صراحت کردی گئی ہے کہ مسجد میں تھوکنا غلطی ہے، اگر تھوکنا پڑ جائے تو درج ذیل آداب کو مد نظر رکھا جائے: ٭ قبلہ سمت میں نہیں تھوکنا
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب