کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1325
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيبَةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الشَّاسِعَةِ كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے قریبی کی دور والے گھر پر ایسے ہی فضیلت ہے جیسے غزوہ کرنے والے کی بیٹھ رہنے والے پر فضیلت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کئی احادیث میں مسجد کی طرف چلنے اور مسجد سے دور گھر والے نمازی کی مختلف انداز میں فضیلت بیان کی گئی ہے، بہرحال قریبی گھر والے لوگ مساجد سے زیادہ فیضیاب ہوتے ہیں، وہ بیماری، بارش اور کسی معقول عذر کے باوجود مسجد میں پہنچ سکتے ہیں اور ان کا زیادہ وقت اللہ کے گھروں میں گزر سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
حدیث نمبر: 1326
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاءُهُمْ إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ، وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ)) وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَخٌ مُسْتَفَادٌ أَوْ كَلِمَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ رَحْمَةٌ مُنْتَظَرَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ میخوں کی طرح مسجدوں میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کے ہم مجلس فرشتے ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو وہ ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اگر وہ کسی کام میں مصروف ہوں تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین خصلتوں پر ہوتا ہے: ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل ہو، یا کوئی محکم بات یا ایسی رحمت جس کا انتظار ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کی وجہ یہ ہے کہ مسجد اسلامی بھائیوں کی گزرگاہ ہوتی ہے اور شرعی علوم کے ذکر اور رحمت کے نزول کا محل ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص مسجد میں بیٹھنے کا التزام کرتا ہے، تو وہاں سے گزرنے والے اس سے مستفید ہوتے ہیں، پھر تعلیم و تعلّم اور افتاء و استفتاء کے بہانے حکمت بھری باتیں ہوتی ہیں۔ نوری مخلوق بھی خاکی مخلوق کی خادم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی جائے۔ اس سے بڑھ کر کیا کہا جائے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، مومنوں کی سجدہ گاہ ہے، وہ کتنی مبارک و مقدس جگہ ہو گی، جہاں برس ہا برس سے اللہ تعالیٰ کی تہلیلات، تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جہاں سالہا سال سے اس کے کلام پاک کی کثرت سے تلاوتیں کی جا رہی ہیں، شیطانوں سے بچنے کے لیے مضبوط قلعہ مسجد ہے۔ جو مسجد سے محبت کرے گا، جو مسجد کو آباد کرنے میں حصہ ڈالے گا، جس کو وہاں سکون نصیب ہو گا، وہ کتنا سعادت مند اور خوش نصیب ہو گا۔
لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی مین یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے …
اس کے خام دماغ نے فیصلہ کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات کو پرکھیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ … وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِاِذَاخَرَجَمِنْہُحَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی: اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی ہم سے شکوہ کناں ہوں۔
لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی مین یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے …
اس کے خام دماغ نے فیصلہ کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات کو پرکھیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ … وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِاِذَاخَرَجَمِنْہُحَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی: اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی ہم سے شکوہ کناں ہوں۔
حدیث نمبر: 1327
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَا يُوْطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ يَعْنِي حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان آدمی نماز اور ذکر کے لیے مساجد کو اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا مگر جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسا کہ غائب آدمی کے گھر والے اس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ بندہ اپنے فائدے کے لیے مسجد کا رخ کرتا ہے، لیکن اس کی آمد پر اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1328
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ نُزُلًا كُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا : جو شخص مسجد کی طرف آتا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے میزبانی (کا سامان) تیار کرتے ہیں، جب بھی وہ آتا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اصل میں صبح کے وقت جانے کے غَدَا اور زوال کے بعد جانے کو رَاحَ کہتے ہیں، لیکن بعد میں ان کے معانی میں وسعت پیدا کر دی گئی اور ان کا اطلاق ہر جانے اور آنے پر ہونے لگا۔ اور اس حدیث کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد مسجد کی طرف جانا اور پھر واپس آنا ہے۔ لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ گھر میں آنے والے کی ضیافت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا گھر مسجد ہے، جو اس میں رات اور دن کی کسی گھڑی میں داخل ہو گا، اللہ تعالیٰ جنت کی صورت میں اس کی میزبانی کرے گا، وہ اکرم الاکرمین ہے اور نیکوکاروں کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ جو آدمی ہر نماز پر حاضر ہوتا ہے، اس کی میزبانی کتنی اعلی ہو گی۔
حدیث نمبر: 1329
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو مسجد میں آنے جانے کا عادی ہے تو اس پر ایمان کے شاہدبن جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اللہ کی مسا جد کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آ خرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ وَآتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ} (سورۂ توبہ: ۱۸) یعنی: اللہ کی مسجدوں کی رونق کو آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقینا ہدایتیافتہ ہیں۔ مساجد کی انتظامیہ، ائمہ، خطباء اور خُدام کو اپنے منصب پر غور کرنا چاہیے اور مسجد کی آبادی کو اپنی سعادت سمجھ کر عجز و انکساری کے ساتھ اس تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ حَابِسُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّحَرِ وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى النَّاسَ يُصَلُّونَ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مُرَاوِيُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! أَرْعِبُوهُمْ فَمَنْ أَرْعَبَهُمْ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَأَتَاهُمُ النَّاسُ فَأَخْرَجُوهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُصَلُّونَ مِنَ السَّحَرِ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن عامر ألھانی کہتے ہیں: سیّدنا حابس بن سعید طائی رضی اللہ عنہ ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصہ میں نماز پڑھ رہے ہیں،یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ ریاکار ہیں، انہیں ڈراؤ، جس نے انہیں ڈرایا، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی۔ یہ سن کر لوگ ان کے پاس گئے اور انہیں باہر نکال دیا، پھر سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصہ میں فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … شرعی نصوص سے اس قسم کی پابندی ثابت نہیں ہوتی کہ سحری کے وقت اگلی صفوں میں نماز نہ پڑھی جائے، ممکن ہے کہ سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ کو کچھ قرائن کی بنا پر یہ ظنِّ غالب ہو گیا ہو کہ واقعییہ لوگ ریاکاری کر رہے ہیں، اس لیے ان کو وہاں سے بھگا دینا مناسب سمجھا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب